بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

اسٹاک ایکسچینج والے میچول فنڈ میں پیسے رکھنا


سوال

1.  میزان اسلامک بینک کے  سٹاک ایکچینج والے میچول فنڈ میں نفع و نقصان میں شراکت کی بنیاد پر روپے رکھنا کیسا ہے؟

2.  صکوک بانڈ کی تعریف اور شرعی حیثیت بیان فرمائیں؟

جواب

1. اہلِ فقہ وفتوی کی ایک بڑی تعداد کی رائے کے مطابق میزان بینک کے میوچل فنڈز میں سرمایہ کاری جائز نہیں ہے۔

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر تفصیلی فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

المیزان انویسٹمنٹ میں سرمایہ کاری کرنا (اسلامک میوچل فنڈز اور اسٹاک مارکیٹ کے شئیرز کا حکم)

2. پرائز بانڈ کی خرید وفروخت اور اس پر ملنے والا انعام تو  ناجائزا ور حرام ہے،  اس میں سود اور جوا پایا جاتا ہے۔  البتہ صکوک بانڈ  (اسلامی بانڈ) کا حکم  جاننے کے لیے اس کی مکمل تفصیل درکار ہو گی، اگر آپ کے پاس موجود ہو تو اس سے آگاہ کر دیں پھر اس کا جواب دے دیا جائے گا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200206

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے