بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

ایمازون پر کاروبار کرنا


سوال

 یہ ایمازون پر آن لائن کاروبار کرنا کیسا ہے؟ شرعاً جائز ہے یا نہیں ؟راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

ایمازون پر آن لائن کاروبار کرنے کی متعدد صورتیں رائج ہیں، جن میں سے کچھ شرعی طور پر جائز اور کچھ ناجائز بھی ہیں، آپ کو جس خاص صورت کا شرعی حکم معلوم کرنا ہے اس کی تفصیل لکھ کر سوال ارسال کریں، تاہم اصولی طور پر یہ بات واضح رہے کہ جس وقت آپ کسی چیز کو بیچتے ہیں خواہ دکان پر بیچیں یا کسی آن لائن پلیٹ فارم پر بیچیں، شرعی طور پر یہ ضروری ہے کہ وہ چیز آپ کی ملکیت میں ہو، آپ کے قبضے میں ہو اور آپ خریدار کو وہ چیز حوالے کرنے پر قدرت رکھتے ہوں، اگر ایسی چیز کو بیچا جائے جو اب تک بیچنے والے کی ملکیت میں نہیں ہے یا ملکیت میں تو ہے لیکن اس نے خود خریدنے کے بعد اب تک اس پر قبضہ نہیں کیا یا وہ خریدار کو وہ چیز حوالے کرنے پر قدرت نہیں رکھتا تو یہ صورتیں شریعت کی نظر میں ناجائز ہیں۔

آن لائن کاروبار میں بکثرت غیر مملوک (یعنی جو چیز ملکیت میں نہیں ہے) یا غیر مقبوض (جس چیز پر قبضہ نہیں ہے) اشیاء  کی خرید و فروخت کی جاتی ہے،لہذا اس سے بچنا ضروری ہے، تاہم اگر ایمازون وغیرہ پرکاروبار میں خرید و فروخت کے شرعی احکام اور پابندیوں کا لحاظ رکھا جاتا ہے تو ایسا کاروبار کرنا جائز ہے۔

ایمازون پر کاروبار کے بارے میں تفصیلی فتویٰ درج ذیل لنک پر ملاحظہ کیجیے:

ایمازون سے کاروبار اور کمیشن کاحکم

النتف فی الفتاویٰ میں ہے:

"والثاني أن يكون المبيع غائبا وهو على وجهين:

أحدهما يقدر البائع على تسليمه ولا يحتاج أخذه إلى معالجة مثل الأمتعة والحيوانات وغيرها

والآخر أن يقدر على تسليمه ولكن يحتاج أخذه إلى معالجة مثل الثمار في رؤس الأشجار والأغصان ونحو ذلك والبيع في كلاهما جائز

والثالث أن لا يقدر البائع على التسليم مثل الصوف على ظهر الغنم والأولاد في البطون والعبد الآبق ونحو ذلك فالبيع فاسد فيها

والرابع أن يكون المبيع مفقودا فالبيع فاسد فيه لأن النبي عليه الصلاة والسلام نهى عن بيع ما ليس عنده".

(‌‌أحوال المبيع، 1/ 437، ط: مؤسسة الرسالة)

الدر المختار میں ہے:

"(وبيع ما ليس في ملكه) لبطلان بيع المعدوم وما له خطر العدم".

وفي الرد:

"(قوله وبيع ما ليس في ملكه) فيه أنه يشمل بيع ملك الغير لوكالة أو بدونها مع أن الأول صحيح نافذ والثاني صحيح موقوف. وقد يجاب بأن المراد بيع ما سيملكه قبل ملكه له ثم رأيته كذلك في الفتح في أول فصل بيع الفضولي، وذكر أن سبب النهي في الحديث ذلك (قوله لبطلان بيع المعدوم) إذ من شرط المعقود عليه: أن يكون موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه، وأن يكون ملك البائع فيما ببيعه لنفسه، وأن يكون مقدور التسليم منح".

(‌‌كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، 5/ 58، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144506102599

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں