بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

بینک ملازم سے شادی ہو جائے تو کیا کرے؟


سوال

اگر کسی کے گھر والے اس کا نکاح اس کی مرضی کے بغیر بھی بینک ملازم سے کریں تو اس صورت میں وہ لڑکی کیا کرے؟ کیوں کہ گھر والے کہتے ہیں کہ آج کل دنیا میں ہر ملازم حرام کماتا ہے، اب وہ لڑکی کیا کرے؟ سود کھانے والے کی سزا بھی کیا ہے؟ وہ بھی کہیے!

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر کسی لڑکی کی شادی اس کے گھر والوں نے اس کی مرضی کے بغیر کسی بینک کے ملازم کے ساتھ کر دی تو ایسی صورت میں اگر وہ لڑکی  شرعی حدود میں رہ کر حکمت کے  ساتھ اپنے  لیے  حلال آمدنی  کا انتظام  کر سکتی  ہو تو  وہ کرے اور  اگر ایسا کوئی انتظام کرنا مشکل ہو تو ایسی صورت میں وہ اپنے شوہر کی کمائی  استعمال کرسکتی ہے، لیکن اس پر مستقل توبہ اور استغفار کرتی  رہے اور  اس کے  ساتھ  ساتھ   مناسب انداز میں اپنے شوہر کے  سامنے سود کی حرمت اور قباحت  بیان کرتی  رہے، یہاں تک کہ وہ بینک کی ملازمت کو چھوڑ کر کسی حلال آمدنی کا انتظام کرے، اس دوران صدقِ دل سے شوہر کے حق میں دعا بھی کرتی رہے، اور شوہر کو چاہیے کہ اگر فورًا حلال روزگار کا انتظام ہوجائے تو اسے فورًا اختیار کرکے بینک کی ملازمت چھوڑ دے، اور اگر فوری طور پر حلال روزگار نہ ملے تو  حلال ذریعۂ آمدن کی سنجیدہ تلاش شروع کرے، اس دوران استغفار بھی جاری رکھے، اور دعا بھی کرتا رہے، اور جیسے ہی بقدرِ کفایت حلال آمدن کا ذریعہ میسر آجائے اسے اختیار کرے اور بینک کی ملازمت چھوڑ دے۔

سود کی حرمت کو اللہ پاک نے قرآن مجید میں وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے چنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

{وَاَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا} [البقرہ ۲۷۵]

اللہ تعالیٰ نے خریدوفروخت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

{یَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبَا وَیُرْبِی الصَّدَقَاتِ} [البقرہ ۲۷۶]

اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور  صدقات کو  بڑھاتا ہے۔

احادیث طیبہ میں بھی حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے متعدد روایات میں سود کی وعیدوں  کو بیان فرمایا ہے، ایک حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سود کے 70 سے زیادہ درجے ہیں اور ادنی درجہ ایسا ہے جیسے اپنی ماں سے زناکرے۔

(سنن ابن ماجہ، کتاب التجارۃ، باب التغلیظ فی الربا، رقم الحدیث:2274، ج:2، ص:763، ط:داراحیاءالکتب العربیۃ)

فقط واللہ اعلم

سود  کی مذمت  سے متعلق تفصیلی فتویٰ درج ذیل لنک میں  ملاحظہ  کیجیے؛ تاکہ بہتر انداز میں شوہر کو سمجھایا جاسکے:

سود کی حرمت اور اس کا گناہ


فتوی نمبر : 144210201249

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں