بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 جُمادى الأولى 1441ھ- 26 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

المیزان انویسٹمنٹ/ میوچل فنڈز میں سرمایہ کاری کا حکم


سوال

آپ کے فتوی نمبر : 144003200213 میں میزان انوسٹمنٹ کی بعض صورتوں کو ناجائز اور بعض کو جائز لکھا گیا ہے، جب کہ دوسرے فتوی 144004201098 میں میزان انوسٹمنٹ کو مطلقاً ناجائز بتلایا ہے، ان دونوں فتووں میں تضاد معلوم ہوتا ہے، اب اس میں کون سا فتویٰ ٹھیک ہے؟ اس کی تعیین فرمادیں!

جواب

مذکورہ دونوں جوابات میں سے 144003200213 جواب تفصٰیلی ہے۔ اور دوسرا جواب مطلق ہے ، چوں کہ بہت سی جگہوں پر شرائط کا لحاظ نہیں رکھا جاتا؛ اس لیے مطلق اور مختصر جواب لکھا گیا،  ورنہ تفصیلی جواب سے اپنی صورت معلوم کرلی جائے۔ فقط واللہ اعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

المیزان انویسٹمنٹ میں سرمایہ کاری کرنا (اسلامک میوچل فنڈز اور اسٹاک مارکیٹ کے شئیرز کا حکم)


فتوی نمبر : 144010200984

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے