بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ذو الحجة 1445ھ 12 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

بیوی سے بدفعلی سے نکاح کا حکم


سوال

کوئی اگر اپنی بیوی کے ساتھ ہم بستری کرے دبر کی طرف سے، اس حالت میں نکاح ٹوٹتا ہے؟

جواب

اپنی بیوی کے ساتھ غیر فطری طریقے ( یعنی پیچھے کے راستے )  سے ہم بستری کرنا  شرعاً ناجائز اور  حرام ہے،  حدیث شریف  میں رسول اللہ  ﷺ   نے  بیوی کے  ساتھ   پیچھے  کے  راستے  سے  ہم بستری کرنے  سے منع فرمایا ہے، اور ایسا فعل کرنے والے پر حدیث میں لعنت وارد ہوئی ہے،  اس سے نکاح تو نہیں ٹوٹے گا، لیکن یہ فعل شرعًا و عرفًا انتہائی  قبیح اور شرم ناک  ہے اور اس کا مرتکب  سخت گناہ گار ہے۔ اگر کسی سے یہ گناہ سرزد ہوجائے تو  اس پر  لازم ہے کہ سچے دل سے توبہ کر کے آئندہ ایسا نہ کرنے کا عزم کرے، اگر توبہ کر لے گا تو امید ہے کہ اللہ تعالی معاف فر دیں گے۔

مزید تفصیل کے لیے  درج ذیل لنک پر جامعہ کا فتویٰ ملاحظہ فرمائیں:

بیوی سے پیچھے کے راستے ہم بستری کا حکم

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144210200504

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں