
میری بیٹی کا نام اس کی دادی نے یوٹیوب پر دیکھ کر ’’مرحا شاہین‘ ‘ رکھا تھا۔ یوٹیوب پر اس کے معنی ’’ اللہ کا نور‘‘ بتائے گئے تھے۔ جب تک میری بیٹی دو سال کی تھی، وہ بہت شریف اور پرسکون تھی۔ لیکن جب سے وہ تیسرے سال میں داخل ہوئی ہے، ہر بات پر ضد کرنے لگی ہے۔ اگر اس کی ضد پوری نہ کی جائے تو وہ روتی رہتی ہے۔
مجھے کسی نے بتایا ہے کہ اس کا نام درست نہیں ہے اور اس کے معنی بھی صحیح نہیں ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ اس نام کا اثر بچی پر پڑ رہا ہے۔ براہِ کرم اس بارے میں میری رہنمائی فرمائیں:
1.کیا یہ نام درست ہے یا نہیں؟
2. اگر یہ نام درست نہیں ہے تو کون سا نام بہتر ہوگا؟
3. میرے شوہر کہتے ہیں کہ نام ٹھیک ہے۔ اگر واقعی یہ نام درست نہیں ہے تو میرے اور میرے شوہر کے لیے کیا حکم ہے؟
4. اگر میرے شوہر نام تبدیل کرنے پر راضی نہ ہوں تو میں بچی کا نام کس طرح تبدیل کر سکتی ہوں؟
"مَرحا شاہین" میں "مَرَحا" عربی زبان کا لفظ ہے، اس کے تلفظ کے دو طریقے ہیں:
1۔ "مَرَحا" (را پر زبر کے ساتھ) اس کا مطلب غرور وتکبر کرنا ہے۔ اس معنی کے اعتبار سے یہ نام رکھنا درست نہیں ہے۔
2۔ "مَرْحى" (را ساکن، میم پر فتحہ اور ح کے بعد الفِ مقصورہ کے ساتھ)۔ ایک احتمال یہ ہے کہ یہ "مَرِح" کی جمع ہو، جس کے معنی (اترانے والا) یا (ہلکا) کے آتے ہیں۔ اس معنی کے اعتبار سے بھی یہ نام رکھنا درست نہیں ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ یہ "مَرَح" کی جمع ہو، جس کے معنی (خوشی سے جھومنا) کے ہیں۔ یہ لفظ تیر کے نشانے پر لگنے کی صورت میں شاباشی دینے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس معنی کے اعتبار سے اگرچہ شرعاً کوئی قباحت نہیں، لیکن یہ "مَرَحا" کے مشابہ ہونے کی وجہ سے غلط معنی کا وہم برقرار رہتا ہے۔(1)
اور "شاہین" کے معنی ایک شکاری پرندہ، ترازو، ترازو کی سوٹھ اور تولنے کے کانٹے کی سوئی کے ہیں۔ معنی کے اعتبار سے اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں ہے۔(2)
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں "شاہین" نام رکھنے میں کوئی حرج نہیں، اس لیے یہ نام رکھنا جائز ہے۔ البتہ "مرحا" نام میں اکڑ اور غرور کے معنی پائے جاتے ہیں، نیز اس کے مختلف تلفّظ کی وجہ سے غلط معنی کا وہم بھی ہوتا ہے۔ اسی لیے والدین (سائلہ اور اس کے شوہر) کو چاہیے کہ آپس میں مشورہ کرکے "مرحا" کی جگہ صحابیات رضی اللہ عنہن کے ناموں میں سے کسی نام، یا کسی نیک خاتون کے نام، یا کسی اچھے معنی والے نام کا انتخاب کریں ۔(3)
واضح رہے کہ باپ پر اولاد کے حقوق میں سے ایک حق یہ بھی ہے کہ وہ اس کا اچھا اور عمدہ نام رکھے۔ لہٰذا باپ (سائلہ کے شوہر) کو چاہیے کہ اپنی بچی کے اس حق میں کوتاہی اور غفلت سے کام نہ لے۔(4)
یاد رکھیے: نام رکھنے کا مقصد محض تعارف اور پہچان نہیں، بلکہ درحقیقت مذہب کی شناخت بھی اس سے وابستہ ہے۔ یہ فکر و عقیدہ کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے؛ اس لیے اس سلسلے میں احادیثِ طیبہ میں خصوصی ہدایات دی گئی ہیں۔ اچھے، دلکش اور بامعنی ناموں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے اور ایسے ناموں سے منع کیا گیا ہے جو برے معانی کے حامل ہوں۔(5)
لہٰذا سائلہ کو چاہیے کہ وہ اپنے شوہر کو یہ تمام باتیں حکمت اور نرمی کے ساتھ سمجھائیں اور انہیں قائل کرنے کی کوشش کریں۔ اگر اس کے باوجود وہ راضی نہ ہوں، تو کم از کم گھریلو اور معاشرتی استعمال میں بچی کو کسی اچھے معنی والے نام سے پکارا جا سکتا ہے، باقی زیر نظر مسئلہ میں نام کا اثر مسمیٰ کی شخصیت پر پڑتا ہے، لیکن کسی بچہ یا بچی کا ضدی ہونا یا اس کا بیمار ہونا وغیرہ نام کی وجہ سے نہیں ہوتا۔
اچھے معنی والے نام جاننے کے لیے درجِ ذیل لنکوں سے استفادہ کیا جا سکتا ہے:
لڑکیوں کے معنی کے اعتبار سے اچھے نام
1۔تاج العروس من جواہر القاموس میں ہے:
"مرح: (مرح، كفرح: أشر وبطر) ، والثلاثة ألفاظ مترادفة، ومنه قوله تعالى: {بما كنتم تفرحون فى الارض بغير الحق وبما كنتم تمرحون} (غافر: 75) وفي المفردات: المرح: شدة الفرح والتوسع فيه. (و) مرح (: اختال) ، ومنه قوله تعالى: {ولا تمش فى الارض مرحا} (الإسراء: 37) أي متبخترا مختالا. (و) مرح مرحا: (نشط) . في (الصحاح) و (المصباح) : المرح: شدة الفرح، والنشاط حتى يجاوز قدره، (و) مرح مرحا، إذا خف، قاله ابن الأثير. وأمرحه غيره. (والاسم) مراح، (ككتاب، وهو مرح) ، ككتف (ومريح، كسكين، من) قوم (مرحى ومراحى) ، كلاهما جمع مرح..........(ومرحى) مر ذكره (في برح) قال أبو عمرو بن العلاء: إذا رمى الرجل فأصاب قيل: مرحى له، وهو تعجب من جودة رميه. وقال أمية بن أبي عائذ:يصيب القنيص وصدقا يق ول مرحى وأيحى إذا ما يوالي ، وإذا أخطأ قيل له: برحى."
(فصل الميم مع الحاء المهملة،ج: 7، ص: 113-115، ط: وزارة الإرشاد والأنباء في الكويت)
2۔فرہنگِ آصفيّۃ میں ہے:
"شاہین (ف) اسم مذکر : ایک سفید رنگ کے شکاری پرندے کا نام، ترازو کی سوٹھ،نولنے کے کانٹے کی سوئی.... ترازو کی ڈنڈی."
(ش، ج: 3، ص: 165، ط: اردو سائنس بورڈ لاہور)
3۔ المحيط البرہانی میں ہے:
وفي «الفتاوى» : التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في كتابه ولا ذكره رسول الله عليه السلام، ولا استعمله المسلمون تكلموا فيه، والأولى أن لا تفعل.
( كتاب الاستحسان والكراهية، الفصل الرابع والعشرون في تسمية الأولاد وكناهم، ج: 5، ص: 382، ط: دار الكتب العلمية، بيروت - لبنان)
4۔سننِ أبی داود میں ہے
«عن أبي الدرداء، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إنكم تدعون يوم القيامة باسمائكم وأسماء آبائكم، فاحسنوا أسماءكم."
(باب في تغيير الأسماء، ج: 7، ص: 303 ، ط: دار الرسالة العالمية)
شعب الإيمان للبیہقی میں ہے:
"عن أبي سعيد وابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:من ولد له ولد فليحسن اسمه وأدبه...."
(باب في حقوق الأولاد والأهلين، ج: 6، ص: 401، ط: دار الكتب العلمية، بيروت- لبنان)
5۔ صحيح البخاری میں ہے:
عن ابن المسيب، عن أبيه «أن أباه جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: ما اسمك؟ قال حزن قال: أنت سهل قال: لا أغير اسما سمانيه أبي» قال ابن المسيب: فما زالت الحزونة فينا بعد.
(باب اسم الحزن، ج: 8، ص: 43، ط: السلطانية، بالمطبعة الكبرى الأميرية، ببولاق مصر)
سننِ الترمذی میں ہے:
"عن عائشة: أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يغير الاسم القبيح."
(باب ما جاء في تغيير الأسماء، ج: 5، ص: 114، ط: دار الرسالة العالمية)
وفيه أيضًا:
"عن ابن عمر: أن النبي صلى الله عليه وسلم غير اسم عاصية، وقال: أنت جميلة."
(باب ما جاء في تغيير الأسماء، ج: 5، ص: 113، ط: دار الرسالة العالمية)
فقط واللہ ٲعلم
فتویٰ نمبر : 144710101245
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن