بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

بیوی سے پیچھے کے راستے ہم بستری کا حکم


سوال

کیا بیوی کی لذت کے لیے اس کی پشت میں جماع کیا جا سکتا ہے؟ کیا میاں بیوی باہمی رضا مندی سے لواطت کر سکتے ہیں؟ 

جواب

ہم بستری کے اصل محل کو چھوڑ کر پچھلے راستہ میں دخول کرنا از روئے شرع حرام ہے، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کو ملعون قرار دیا ہے، جیسا کہ سنن ابی داؤد میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے:

"عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ملعون من أتى امرأته في دبرها. رواه أبو داود. و في صحیح الجامع". (رقم:٥٨٨٩)

سنن ابی داؤد کی دوسری روایت میں ایسے شخص کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت سے بری قرار دیا ہے:

"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من أتى كاهناً فصدقه بما يقول، أو أتى امرأته حائضاً، أوأتى امرأته في دبرها، فقد برئ مما أنزل الله على محمد صلى الله عليه وسلم. رواه أبو داود".

مشكاة المصابيح میں ہے:

"عن أبي هريرة - رضي الله عنه - قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " من أتى حائضاً، أو امرأةً في دبرها فقد كفر بما أنزل على محمد صلى الله عليه وسلم". (مشکاة :٥٥١)

 یعنی اس قبیح عمل کو حلال سمجھ کر کرنا کفر ہے، اور حرام سمجھ کر کرنا حلال طریقہ سے تسکینِ شہوت کی نعمت کی نا شکری اور کبیرہ گناہ ہے۔

جیسا کہ فیض القدیر میں ہے:

"قال المناوي في شرح هذا الحديث: المراد أن من فعل هذه المذكورات واستحلها فقد كفر، ومن لم يستحلها فهو كافرالنعمة على ما مر غير مرة، وليس المراد حقيقة الكفر". (فيض القدير)

جامع ترمذی سنن نسائی مسند احمد کی روایت میں ایسے شخص کے بارے میں ہے کہ اللہ رب العزت اس پر رحمت کی نگاہ نہیں فرماتا۔

"قال رسول الله صلي الله عليه وسلم: لاينظر الله إلى رجل أتى رجلاً أو امرأةً في دبرها. رواه الترمذي والنسائي بإسناد صحيح وأحمد رحمة الله عليهم".

صحیح الجامع میں ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بے شک اللہ حق بتلانے سے نہیں شرماتا، بے شک اللہ حق بتلانے سے نہیں شرماتا، عورتوں کے پاس پیچھے کے راستہ سے نہ آؤ.

 "عن خزيمة بن ثابت - رضي الله عنه - قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " إن الله لا يستحيي من الحق، إن الله لا يستحيي من الحق، إن الله لا يستحيي من الحق، لاتأتوا النساء في أدبارهن". (رقم: ٩٣٣)

الجامع لمعمر بن راشد (٢٠٩٥٣)میں ہے کہ حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو پیچھے کے راستہ سے اپنی بیوی سے تسکینِ شہوت کرتا ہو تو انہوں نے جواباً فرمایا کہ یہ تو کفر کے بارے میں مجھ سے سوال کرتا ہے؟

"عن طاوس قال: سئل ابن عباس - رضي الله عنهما - عن الذي يأتي امرأته في دبرها، فقال: هذا يسألني عن الكفر".

لہذا پیچھے کے راستہ سے ہم بستری کرنا حرام ہے اور اللہ کی رحمت سے دوری اور لعنت کے حق دار ہونے کا سبب ہے، اور حلال سمجھ کر کرنا کفر ہے، اگرچہ بیوی کی رضامندی یا چاہت ہی کیوں نہ ہو، لہذا تسکینِ شہوت کے حصول کے لیے حلال اور فطری راستہ اختیار کرنا سائل پر لازم ہے، پس اگر ایسا قبیح کسی سے سرزد ہو گیا ہو تو فوری طور پر توبہ و استغفار کرنا ضروری ہوگا۔ گو نفسِ اس فعل سے نکاح نہیں ٹوٹے گا، لیکن اگر کوئی شخص اس شنیع فعل سے باز نہ آئے تو اس کی بیوی اس سے جدائی حاصل کرنے میں حق بجانب ہوگی۔

البتہ اگر سائل کی مراد "پشت میں جماع کرنے سے"  پیچھے کے راستے سے  آگے دخول کرنا ہے، تو اس کی اجازت ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144110200302

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں