بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شوال 1445ھ 22 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

بی فور یو کمپنی میں سرمایہ کاری کرنا


سوال

 بی. فور. یو کے نام سے ایک انوسمنٹ کمپنی ہے. جس میں لوگ اپنے پیسے انوسٹ کرتے ہیں اور بدلے میں انکو اسکا ماہنامہ پرافٹ ملتا. اور اس کمپنی والے مختلف مدارس کا فتویٰ بھی بتاتے ہیں. کیا اس میں پیسہ انوسٹ کرنا جائز ہے؟

جواب

بی فور یو گلوبل نامی ادارہ  کے طریقِ کار کی مکمل تفصیل قطعی طور پر ہمارے علم میں نہیں، تاہم اب تک کی  حاصل شدہ معلومات کے مطابق مذکورہ ادارہ  بعض پیکجز میں کرپٹو کرنسی  میں ٹریڈنگ کرتا ہے، کرپٹو کرنسی چوں کہ اب تک حکومت کی جانب سے تسلیم شدہ کرنسی نہیں، جس کی وجہ سے اس کرنسی کے جائز یا نا جائز ہونے کے بارے میں تاحال توقف اختیار کیا گیا ہے، لہذا جب تک مذکورہ کرنسی کی حیثیت واضح نہ ہوجائے، اور  مذکورہ ادارے میں سرمایہ کاری کی شرائط واضح نہ ہوجائیں اس  وقت تک اس میں سرمایہ کاری سے اجتناب کیا جائے۔

کرپٹو کرنسی سے قطع نظر  یہ بھی ملحوظ رہے کہ کرنسی کی خرید و فروخت کا نقد  (ہاتھ در ہاتھ)  ہونا اور جانبین سے مجلسِ عقد میں قبضہ پایا جانا بھی ضروری ہے، جس کا لحاظ کرنسی کی آن لائن خرید و فروخت میں رکھنا تقریباً معدوم ہے۔

اسی طرح بعض صورتوں میں متعینہ نفع کی ضمانت کے ساتھ سرمایہ کاری کی جاتی ہے، جو کہ ناجائز ہے؛ لہٰذا مذکورہ ادارے میں سرمایہ کاری سے اجتناب کیا جائے۔

مزید تفصیل کے لیے دیکھیے:

B4u میں انویسٹمنٹ کرنا

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 200012

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں