بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

دعوت و تبلیغ کی مروجہ جماعتوں کی نقل و حرکت کو ہجرت اور نصرت سے تعبیر کرنے کا حکم


سوال

اکثر تبلیغی حضرات کہتے ہیں ہم آپ کے یہاں ہجرت کرکے  آئے ہیں آپ ہماری نصرت کریں، یہ اصطلاحات تبلیغی جماعت کے لیے بولنا شرعاً کیسا ہے؟

جواب

"نصرت"بمعنی مددکرنا شریعت میں  اس عنوان سے کوئی خاص اصطلاح  کسی مخصوص معنی کے لیے متعین و مختص نہیں ہے، لہذا تبلیغی یا دیگر حضرات کا اپنے مختلف امور کے لیے اس لفظ کے استعمال میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے،البتہ  ہجرت کا لفظ  ازروئے شرع ایک خاص اصطلاحی معنی کے لئے بولا جاتا ہے، تو اس کو معنی اصطلاحی کے علاوہ کسی اور معنیٰ( مثلاً دعوت و تبلیغ کی مروجہ نقل و حرکت)  سے تعبیر نہیں کرنا چاہیے۔

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر موجود فتوی ملاحظہ ہو۔

دعوتِ تبلیغ کے مروّجہ نقل وحرکت کو ہجرت سےتعبیر کرنے کا حکم

غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائرمیں ہے:

"وذكر الهندي في شرح المغني: العادة عبارة عما يستقر في النفوس من الأمور المتكررة المقبولة عند الطباع السليمة، وهي أنواع ثلاثة: العرفية العامة، كوضع القدم، والعرفية الخاصة: كاصطلاح كل طائفة مخصوصة، كالرفع للنحاة، والفرق والجمع والنقض للنظار. والعرفية الشرعية: كالصلاة والزكاة والحج، تركت معانيها اللغوية بمعانيها الشرعية (انتهى) ".

(الفن الثالث من الأشباه والنظائر وهو فن الجمع والفرق، ج:1، ص:296، ط:دارالکتب العربی)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144503100044

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں