بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ذو الحجة 1445ھ 12 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

بروکر کا زائد قیمت پر فروخت کرنا


سوال

میرا ایک پلاٹ تھا اس کو بیچنا چاہا توایک ڈیلر سے بات چیت چلتی رہی، ایک دن ایجنٹ نے کہا کہ آپ کا پلاٹ  40  لاکھ میں بک رہا ہے اگر آپ بیچنا چاہیں، میں نے اس کو ہاں کردی، اس نے وہ پلاٹ کسی کو دے دیا اور مجھ سے کمیشن بھی لے لیا  اس  40  لاکھ کا،  بعد میں جب میں بیان دینے کے  لیے گیا تو خریدار میراواقف نکلا، میں نے اس سے پوچھ لیا کہ آپ نے کتنے کا خریدا ہے ۔تواس نے بتایا 42 لاکھ کا لیا ہے،  جس پر مجھے حیرت ہوئی، اب آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ کیا ایجنٹ کے  لیے 2لاکھ حلال ہیں اور میرے  لیے ان 2 لاکھ کا مطالبہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں بروکر کا  42  لاکھ کا فروخت کرکے 2 لاکھ کا کمیشن اٹھانا جسے  بازاری اصطلاح کے مطابق ٹاپ مارنا کہتے ہیں،  شرعًا جائز  نہیں، اور نہ ہی  اس کے  لیے دو لاکھ اپنے پاس رکھنا جائز ہوگا، ان دو لاکھ کا حق دار زمین فروخت کرنے والا ہوگا۔

مزید تفصیل کے  لیے دیکھیے:

پراپرٹی ڈیلر کے ٹاپ مارنے کا حکم

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144207201215

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں