بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

فاریکس ٹریڈنگ کا شرعی حکم


سوال

میں فاریکس ٹریڈنگ آن لائن کاروبار کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں۔ میں نے ایک نامور بروکر کے ساتھ ایک اکاؤنٹ کھولا ہے جو کسی بھی جعلی لین دین سے بچنے کے لیے مختلف ممالک میں ریگولیٹ ہے۔ میں نے اپنے اکاؤنٹ میں 1000 امریکی ڈالر جمع کرائے ہیں اور اپنے اکاؤنٹ میں جمع کردہ رقم کے بدلے اس  کا کرنسی جوڑا  e.1 1000 USD خریدا ہے۔نفع ہونے کی صورت جب منافع میرے اکاؤنٹ میں جمع ہوجاتے ہیں تو  میں لین دین بند کرکے اس رقم کو فوری طور پر اپنے اکاؤنٹ سےنکال سکتا ہوں،اورنقصان کی صورت میں میرے اکاؤنٹ سے رقم ڈیبٹ ہوجاتی ہے،یعنی نقصان کے تناسب سے میرے اکاؤنٹ سے مقررہ رقم خود بخود نکل جاتی ہے، میں نے کوئی مارجن استعمال نہیں کیا اور نہ ہی میں نے بروکر کو كوئی سود ادا کیاہے۔ اب مذکورہ تفصیل کے مطابق  اس لین دین کاشرعی حكم کیا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ فاریکس ٹریڈنگ کے ذریعہ   کیا جانے والاکاروبار بہت سے مفاسد پر مشتمل  ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے  اور اس میں سرمایہ  کاری شرعًا درست نہیں ، لہٰذا مسلمانوں پر اس سے احتراز لازم ہے،  ہاں اگر ان مفاسد اور خرابیوں سے اجتناب کرکے شرعی احکامات کے مطابق مذکورہ کاروبار   کیا جاۓ تو پھر یہ کاروبار بلاشبہ جائز ہوگا، صورتِ مسئولہ میں اگر چہ سائل کی جانب سے کرنسی کے لین دین کی بابت کچھ وضاحت موجود ہے، لیکن اس کے علاوہ دیگر امور سے متعلق مکمل وضاحت مذکور نہیں ہے؛   اس لیے فاریکس ٹریڈنگ کاروبار کے جواز  وعدمِ جواز سے متعلق ذیل میں تفصیلی فتوے کا لنک  ذکر کیا جارہا ہے،اس کو ملاحظہ فرمالیا جاۓ:

فاریکس ٹریڈنگ کا شرعی حکم

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144503100952

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں