بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو القعدة 1445ھ 18 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

کمپنی کا ملازمین کو بونس دینا اور اس پر انٹرسٹ کی رقم دینے کا حکم


سوال

کمپنی رمضان میں پانچ فی صد بونس کی رقم دیتی ہے اور کچھ عرصہ بعد اسی بونس کا انٹرسٹ دیتی ہے ، تو انٹرسٹ کی رقم استعمال کرنا جائز ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں بونس پر سود کے نام سے    کمپنی جو رقم دیتی ہے وہ رقم اگر کمپنی اپنے پاس سے دیتی ہے تو وہ سود نہیں ہے ، اس رقم کو لینا  جائز ہے اور اگر کمپنی بونس کی رقم  بینک میں جمع کراتی ہے اور پھر بینک سے جو سود ملتا ہے وہ سود کہہ کر  دیتی ہے تو پھر اس رقم کو لینا جائز نہیں ہے ۔

مزید دیکھیے:

کمپنی بینک سے سودی رقم لے کر شراکت داروں کو دینے کے بارے میں شرعی حکم

  ارشادِ باری تعالٰی ہے :

"﴿ أَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾." (البقرة:275)

ترجمہ:” حالانکہ اللہ  تعالیٰ نے بیع کو حلال فرمایا ہے اور سود کو حرام کردیا ہے ۔“

"﴿فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ﴾ ."(البقرة:278)

ترجمہ:”پھر اگر تم نہ کروگے تو اشتہار سن لو جنگ کا اللہ کی طرف سے اور اس کے رسول کی طرف سے ۔“

"﴿يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ﴾." (البقرة:276)

ترجمہ: ” اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتے ہیں اور صدقات کو بڑھاتے ہیں۔“

صحیح مسلم  میں ہے:

"عن جابر بن عبدالله رضی الله تعالیٰ عنه قال: لعن رسول الله صلی الله علیه وسلم آکل الرّبا وموکله وکاتبه وشاهدیه، وقال: هم سواء."

(كتاب البیوع، باب لعن آکل الرّبا وموکله، رقم الحدیث:1598، ج:5، ص:50، ط:دارالمنھاج)

"المبسوط للسرخسي" میں ہے:

"بين ‌شدة ‌الحرمة ‌في ‌الربا ‌بقوله: ‌الآخذ ‌والمعطي ‌والكاتب ‌والشاهد ‌فيه ‌سواء ‌أي ‌في ‌المأثم....والأصل في الكل قوله {وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ} [المائدة: 2]."

(كتاب الصرف، ج:14، ص:8، ط:دار المعرفة بيروت)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وفي الأشباه ‌كل ‌قرض ‌جر ‌نفعا حرام."

(‌‌‌‌كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية، فصل في القرض، مطلب كل قرض جر نفعا حرام، ج:5، ص:166، ط:سعید)

"درر الحکام في شرح مجلة الأحكام" میں ہے:

"كل ‌يتصرف ‌في ‌ملكه ‌المستقل ‌كيفما ‌شاء أي أنه يتصرف كما يريد باختياره أي لا يجوز منعه من التصرف من قبل أي أحد هذا إذا لم يكن في ذلك ضرر فاحش للغير[انظر المادة:1197]، كما أنه لا يجبر من أحد على التصرف أي لا يؤمر أحد من آخر بأن يقال له: أعمر ملكك وأصلحه ولا تخربه ما لم تكن ضرورة للإجبار على التصرف كما ذكر في المواد (1317 و 1318 و 131 و 1320)."

(‌‌الكتاب العاشر الشركات، الباب الثالث، الفصل الأول، ج:3، ص:201، ط:دار الجيل)

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144411100439

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں