بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

قومی بچت اسکیم میں سرمایہ کاری کا حکم


سوال

میری والدہ جو کہ بیوہ ہیں، تعلیمی اخراجات اٹھانے کی نیت سے اگر اپنے پیسے قومی بچت سکیم کے ادارے میں کچھ رقم منافع حاصل کرنے کے لیے رکھواتی ہیں تو کیا اس کو استعمال کرنا شرعاً ممنوع ہے؟ واضح رہے کہ وہ بتاتے نہیں یہ منافع ہم کون سے کاروبار میں لگاکر کر دے رہے ہیں، والدہ کو پنشن ملتی ہے اور میں ملازمت کرتا ہوں اور ہم قومی بچت سے اس لیے منافع لینا چاہ رہے ہیں کہ میرا بھائی جو کیڈٹ کالج میں پڑھتا ہے اس کی ساڑھے تین لاکھ روپے سالانہ فیس جاتی ہے اس کی فیس جاتی رہے اور ہمارے اخراجات بھی متاثر نہ ہوں۔

جواب

قومی بچت اسکیم سے حاصل ہونے والا نفع شرعاً سود ہے،اس لیے کہ  قومی بچت اسکیم کے ذریعہ جو سرمایہ کاری کی جاتی اس میں شرعی اصولوں کی رعایت نہیں کی جاتی، جو رقم اس مد میں جاتی ہے، اس کی حیثیت قرض کی ہوتی ہے اور اس پر جو منافع ملتا ہے  وہ سود ہے؛  اس لیے نیشنل سیونگ میں سرمایہ کاری جائز نہیں ہے، اور اس کا نفع حلال نہیں ہے ۔

تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لیے کوئی حلال اور جائز ذریعۂ آمدن اختیار کیا جائے اور سود اور اس کے شائبے سے احتراز کیا جائے، تعلیمی اخراجات مکمل نہ ہونے کی وجہ سے اگر تعلیم نامکمل رہ جائے تو آخرت میں اس کا کوئی وبال نہیں ہوگا لیکن اگر سود لے کر تعلیمی اخراجات پورے کرلیے گئے تو تعلیم تو مکمل ہوجائے گی مگر آخرت میں سود کا وبال ہوگا، لہذا چند روزہ دنیوی زندگی کے فائدے کے لیے اپنی آخرت (جو کہ دائمی ہے) خراب کرناعقل مندی نہیں ہے۔ 

مزید تفصیل اور اس کے متبادل طریقوں سے متعلق تفصیل کے لیے  جامعہ کی ویب سائٹ پر شائع شدہ فتوی نمبر : 144108200631 ملاحظہ فرمائیں، جس کا لنک درج ذیل ہے:

قومی بچت اسکیم کا منافع حرام ہے تو ناتجربہ کار ریٹائرڈ آدمی کیا کرے؟

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144408102331

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں