بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

ڈیبٹ کارڈ اور اس پر ملنے والے ڈسکاؤنٹس کا حکم


سوال

 ۱) کیا ہم ڈیبٹ کارڈ استعمال کر سکتے ہیں؟

۲) بعض اوقات بینک ڈیبٹ کارڈ استعمال کرنے پر ڈسکاونٹ دیتا ہے جیسے ریسٹورنٹ یا خریداری پر ۲۰% ۳۰% ڈسکاونٹ ،  کیا اس ڈسکاونٹ کو استعمال کرنا جائز ہے؟ (نوٹ) کہ میرے پاس ۲ اکاؤنٹس ہیں ایک (میزان بینک) میں اور دوسرا (حبیب میٹرو بینک) میں - میرے دونوں ڈیبٹ کارڈز ہیں۔ کسی بھی اکاؤنٹ میں کوئی سودی لین دین نہیں ہے۔ میرا (کرنٹ اکاؤنٹ) دونوں بینکوں میں ہے، کیا کرنٹ اکاؤنٹ قرض کے زمرے میں آتا ہے، کیونکہ میری رائے میں کرنٹ اکاؤنٹ امانت کے زمرے میں آتا ہے، کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ قرض ، کوئی ایسی چیز جس میں آپ کسی کو استعمال کرنے کے لیے رقم دیتے ہیں لیکن کرنٹ اکاؤنٹ میں میں نے بینک کو اپنے اکاؤنٹ سے رقم استعمال کرنے کا اختیار نہیں دیا ہے۔ میرے پیسے صرف بینک میں امانت ہیں۔ جسے میں کسی بھی وقت واپس لے سکتا ہوں۔ میں (سیونگ اکاؤنٹ) میں قرض کے عنصر کو سمجھ سکتا ہوں لیکن (کرنٹ اکاؤنٹ) میں یہ صرف ایک امانت ہے۔جیسے کہ میں اپنے بھائی کو کچھ رقم امانت رکھواؤں تو وہ قرض تو نہیں ہو گا میں اپنے ڈیبٹ کارڈ پر ڈسکاونٹ (کرنٹ اکاؤنٹ سے) استعمال کر سکتا ہوں؟ براہ کرم میری رہنمائی کریں میں غلط ہو سکتا ہوں، اسلام اس کے مطابق کیا کہتا ہے؟ 

جواب

واضح رہے کہ ڈیبٹ کارڈ  بنوانا اور اس کا استعمال کرنا فی نفسہٖ جائز ہے، کیوں کہ اس کے حصول کے لیے کسی قسم کا سودی معاہدہ نہیں کیا جاتا، بلکہ جتنی رقم اکاؤنٹ ہولڈر کے اکاؤنٹ میں ہوتی ہے ، وہ  اتنی ہی استعمال کرسکتاہے۔

ڈیبٹ کارڈ پر ملنے والے ڈسکاؤنٹ کے جواز اور عدم جواز میں کچھ تفصیل ہے:

1) اگر ڈسکاؤنٹ اس ادارہ کی طرف سے دیا جارہاہو جس  ادارہ سے خریداری کی جارہی ہے، تو وہ ڈسکاؤنٹ لینا جائز ہے،  اور یہ کمپنی کی طرف سے تبرع اور استحسان ہے۔

2) ڈسکانٹ اگر بنک کی جانب سے دیا جارہا ہو تو وہ ناجائز ہے، کیوں کہ وہ اکاؤنٹ میں رکھی رقم(    جو کہ قرض کے حکم ہے )کے بدلہ دیا جاتاہے، اور قرض کے عوض ملنے والا نفع حرام ہوتا ہے۔

3) اور اگر معلوم نہ ہو کہ ڈسکانٹ دینے والا بنک ہے یا ادارہ تو اس صورت میں بچنا بہتر ہے۔

مزید تففصیل کے لیے درج ذیل لنک  ملاحظہ فرمائیں؛

ڈیبٹ کارڈ اور کریڈٹ کارڈ کا حکم!

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"آكل ‌الربا ‌وكاسب ‌الحرام أهدى إليه أو أضافه وغالب ماله حرام لا يقبل، ولا يأكل ما لم يخبره أن ذلك المال أصله حلال ورثه أو استقرضه، وإن كان غالب ماله حلالا لا بأس بقبول هديته والأكل منها، كذا في الملتقط."

(كتاب الكراهيۃ، الباب الثاني عشر في الهدايا والضيافات، ج:5، ص:343، ط:دار الفکر)

الاشباہ و النظائر:

"کل قرض جر نفعا حرام."

(ج:1، ص:226، ط:دار الکتب العلمیة)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144410100877

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں