بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 15 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بے قابو جانور کو گولی مارکر قربانی کرنا


سوال

میں نے 2 ویڈیوز دیکھی ہیں، جن میں قربانی کے بے قابو جانور کو گولی ماری گئی، ایک میں تو گولی مارنے کے بعد تکبیر پڑھی گئی۔

سوال یہ ہے کہ اگر قربانی کا جانور بےقابو ہو جائے، تو کیا اس کو گولی مار کر قربانی کی جا سکتی ہے؟ اگر گولی مار کے قربانی جائز ہو، تو تکبیر کس وقت پڑھی جائے؟ جو شخص گولی مارتا ہے، کیا اس کو گولی مارتے وقت تکبیر کہنی چاہیے یا گولی مارنے کے فوراََ بعد تکبیر پڑھنا جائز ہے؟

جواب

جانور (جیسے گائے بیل وغیرہ ) بے قابو ہو جائے اور کسی طرح قابو میں نہ آرہا ہو تو اس کو گولی مار کر زخمی کیا جاسکتا ہے ، لیکن حلال ہونے کے لیے ضروری ہے کہ زخمی کرنے کے بعد اس کو شرعی طریقہ  سے ذبح کیا جائے، اگر ذبح کرنے سے پہلے وہ مر جائے تو اس کا کھانا حلال نہیں ہوگا۔تکبیر پڑھنا ذبح کے وقت ضروری ہے ، گولی مارتے وقت تکبیر پڑھنے کا اعتبار نہیں۔ (حقانیہ  6-453)  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200406

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے