بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 ربیع الاول 1444ھ 28 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

بے قابو جانور کو قربانی کے وقت گولی ماری جس سے اس کی آنکھ پھوٹ گئی اس کی قربانی کا حکم


سوال

قربانی کا جانور بے قابو ہوگیا تھا، قابو کرنے کے لیے  گولی ماردی، جس سے اس کی آنکھ چلی گئی، قابو پانے کے بعد جانور کو ذبح کیا، آیا یہ قربانی ٹھیک ہوئی؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں بے قابو جانور کو ذبح کرتے وقت گولی مارنا جائز ہے، گولی کی وجہ سے جانور میں جو عیب پیدا ہوا ہو وہ شرعًا قربانی درست ہونے سے مانع نہیں، البتہ جانور کے حلال ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی موت واقع ہونے سے قبل اسے  اللہ کا نام لے کر ذبح کردیا گیا ہو ، پس اگر ذبح سے قبل اس کی موت واقع ہوگئی ہو تو اس کا گوشت حلال نہ ہوگا۔

بے قابو جانور کو گولی مارکر قربانی کرنا

رد المحتار على الدر المختار میں ہے:

"(وكفى) (جرح نعم) كبقر وغنم (توحش) فيجرح كصيد (أو تعذر ذبحه) كأن تردى في بئر أو ند أو صال، حتى لو قتله المصول عليه مريدا ذكاته حل.

و في الرد:

(قوله: و كفى جرح نعم إلخ) النعم بفتحتين وقد يسكن قهستاني. قال في الهداية: أطلق فيما توحش من النعم. وعن محمد أن الشاة إذا ندت في الصحراء فذكاتها العقر، وإن ندت في المصر لاتحل بالعقر لأنها لاتدفع عن نفسها فيمكن أخذها في المصر فلا عجز، والمصر وغيره سواء في البقر والبعير لأنهما يدفعان عن أنفسهما فلا يقدر على أخذهما وإن ندا في المصر اهـ. وبهذا التفصيل جزم في الجوهرة والدرر، وهو مقتضى التعليل في ذكاة الاضطرار.

(قوله: توحش) أي صار وحشيًا و متنفرًا و لم يمكن ذبحه، قهستاني (قوله: فيخرج كصيد) فإن أصاب قرنه أو ظلفه، إن أدمى حل وإلا فلا، أتقاني (قوله: أو تعذر ذبحه) أعم مما قبله وفي الشرنبلالية عن منية المفتي: بعير أو ثور ند في المصر، إن علم صاحبه أنه لا يقدر على أخذه إلا أن يجتمع جماعة كثيرة فله أن يرميه اهـ فلم يشترط التعذر بل التعسر اهـ (قوله: كأن تردى في بئر) أي سقط وعلم موته بالجرح أو أشكل، لأن الظاهر أن الموت منه، و إن علم أنه لم يمت من الجرح لم يؤكل، و كذا الدجاجة إذا تعلقت على شجرة و خيف فوتها فذكاتها الجرح، زيلعي (قوله: أو ند) أي نفر (قوله: مريدًا ذكاته) أي بأن سمى عند جرحه، أما إذا لم يردها و لم يسم بل أراد ضربه لدفعه عن نفسه فلا شبهة في عدم حله فافهم (قوله: حل) أي إذا كان لا يقدر على أخذه وضمن قيمته، أتقاني."

( كتاب الذبائخ، ٦ / ٣٠٣، ط: دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212201137

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں