بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1442ھ 21 جون 2021 ء

دارالافتاء

 

سود کی حرمت اور اس کا گناہ


سوال

سود کھانا کیسا ہے؟ اسلام میں سود کھانے کی سزا کیا ہے؟

جواب

سود کی حرمت قرآن وحدیث سے واضح طور پر ثابت ہے، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: 

’’اللہ تعالیٰ نے خریدوفروخت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔‘‘        (البقرۃ: ۲۷۵) 

اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: 

’’اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔‘‘                   (البقرۃ: ۲۷۶) 

جب سود کی حرمت کاحکم نازل ہوا تو لوگوں کا دوسروں پر جو کچھ بھی سود کا بقایا تھا، اس کو بھی لینے سے منع فرمادیا گیا: 

’’ سود کا بقایا بھی چھوڑدو، اگر تم ایمان والے ہو۔‘‘                   (سورۃ البقرۃ: ۲۷۸) 

سود لینے اور دینے والوں کے لیے اللہ اور اس کے رسول( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا اعلانِ جنگ ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

 ’’اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے‘ وہ چھوڑدو، اگر تم سچ مچ ایمان والے ہو۔ اور اگر ایسا نہیں کرتے تو تم اللہ اور اس کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے لڑنے کے لیے تیار ہوجاؤ۔‘‘                                                            (البقرۃ: ۲۷۸- ۲۷۹) 

نیز اللہ تعالیٰ نے سود کھانے والوں کے لیے کل قیامت کے دن جو رسوائی وذلت رکھی ہے، اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں کچھ اس طرح فرمایا: 

’’جولوگ سود کھاتے ہیں وہ (قیامت میں) اُٹھیں گے تو اس شخص کی طرح اُٹھیں گے جسے شیطان نے چھوکر پاگل بنادیا ہو۔‘‘                                     (البقرۃ: ۲۷۵) 

سود کی بعض شکلوں کو جائز قرار دینے والوں کے لیے فرمانِ الٰہی ہے:

 ’’یہ ذلت آمیز عذاب اس لیے ہوگا کہ انہوں نے کہا تھا کہ بیع بھی تو سود کی طرح ہوتی ہے، حالانکہ اللہ نے بیع یعنی خرید وفروخت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔‘‘ (البقرۃ: ۲۷۵) 

نیز  سود کھانے سے توبہ نہ کرنے والوں  لوگوں کے لیے  جہنم کی وعید سنائی گئی ہے:

’’لہٰذا جس شخص کے پاس اس کے پروردگار کی طرف سے نصیحت آگئی اور وہ (سودی معاملات سے) باز آگیا تو ماضی میں جو کچھ ہوا، وہ اسی کا ہے اور اس کی (باطنی کیفیت) کا معاملہ اللہ کے حوالہ ہے۔ اور جس شخص نے لوٹ کر پھر وہی کام کیاتو ایسے لوگ دوزخی ہیں، وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔‘‘                                           (البقرۃ: ۲۷۵) 

سود کے متعلق نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ارشادات!

حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر سود کی حرمت کا اعلان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

 ’’(آج کے دن) جاہلیت کا سود چھوڑ دیا گیا، اور سب سے پہلا سود جو میں چھوڑتا ہوں، وہ ہمارے چچا حضرت عباس  رضی اللہ عنہ  کا سود ہے، وہ سب کا سب ختم کردیا گیا ہے، (چوں کہ حضرت عباس  رضی اللہ عنہ  سود کی حرمت سے قبل لوگوں کو سود پر قرض دیا کرتے تھے) اس لیے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ آج کے دن میں اُن کا سودجو دوسرے لوگوں کے ذمہ ہے، وہ ختم کرتا ہوں۔‘‘  

(صحیح مسلم ، باب حجۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ) 

نیز حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا:

 ’’سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچو۔ صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا: یارسول اللہ! وہ سات بڑے گناہ کون سے ہیں؟ (جو انسانوں کو ہلاک کرنے والے ہیں) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: شرک کرنا، جادو کرنا، کسی شخص کو ناحق قتل کرنا، سود کھانا، یتیم کے مال کو ہڑپنا، (کفار کے ساتھ جنگ کی صورت میں) میدان سے بھاگنا اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا۔‘‘

(بخاری ومسلم) 

اسی طرح حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے سود لینے اور دینے والے، سودی حساب لکھنے والے اور سودی شہادت دینے والے سب پر لعنت فرمائی ہے۔

"حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے سود کھانے والے، کھلانے والے، اسکی گواہی دینے والے اور اس کا معاملہ لکھنے والے سب پر لعنت فرمائی۔"

(سنن ابن ماجہ، کتاب التجارۃ، باب التغلیظ فی الربا، رقم الحدیث:2277، ج:2، ص:764، ط:داراحیاءالکتب العربیۃ)

جس بستی میں سود ہوتا ہے وہ بستی سود کی وجہ سے ہلاک و برباد ہوجاتی ہے، حدیث شریف میں ہے:

"حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: جب کسی بستی میں زنا اور سود پھیل جائے، اللہ تعالیٰ اس بستی والوں کو ہلاک کرنے کی اجازت دیتا ہے۔"

(کتاب الکبائر للذہبی، الکبیرۃ الثانی عشرۃ، ص:69، ط:دار الکتب العلمیۃ)

سود سے پاگل پن پھیلتا ہے، حدیث شریف میں ہے:

"آپﷺ نے فرمایا: جس قوم میں سود پھیلتا ہے، اس قوم میں پاگل پن پھیلتا ہے۔"

(کتاب الکبائر للذہبی، الکبیرۃ الثانی عشرۃ، ص:70، ط:دار الکتب العلمیۃ)

سود خور سخت عذاب میں مبتلا ہوں گے، حدیث شریف میں ہے:

"حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: جس شب مجھے (معراج میں) سیر کرائی گئی، میں ایک جماعت کے پاس سے گزرا جس کے پیٹ کمروں کے مانند تھے، ان میں بہت سے سانپ پیٹوں کے باہر سے دکھائی دے رہے تھے، میں نے کہا: جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟  کہنے لگے کہ سود خور ہیں۔"

(سنن ابن ماجہ، کتاب التجارۃ، باب التغلیظ فی الربا، رقم الحدیث:2273، ج:2، ص:763، ط:داراحیاءالکتب العربیۃ)

سود کرنے کا گناہ ماں سے زنا کرنے کے گناہ سے بھی بدتر ہے، حدیث شریف میں ہے:

"حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: سود میں ستر گناہ ہیں، سب سے ہلکا گناہ ایسے ہے، جیسے مرد اپنی ماں سے زنا کرے۔"

(سنن ابن ماجہ، کتاب التجارۃ، باب التغلیظ فی الربا، رقم الحدیث:2274، ج:2، ص:763، ط:داراحیاءالکتب العربیۃ)

ملحوظ رہے آج کل معاشرے میں سود کی مختلف تمویلی صورتیں مختلف ناموں سے رائج ہیں، شرعی اَحکام سے نا واقف آدمی کسی نہ کسی درجہ میں ان میں مبتلا ہوجاتاہے، لہٰذا مستند مفتیانِ کرام سے رجوع کرکے ان معاملات کا حکم معلوم کرلینا چاہیے۔  حدیث شریف میں ہے:

"حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: لوگوں پر ایسا زمانہ ضرور آئےگا، کہ کوئی بھی ایسا نہ رہے گا جس نے سود نہ کھایا ہو اور جو سود نہ کھائے، اسے بھی سود کا غبار لگےگا۔"

(سنن ابن ماجہ، کتاب التجارۃ، باب التغلیظ فی الربا، رقم الحدیث:2278، ج:2، ص:764، ط:داراحیاءالکتب العربیۃ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144210201326

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں