بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 ذو القعدة 1441ھ- 03 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

عصر کے بعد جنازہ پڑھنا


سوال

سنا ہے کہ عصر کے بعد نوافل نہیں پڑھنے چاہییں، آیتِ سجدہ کا سجدہ نہیں کرنا چاہیے۔ بعض لوگوں کو نماز جنازہ پڑھتے ہوئے بھی دیکھا ہے، کیا جنازہ پڑھنا صحیح ہے؟

جواب

وہ ممنوعہ اوقات جن میں ہر طرح کی نماز  (بشمول نمازِ جنازہ، قضا اور نوافل و سجدۂ تلاوت) ادا کرنا منع ہے، تین ہیں:

(1)عین طلوعِ شمس سے لے کر اشراق کا وقت ہونے تک۔

(2) عصر کے بعد سورج زرد ہوجانے سے لے کر غروب ہونے تک (سورج زرد پڑنے کے بعد غروب سے پہلے صرف اسی دن کی عصر کی نماز ادا کرنے کی اجازت ہے)۔

(3)  استواءِ شمس کا وقت، جب دن کے وقت سورج بالکل سر پر آجائے، احتیاطاً اس سے پہلے اور بعد میں پانچ پانچ منٹ نماز نہ ادا کی جائے۔

اس کے علاوہ اوقات میں نمازِ جنازہ اور سجدۂ تلاوت منع نہیں ہے، بلکہ بلاکراہت جائز ہے، اس لیے عصر کی نماز کے  بعد سورج زرد پڑجانے سے پہلے پہلے نمازِ جنازہ میں کسی قسم کی کراہت نہیں ہے، اور عموماً نمازِ عصر کے بعد جنازہ کی نماز اسی وقت میں ادا کی جاتی ہے۔ نیز سجدۂ تلاوت بھی عصر اور فجر کے بعد منع نہیں ہے۔

یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ جنازہ  اور سجدۂ تلاوت کی مذکورہ بالا تین اوقات میں ممانعت اس وقت ہے جب کہ جنازہ ان اوقات سے پہلے تیار ہوکر آچکا ہو اور تاخیر کر کے ان اوقات میں پڑھایا جائے، یا آیتِ سجدہ پہلے پڑھی جائے اور اس وقت سجدہ نہ کیا جائے، مذکورہ تین اوقات میں سے کوئی مکروہ وقت آنے کے بعد کیا جائے، لیکن اگر جنازہ تیار ہوکر ان ہی اوقات میں حاضر ہوجائے  یا تلاوت کرتے کرتے عین اسی وقت آیتِ سجدہ آجائے تو پھر تاخیر کرنے کے بجائے ان ہی اوقات میں  جنازہ پڑھادینا چاہیے اور سجدۂ تلاوت کرلینا چاہیے، اس صورت میں کوئی کراہت نہیں ہوگی۔

ہاں یہ بات درست ہے کہ عصر کی نماز کے بعد سے مغرب کا وقت ہونے تک نوافل ادا کرنے کی شرعاً اجازت نہیں ہے، یہاں تک کہ طواف کی دو رکعت بھی بعد نمازِ عصر ادا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 370):

" قوله: أي تحريماً، فإنه إذا كان الأفضل عدم التأخير في الجنازة فلا كراهة أصلاً، وما في التحفة أقره في البحر والنهر والفتح والمعراج حضرت " وقال في شرح المنية: والفرق بينها وبين سجدة التلاوة ظاهر؛ لأن تعجيل فيها مطلوب مطلقا إلا لمانع، وحضورها في وقت مباح مانع من الصلاة عليها في وقت مكروه، بخلاف حضورها في وقت مكروه وبخلاف سجدة التلاوة؛ لأن التعجيل لايستحب فيها مطلقًا اهـ أي بل يستحب في وقت مباح فقط فثبتت كراهة التنزيه في سجدة التلاوة دون صلاة الجنازة".

''فتاوی ہندیہ'' میں ہے:

''( الفصل الثالث في بيان الأوقات التي لا تجوز فيها الصلاة وتكره فيها ) ثلاث ساعات لا تجوز فيها المكتوبة ولا صلاة الجنازة ولا سجدة التلاوة: إذا طلعت الشمس حتى ترتفع وعند الانتصاف إلى أن تزول وعند احمرارها إلى أن يغيب إلا عصر يومه ذلك فإنه يجوز أداؤه عند الغروب''۔(2/257)

تفصیل کے لیے جامعہ کا فتوی ملاحظہ کریں :

 مکروہ وقت میں جنازہ پڑھنا

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106201297

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں