بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اعتکاف کی حالت میں سگریٹ پینے کا حکم

سوال

اعتکاف میں سگریٹ پی سکتے ہیں؟ سگریٹ پینے سے اعتکاف پر کوئی اثر ہو گا؟

جواب

واضح رہے کہ مسجد کو بدبو دار چیزوں سے پاک رکھنے کا حکم ہے اور اعتکاف مسجد میں کیا جاتا ہے، لہٰذا معتکف کے لیے مسجد کے اندر سگریٹ پینا مکروہ ہے، اور اگر معتکف سگریٹ پینے کے لیے مسجد سے باہر جائے گا تو اس کا اعتکاف فاسد ہوجائے گا، نیز اگر کوئی معتکف قضائے حاجت کے لیے بیت الخلا جائے اور وہاں سگریٹ پیے تو یہ بھی مکروہ ہے، لوگوں کی تکلیف کا باعث ہے، البتہ اگر معتکف نے قضائے حاجت کے دوران ہی سگریٹ پی لی اور سگریٹ پینے کے لیے اضافی وقت نہیں لگایا تو اس سے اعتکاف فاسد نہیں ہوگا، لیکن اس کا یہ عمل مکروہ ہوگا۔ اور اگر معتکف روزہ کی حالت میں سگریٹ پیے گا تو روزہ اور اعتکاف دونوں فاسد ہوجائیں گے، بعد میں ان دونوں کی قضا لازم ہوگی۔

سگریٹ پینے کے حوالہ سے درج ذیل فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

کیا سگریٹ پینا حرام ہے؟

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209201823
تاریخ04-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں