بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1445ھ 23 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

کرنسی کی آن لائن ٹریڈنگ کرنے والی کمپنی میں سرمایہ کاری


سوال

کیا انٹرنیشنل آن لائن  پیپر کرنسی کا کاروبار  کرنا جائز ہے؟ اور اس سے آنے والے منافع کا اسلام میں کیا حکم ہے؟ مثال کے طور پر  پاکستانی کرنسی چینج کرکے  ڈالر  خریدتا ہوں اور ملٹی نیشنل کمپنی میں انویسمنٹ کرتا ہوں، وہ کمپنی ڈیلی بیس پر مختلف کرنسی کی خرید وفروخت کرتی ہے، اس سے جو پروفٹ آتا ہے وہ ڈالر میں آتا ہے، اگر ہم یورو میں انویسٹ کریں گے تو منافع یورو میں ہی آئے گا، اس میں کرنسی کے ریٹ اوپر نیچے ہوتے ہیں، اگر ہم اپنا منافع نکالتے وقت اگر ریٹ جو بھی ہوں گے، اسی ریٹ پر منافع ملے گا، ہم نے جس ریٹ پر انویسٹ کی ہوگی اس پر ریٹ پر نہیں ملے گا، اس کا کیا حکم ہے؟  یہ ملٹی نیشنل کمپنی  "stoc sons" کے نام سے ہے؟

 

جواب

کرنسی کی خرید وفروخت شرعا  "بیعِ صرف"  کہلاتی ہے، جس  میں بدلین (خریدی ہوئی کرنسی اور بیچی جانے والی کرنسی) پر مجلس میں قبضہ ضروری ہے،  دونوں جانب سے یا کسی ایک جانب سے ادھار ناجائز ہے، لہذا کرنسی کی آن لائن ٹریڈنگ  جس میں کرنسی کی خرید و فروخت ادھار ہوتی ہے  یا نقد ہوتی ہے، مگر عقد کے دونوں فریق  یا کوئی ایک فریق اپنے حق پر قبضہ نہیں کرتا، ایسے سودے فاسد ہیں اور ان کا نفع حلال نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

نیز مذکورہ کمپنی میں شرعی حساب سے اور بھی کئی خرابیاں موجود ہیں، جن میں سے بعض کی تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر جامعہ کا فتوی ملاحظہ کیا جائے:

اسٹاک سنز کمپنی کے ساتھ کام کرنا


فتوی نمبر : 144204200032

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں