
ایک مرد کے لیے کن کن خواتین سے پردہ کرنا ضروری ہے ؟
اگر ایک گھر میں ایک بڑا خاندان ایک ساتھ رہتا ہو اور وہاں دین پر عمل نہ ہونے کے برابر ہو، اب آیا بندہ اس خاندان میں رہ کر شرعی پردے کے تقاضوں پر عمل کرے، یا في الحال وہاں دین کا ماحول بنانے کی فکر کرے؟
اگر شرعی پردہ کرنا ضروری اور لازمی ہے تو پھر کس طرح وہاں خواتین اور مرد حضرات کو دین کی طرف لایا جاسکے۔
نیز مجھے ایسی مستند کتابوں کی طرف راہنمائی فرمائیں جو شرعی پردے کے متعلق مفید اور عام فہم ہوں۔
اگر کوئی غیر محرم رشتہ داروں سے مصافحہ کرے ، تو اس کا کیا حکم ہے ؟
ہر اس خاتون سے پردہ ضروری ہے، جس سے في الحال یا مستقبل میں نکاح کرنا جائز ہو، جنہیں فقہی اصطلاح میں غیر محرم کہا جاتا ہے، پس غیر محرم خواتین میں چچا زاد، پھوپھی زاد ماموں زاد، بہنیں، سالی، بھابھی سب داخل ہیں۔
پس اگر کوئی جوائنٹ فیملی میں رہتا ہو تو اسے اس بات کا خاص اہتمام کرنا چاہیے کہ نامحرم رشتہ داروں کے ساتھ خلوت میں بالکل اختلاط نہ ہو اور بے جا ہنسی مذاق سے بھی اجتناب کرے، نیز ننگے سر ایسی خواتین نا محرم مرد رشتہ داروں کے سامنے نہ آئیں، البتہ حسب ضرورت پردہ میں رہ کر بات کرنے کی اجازت ہوگی۔
حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
" جو رشتہ دار محرم نہیں، مثلا : خالہ زاد، ماموں زاد، پھوپھی زاد بھائی یا بہنوئی یا دیور وغیرہ جوان عورت کو ان کے روبرو آنا اور بے تکلف با تیں کرنا ہر گز نہیں چاہیے، اگر مکان کی تنگی یا ہر وقت کی آمدو رفت کی وجہ سے گہرا پردہ نہ ہو سکے تو سر سے پاؤں تک کسی میلی چادر سے ڈھانک کر شرم و لحاظ سے بضرورت رو برو آ جائے اور کلائی، بازو، سر کے بال اور پنڈلی ان سب کا ظاہر کرنا حرام ہے، اسی طرح ان لوگوں کے رُو برو عطر لگا کر عورت کو آنا جائز نہیں ، اور نہ بجتا ہوا زیور پہنے ۔ "
(تعلیم الطالب ص: ۵)
مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
"جیٹھ، دیور، بہنوئی ، چچا، ماموں اور پھوپھی خالہ کے لڑکے بھی غیر محرم ہیں، کیوں کہ ان سے نکاح جائز ہے، مگر ہمارے معاشرہ میں ان سے کامل پردہ مشکل ہے۔
اول تو ہندوستانی مسلمانوں کی معیشت کمزور ہے، ہر ایک کا گھر علاحدہ نہیں ہوسکتا۔
دوم ہندو معاشرہ کا مسلمانوں کے معاشرہ پر اثر پڑا ہے، اور اختلاط عام ہوگیا ہے، اس لیے ان کے معاملہ میں بھی دو شرطوں کے ساتھ تخفیف مناسب معلوم ہوتی ہے:
اول: بغیر اجازت لیے یہ لوگ اچانک گھر میں نہ آئیں، جب بھی آئیں پہلے آگاہ کریں، تا کہ عورت خود کو سنبھال لے اور مذکورہ اعضاء ( یعنی چہرہ ہتھیلی اور پیر ) کے علاوہ باقی جسم کو ڈھانک لے۔
دوم: یہ لوگ تنہائی میں جمع نہ ہوں، اور بے تکلفی سے باتیں نہ کریں۔
حدیث میں ہے کہ عورتوں کے پاس تنہائی میں جانے سے بچو! ایک انصاری نے پوچھا: جیٹھ، دیور کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جیٹھ، دیور "موت ہیں ! یعنی بڑا فتنہ ہیں، کیونکہ جیٹھ، دیور کی بھاوج سے بے تکلفی ہوتی ہے، اس لیے فتنہ پیش آنے میں دیر نہیں لگتی، اور یہی حکم سالیوں کا ہے، ان کے ساتھ بھی بہنوئی کی بے تکلفی ہوتی ہے، اس لیے فتنہ پیش آتا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جیٹھ، دیوراگر چہ غیر محرم ہیں ،مگر چوں کہ ان کے ساتھ ہر وقت رہنا ہوتا ہے، اس لیے ان کے ساتھ تنہائی اور بے تکلفی تو جائز نہیں، مگر باقی پردے میں تخفیف ہے۔ واللہ اعلم
(ہدایت القرآن، سورہ نور، آیت: ٣١)
نیز دینی ماحول پیدا کرنے کے لیے علماء کرام سے وقتاً فوقتاً رہنمائی لے کر حکمت کے ساتھ کردار ادا کیا جائے۔
پردہ سے متعلق تفصیل کے لیے معارف القرآن از مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ جلد 7 صفحہ 209 تا 220 ، طبع: ادارة المعارف کا مطالعہ کر لیا جائے، اسی طرح "شرعی پردہ" تالیف حکیم الإسلام حضرت مولانا قاری طیب صاحب رحمہ اللہ،" پردہ کے شرعی احکام" تالیف حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمہ اللہ، اور" شرعی پردہ"تالیف حضرت مولانا محمد عاشق الہی بلند شہری رحمہ اللہ کا مطالعہ بھی مفید ہوگا۔
نا محرم رشتہ دار مرد و خواتین کے لیے ایک دوسرے سے مصافحہ کرنا جائز نہیں۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"و لايحل له أن يمس وجهها، و لا كفها، و إن كان يأمن الشهوة و هذا إذا كانت شابّةً تشتهى، فإن كانت لاتشتهى لا بأس بمصافحتها و مسّ يدها، كذا في الذخيرة.
و كذلك إذا كان شيخًا يأمن على نفسه و عليها فلا بأس بأن يصافحها، و إن كان لايأمن على نفسه أو عليها فليجتنب، ثم إن محمدًا - رحمه الله تعالى - أباح المس للرجل إذا كانت المرأة عجوزًا و لم يشترط كون الرجل بحال لايجامع مثله، و فيما إذا كان الماس هي المرأة، قال: إذا كانا كبيرين لايجامع مثله و لايجامع مثلها فلا بأس بالمصافحة، فتأمل عند الفتوى، كذا في المحيط."
(كتاب الكراهية، الباب الثامن فيما يحل للرجل النظر إليه و ما لايحل له و ما يحل له مسه و ما لايحل، ٥ / ٣٢٩، ط: دار الفكر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144501100847
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن