بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 صفر 1443ھ 17 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

بی فار یو کمپنی میں سرمایہ کاری کرنا


سوال

بی 4 یو کمپنی میں سرمایہ کاری کرنے کا حکم یہ ہے کہ جو معلومات آپ کے پاس ہیں وہ غلط ہے ، یہ ایک ایسی کمپنی ہے جو کریپٹو کرنسیوں میں کام نہیں کرتی ہے ، یہ ایک ایسی کمپنی ہے جس کے پاس کھیت اور فیکٹریاں ہیں ، اور اس کمپنی کی ویب سائٹ پر فتوے کے بارے میں آپ کا کیا جواب ہے ، اور اس سے کمپنی اور سرمایہ کاروں کے درمیان منافع تقسیم ہوتا ہے۔ براہ کرم اپنے الفاظ کو متحد کریں اور اگر آپ کے پاس کوئی ردعمل ہے تو آپ کو سائٹ پر فتویٰ کا جواب نہیں دینا چاہئے۔

جواب

B4u Trading نامی کمپنی کی آفیشل ویب سائٹ ( b4utrading.pk )  پر کمپنی کے حوالے سے  فراہم کردہ  معلومات  کے مطابق مذکورہ کمپنی کی تجارت کا 60 فیصد مدار کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کرنے پر ہے،  لہذا سائل کا یہ دعوی کہ : " یہ ایک ایسی کمپنی ہے جو  کرپٹو کرنسی میں کام نہیں کرتی" خلاف حقیقت ہے، لہذا سائل اپنی معلومات درست کرلے۔

کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری جیسے خود کرنا جائز نہیں اسی طرح سے  کسی ایسی کمپنی میں سرمایہ کاری کرنا بھی جائز نہیں جس کی تجارت زیادہ مدار کرپٹو کرنسی پر ہو۔

 

B4U a Secure Cryptocurrency Trading Company its Infrastructure Facilitates Investment in the Cryptocurrencies industry with Daily Profit Growth on Investment.

B4U is group of people who have large experience of trading, investment tricks and market scope. By using their skills and expertise we trade your investment in the market and earn profit. our major investment domains are as following: Investment in property deals Investment in Crypto Exchange Investment in Information Technologies Investment in Transport Services Investment in Trading

Profit Method

B4U Global allocates 60% of its investors' deposits to cryptocurrency trading and the remaining 40% is invested in other business areas such as transport, technology, real estate and other divisions that will be added to their portfolio.

In this way investors receive from 7% to 20% monthly returns on their deposits.

دیکھئے: کرپٹو کرنسی منافع کی غرض سے خریدنا

فقه المعاملات میں ہے:

"يشترط في الموكل به - لصحة الوكالة - ثلاثة شروط:

(أحدها) أن يكون إتيانه سائغًا شرعًا.

وعلى ذلك فلايصح التوكيل بالعقود المحرمة والفاسدة والتصرفات المحظورة شرعًا؛ لأنّ الموكل لايملكه، فلايصحّ أن يفوضه إلى غيره، و لأن التوكيل نوع من التعاون، و التعاون إنما يجوز على البر والتقوى لا على الإثم والعدوان."( الوكالة، المؤكل به، ١ / ١٠٦٧)

الفقه الإسلامي و ادلته میں ہے:

"وأما الموكل فيه (محل الوكالة): فيشترط فيه ما يأتي: ....أن يكون التصرف مباحاً شرعاً: فلا يجوز التوكيل في فعل محرم شرعاً، كالغصب أو الاعتداء على الغير."(الوكالة، شروط الوكالة، الموكل فيه، ٤ / ٢٩٩٩، ط: دار الفكر)۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144210200728

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں