
بعض لوگ کہتے ہیں کہ مشترکہ گھر میں موجود غیر محرموں سے چہرہ کا پردہ لازمی نہیں ہے، بلکہ چہرہ کُھلا رکھنے کی گنجائش ہے، لہذا چہرے کا پردہ نہ کیا جائے۔ نیز یہ بھی کہتے ہیں کہ اِن محارم کے سامنے چہرہ، ہاتھ اور پاؤں کے علاوہ اعضاء کو ڈھانپ لو تو کافی ہے۔ کیا یہ درست ہے؟ اور اگر گنجائش ہے تو کس صورت حال میں میں گنجائش ہے؟
شریعتِ مطہرہ نے پاکیزہ معاشرہ قائم کرنے اور برقرار رکھنے کے لیے کچھ راہ نما اصول بیان کیے ہیں، تاکہ معاشرہ میں بے راہ روی نہ پھیلے، جن میں سے نگاہوں کی حفاظت اور پردے کا اہتمام ہے۔نگاہوں کی حفاظت اور پردے کا اہتمام نہ کرنے کی وجہ سے عمومًا گناہ کی طرف میلان ہوجاتا ہےاور معاشرہ بے راہ روی کی طرف چلا جاتا ہےاس لیے قرآن و سنت میں پردے کے متعلق واضح احکام بیان کیے گئے ہیں، مرد و عورت کو نگاہوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ خواتین کو یہ اضافی حکم دیا گیا ہے کہ وہ غیر محرم سے پردہ کریں اور چہرہ ڈھانپ کر گھر سے نکلیں۔ تاہم غیر محرم دو طرح کےہیں:
① غیر محرم جو رشتہ دار نہ ہو، اس سے بوجہ مصلحت و دفعِ فتنہ چہرے کا پردہ کرنا واجب ہے۔
② غیر محرم جو رشتہ دار ہو، جیسے چچازاد، ماموں زاد وغیرہ، اس سے عورت کے لیے اپنے چہرہ اور ہتھیلیوں کے علاوہ پورے جسم کا پردہ واجب ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں اگرکوئی عورت پردے کا اہتمام کرتی ہے، تو اس کا یہ عمل شریعتِ مطہرہ کے اصولوں کے عین مطابق انتہائی قابلِ ستائش اور لائقِ حوصلہ افزاءہے۔ موجودہ پرفتن دور میں پردہ کرنا ہی سب سے زیادہ محتاط، قرینِ تقویٰ اور مفاسد سے بچاؤ کا ذریعہ ہے اور اسی پر کاربند رہنا چاہیے۔
البتہ مشترکہ گھرانوں(جوائنٹ فیملی سسٹم) میں غیر محرم رشتہ داروں سےچہرے کے پردے کے سلسلے میں کچھ تخفیف ہے،اس میں شرعی حدود کو مدنظر رکھتے ہوئے عمل کرنا چاہیے، تاہم بے حیائی میں واقع ہونے اور فتنے میں مبتلا ہونے سے بچاؤ کے لیےجانبین کو احتیاطی تدابیر اختیارکرلینی چاہییں، مثلًا: دیور، جیٹھ، لڑکی کے چچازاد، ماموں زاد وغیرہ گھر میں آنے سے پہلے اطلاع دیں،گھر میں داخل ہونے سے پہلے گھنٹی وغیرہ بجا دیں یا بلند آواز سے سلام کرلیں،مرد و خواتین نگاہوں کی حفاظت کریں، خواتین دوپٹے یا بڑی چادر سے اپنے آپ کو ڈھانپ کر رکھیں، نیز بے تکلفانہ گفتگو، تنہائی میں ملاقات اور غیر ضروری اختلاط سے گریز کریں ، لیکن اگر فتنے کا خوف یا اندیشہ ہو تو نامحرم رشتہ داروں سےبھی چہرے کا پردہ واجب ہوگا۔
ارشاد باری تعالی ہے :
"يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا " [الأحزاب: 59]
ترجمۃ:اے نبی کہہ دے اپنی عورتوں کو اور اپنی بیٹیوں کو اور مسلمانوں کی عورتوں کو نیچے لٹکالیں اپنے اوپر تھوڑی سی اپنی چادریں اس میں بہت قریب ہے کہ پہچانی پڑیں تو کوئی ان کو نہ ستائے اور ہے اللہ بخشنے والا مہربان۔"
اسی طرح سورۃ النور میں ہے:
"وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَى عَوْرَاتِ النِّسَاءِ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِنْ زِينَتِهِنَّ ."[النور: 31]
"ترجمہ:اور (اسی طرح) مسلمان عورتوں سے (بھی) کہہ دیجیئے کہ وہ (بھی) اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کے مواقع کو ظاہر نہ کریں مگر جس اس (موقع زینت) میں سے (غالباً) کھلا رہتا ہے (جس کے ہر وقت چھپانے میں حرج ہے) اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رکھا کریں اور اپنی زینت (کے مواقع مذکورہ) کو (کسی پر) ظاہر نہ ہونے دیں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے (محارم پر یعنی) باپ پر یا اپنے شوہر کے باپ پر یا اپنے بیٹوں پر یا اپنے شوہر کے بیٹوں پر (ف ۶) یا اپنے حقیقی (علاتی یا اخیانی) بھائيوں پر) یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں پریا اپنی (حقیقی علاتی اور اخیانی) بہنوں کے بیٹوں پر یا اپنی عورتوں پر (ف۷) یا اپنی لونڈیوں پر یا ان مردوں پر جو طفیلی (کے طور پر رہتے ) ہوں اور ان کو ذرا توجہ نہ ہو یا ایسے لڑکوں پر جو عورتوں کے پردوں کی باتوں سے ابھی ناواقف ہیں (مراد غیر مراہق ہیں) اور اپنے پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ ان کا مخفی زیور معلوم ہو جائے۔"(بیان القران)
روح المعانی میں ہے:
"وأخرج ابن أبي شيبة وعبد بن حميد عن ابن عباس أنه قال في قوله تعالى: إلا ما ظهر منها رقعة الوجه وباطن الكف، وأخرجا عن ابن عمر أنه قال: الوجه والكفان."
(سورۃ النور،ج:9،ص:335،ط:دار الكتب العلمية)
مسند احمد میں ہے :
" عن علي رضي الله عنه ، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال : لا طاعة لمخلوق في معصية الله عز وجل."
(الجزء الثاني : ج 2 ، ص 333، ط : مؤسسة الرسالة)
حاشیۃ الطحطاوی میں ہے:
"وجميع بدن الحرة عورة إلا وجهها وكفيها باطنهما وظاهرهما في الأصح وهو المختار."
(كتاب الصلاة، ص:241، ط:دار الكتب العلمية بيروت - لبنان)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"يجوز النظر إلى مواضع الزينة الظاهرة منهن وذلك الوجه والكف في ظاهر الرواية."
(كتاب الكراهية، الباب الثامن فيما يحل للرجل النظر إليه وما لا يحل له، ج:5، ص:329، ط:دار الفکر)
امداد الفتاوی میں مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
" سوال (۲۲۰): پردہ کی نسبت کیا حکم ہے، آیا پردہ فرض ہے یا واجب ہے یا کیا؟
الجواب: پردہ کے دو معنی ہیں، ایک ستر دوسرے حجاب، ستر تو فرض ہے، تفصیل اس کی یہ ہے کہ مرد کو مرد کا سارا بدن دیکھنا جائز ہے مگر ناف سے زانو (گھٹنے) تک جائز نہیں، اور عورت کو عورت کا بھی اتنا ہی بدن دیکھنا جائز ہے۔ اور اپنی مملوکہ حلال شرعی اور اپنی زوجہ کا سارا بدن دیکھنا جائز ہے، اور اپنے محارم سے منھ اور سر اور سینہ اور پنڈلیاں اور دونوں بازو دیکھنا بشرطِ امنِ شہوت جائز ہے۔اور ان کی پشت (پیٹھ) اور شکم (پیٹ) دیکھنا جائز نہیں، اور غیر مملوکہ کا بھی اتنا ہی بدن دیکھنا جائز ہے، اور اجنبی آزاد عورت کا کچھ دیکھنا جائز نہیں، مگر ہتھیلیاں دیکھنا بشرطِ امنِ شہوت جائز ہے، اور اگر شہوت کا خوف ہو تو بغیر حاجتِ ضروری شرعی کے دیکھنا جائز نہیں، ہاں اگر حاجت ہو جیسے حاکم حکم کرتے وقت اور گواہ کو شہادت کے وقت تو چہرہ دیکھنا جائز ہے، اور طبیب کو مرض کا موضع (مقام) دیکھنا جائز ہے اگرچہ لوگوں کو خوفِ شہوت کا ہو، باقی حتی الوسع شہوت کو دل سے دور کرے۔۔۔
دوسرا حجاب ہے جو آج کل شرفاء میں معمول ہے، کہ عورت مردِ اجنبی کو بالکل بدن نہیں دکھاتی، اور غالباً غرض سائل کی اسی کا پوچھنا ہے، پس یہ جناب رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات پر تو فرض تھا، لقوله تعالیٰ:"وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ" ولِقوله تعالیٰ: "وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ" اور مؤمنینِ اُمت کی عورتوں پر فرض نہیں، چنانچہ روایتِ بالا سے معلوم ہو چکا کہ اجنبی عورت کا چہرہ اور ہتھیلیاں دیکھنا بشرطِ امنِ شہوت جائز ہے، البتہ یہ حجاب سنت اور واجبِ استحسانی ہے، اور بہ نظرِ مصلحت و رفعِ شر و فتنہ ضروری ہے۔۔۔
تفسیرِ حسینی میں ہے:
"گویند ہند در شانِ زانیان ست کہ شب ہا بر سرِ راہ ہا نشستندے و دستِ تعدی بدامنِ کنیزان رسانیدے۔ و سعدی رح می فرماید کہ دراں وقت حرائر را علامت آن بود کہ سر پوشید ہ در راہ افتندے و جواری سر برہنہ بودندے، چوں آں بدکاران از سرپوشیدگان تحاشی می نمودند لاجرم آیت آمد: اے پیغمبر بگو مر زنان خود را و دختران خود را و زنانِ مومنان را کہ بوقتِ بیرون رفتن از خانہ نزدیک گردانند و فروگذارند برو ہائے و بدنہائے خویش چادرہائے خود را یعنی وجوہ و ابدان پوشند، این پوشیدن سر و روئے و بدن نزدیک تر است بآنکہ ایشان را بشناسند بصلاح و عفت یا متمیز شوند بآزادی پس ایذا کردہ نشوند یعنی آن زانیان تعرض نہ کنند ایشان را، انتہیٰ۔ "
(ترجمہ: کہا جاتا ہے کہ یہ (حکم) بدکار لوگوں کے بارے میں ہے، جو رات کے وقت راستوں پر بیٹھا کرتے تھے اور لونڈیوں (کنیزوں) کے دامن پر دست درازی کرتے تھے۔ اور سعدی شیرازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس زمانے میں آزاد عورتوں کی علامت یہ تھی کہ وہ سر ڈھانپ کر راستوں میں نکلا کرتی تھیں، اور لونڈیاں سر کھلا رکھتی تھیں۔ چونکہ وہ بدکار لوگ پردہ کرنے والی عورتوں سے تعرض کرنے سے کتراتے تھے، اس لیے یہ آیت نازل ہوئی:اے پیغمبر! اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اور مومن عورتوں سے کہہ دو کہ جب وہ گھروں سے باہر نکلیں تو اپنی چادروں کو اپنے اوپر لٹکا لیا کریں (یعنی اپنے چہروں اور جسموں کو ڈھانپ لیا کریں)۔ یہ سر، چہرہ اور بدن کو ڈھانپنا اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ وہ نیک اور پاکدامن پہچانی جائیں یا آزاد عورتوں کے طور پر ممتاز ہوں، تاکہ انہیں اذیت نہ دی جائے، یعنی وہ بدکار لوگ ان سے چھیڑ چھاڑ نہ کریں۔)
اس سے معلوم ہوا کہ یہ حکم فتنہ کے سبب سے ہوا۔
و في الدرالمختار ص: ۷، ج ۲ من المجلد الأول:
و تمنع المرأۃ الشابة من كشف الوجه بین الرجال لا لأنه عورۃ بل لخوف الفتنة كمسه و إن أمن الشھوۃ لأنه أغلظ، و لذا ثبت به حرمة المصاهرة کما یأتي في الحظر، انتهى.
حضرت شاہ ولی اللہ صاحب آیۃ کریمہ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِھِنَّ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
"مترجم گوید کہ حاصل این آیت آنست کہ مواضعِ زینت دو قسم است؛ آنچہ در سترِ آں حرج است و آں وجہ و کفین بود و آنچہ در سترِ آں حرج نیست مانند سر و گردن و عضد و ذراع و ساق، پس سترِ وجہ و کفین از اجنبیان فرض نیست بلکہ سنت است، سترِ غیرِ آں از اجنبیان فرض است نہ از محارم، واللہ اعلم، فتح الرحمن۔"
(ترجمہ: مترجم کہتا ہے کہ اس آیت کا حاصل یہ ہے کہ زینت کے مقامات دو قسم کے ہیں: ایک وہ جنہیں چھپانے میں حرج ہوتا ہے، اور وہ چہرہ اور ہاتھ ہیں؛ اور دوسرے وہ جنہیں چھپانے میں کوئی حرج نہیں، جیسے سر، گردن، بازو، کلائی اور پنڈلی۔ لہٰذا اجنبی لوگوں کے سامنے چہرہ اور ہاتھوں کا چھپانا فرض نہیں، بلکہ سنت ہے، جب کہ ان کے علاوہ باقی اعضا کو اجنبیوں سے چھپانا فرض ہے، البتہ محرم رشتہ داروں سے چھپانا فرض نہیں۔)
اور حضرت شاہ عبدالقادر صاحب آیۃ کریمہفَسْئَلُوْھُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ الآیۃ کی تفسیر میں فرماتے ہیں: "اور اس آیت میں حکم ہوا پردہ کا کہ مرد حضرت کی ازواج کے سامنے نہ جائیں، سب مسلمانوں کی عورتوں پر یہ حکم واجب نہیں، اگر عورت سامنے ہو کسی مرد کے سب بدن کپڑوں میں ڈھکا ہو تو گناہ نہیں، اور اگر نہ سامنے ہو تو بہتر ہے۔ موضح القرآن۔"
پس خلاصہ جواب یہ ہوا کہ ستر فرض ہے اور حجاب بنظر مصلحت واجب ہے، واللہ اعلم وعلمہ اتم واحکم۔
(عورتوں کے پردے اور نظر ولمس وغیرہ کے احکام ،ج:۴،ص:۱۷۷،ط:مکتبہ دار العلوم کراچی)
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
سوال: (۳۷۹) مردوں کو غیر محرمات کی طرف نظر کرنی مطلقاً حرام ہے یا صرف بہ نظرِ شہوت؟ اگر مطلقاً حرام ہے تو پھر اس صورت میں جب کہ زید کے تمام کنبہ والے مع محرمات و غیر محرمات کے ایک ہی مکان میں زندگی بسر کرتے ہیں تو شرعاً کیا حکم ہے؟ جب کہ بار بار مکان میں آمد و رفت کی ضرورت پڑتی ہے، اور اگر بہ نظرِ شہوت حرام ہے تو محرمات و غیر محرمات میں دریں باب کیا حکم ہے یعنی کیا فرق ہے؟ اور آیت کریمہ:﴿قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ الآية﴾(سورۂ نور: آیت: ۳۰) جس میں کسی قسم کی قید نہیں ہے کیا معنی ہوں گے؟ (۵۹۲ / ۱۳۳۷ھ)
الجواب: درمختار میں ہے:
وتمنع المرأة الشابة من كشف الوجه بين الرجال، لا لأنه عورة، بل لخوف الفتنة إلخ ولا يجوز النظر إليه بشهوة إلخ. وفي رد المحتار: والتقييد بالشهوة يفيد جوازه بدونها، لكن سيأتي في الحظر تقييده بالضرورة، وظاهره الكراهة بلا حاجة داعية. قال في التاترخانية: وفي شرح الكرخي: النظر إلى وجه الأجنبية الحرة ليس بحرام، و لكنه يكره لغير حاجة إلخ (۱) (شامي: ۲۷۲/۱)
و في الحظر والإباحة من الدر المختار: وينظر من الأجنبية إلخ إلى وجهها وكفيها فقط للضرورة إلخ فإن خاف الشهوة أو شك امتنع نظره إلى وجهها، فحل النظر مقيد بعدم الشهوة و إلا فحرام، وهذا في زمانهم، وأما في زماننا فمنع من الشابة. قهستاني وغيره إلخ ان عبارات سے سوال کی شقوں کا جواب حاصل ہے۔ اور آیت: ﴿قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ الآية﴾ (سورۂ نور: آیت: ۳۰) میں غضِ بصر بہ وقت عدمِ شہوت محمول بر استحباب ہے۔
(کتاب الحظر والاباحۃ ،پردے اور ستر کے احکام ،ج:16 ،ص:199،ط:مکتبہ دار العلوم دیوبند)
مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی رحمہ اللہ کی تصدیق سے جاری شدہ جامعہ بنوری ٹاؤن کے فتوی میں ہے:
سوال: آپ نے فرمایا: سالی بالغہ سے پردہ ضروری ہے، ضرورت کے تحت بات چیت جائز ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ ضرورت کے تحت کھلے منہ بھی سامنے آنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب: اجازت ہے، سالی کے ساتھ خلوت نہ کرے، فتنے کا خوف نہ ہو، تو سالی سے ضرورت کے تحت چہرہ کھلے بات کرسکتا ہے، فتنے کی صورت میں قطعاً منع ہے۔
کتبہ: (مفتی) عبد السلام عفی اللہ عنہ
الجواب صحیح: (مفتی) ولی حسن، 8 جمادی الثانیہ، 1396ھ، فتوی نمبر:225
ہدایۃ القرآن میں حضرت مولانا سعید احمد پالنپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
جیٹھ، دیور، بہنوئی، چچا ماموں اور پھوپھی خالہ کے لڑکے بھی غیر محرم ہیں، کیونکہ ان سے نکاح جائز ہے، مگر ہمارے معاشرہ میں ان سے کامل پردہ مشکل ہے، اول تو ہندوستانی مسلمانوں کی معیشت کمزور ہے، ہر ایک کا گھر علیحدہ نہیں ہوسکتا۔ دوم: ہندو معاشرہ کا مسلمانوں کے معاشرہ پر اثر پڑا ہے، اور اختلاط عام ہو گیا ہے، اس لیے ان کے معاملہ میں بھی دو شرطوں کے ساتھ تخفیف مناسب معلوم ہوتی ہے۔ اول: بغیر اجازت لیے یہ لوگ اچانک گھر میں نہ آئیں، جب بھی آئیں پہلے آگاہ کریں، تاکہ عورت خود کو سنبھال لے اور مذکورہ اعضاء کے علاوہ باقی جسم کو ڈھانپ لے۔ دوم: یہ لوگ تنہائی میں جمع نہ ہوں، اور بے تکلفی سے باتیں نہ کریں۔ حدیث میں ہے کہ عورتوں کے پاس تنہائی میں جانے سے بچو! ایک انصاری نے پوچھا: جیٹھ دیور کا کیا حکم ہے؟ آپؐ نے فرمایا: ”جیٹھ دیور موت ہیں!“ یعنی بڑا فتنہ ہیں۔ کیوں کہ جیٹھ دیور کی بھاوج سے بے تکلفی ہوتی ہے، اس لیے فتنہ پیش آنے میں دیر نہیں لگتی۔ اور یہی حکم سالیوں کا ہے، ان کے ساتھ بھی بہنوئی کی بے تکلفی ہوتی ہے، اس لیے فتنہ پیش آتا ہے۔ (تحفۃ الالمعی ۳: ۶۱۰) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جیٹھ دیور اگرچہ غیر محرم ہیں، مگر چوں کہ ان کے ساتھ ہر وقت کا رہنا ہوتا ہے اس لیے ان کے ساتھ تنہائی اور بے تکلفی تو جائز نہیں، باقی پردے میں تخفیف ہے۔ واللہ اعلم
(سورۃ النور ،ج:۶،ص:۷۲،ط:مکتبہ حجاز دیوبند)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144603102871
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن