بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 صفر 1442ھ- 26 ستمبر 2020 ء

بینات

 
 

حضرت علّامہ بنوری رحمۃ اللہ علیہ  ایک بلند پایہ محدّث، مایۂ ناز ادیب اور خدا ترس مہتمم (دوسری قسط)

حضرت علّامہ بنوری رحمۃ اللہ علیہ 

ایک بلند پایہ محدّث، مایۂ ناز ادیب اور خدا ترس مہتمم

(دوسری قسط)

 

دارالعلوم دیوبند میں داخلہ اور حضرت علّامہ کشمیریؒ سے وابستگی

ابتدائی اور متوسّط درجات کی تعلیم کے بعد حضرت علّامہ بنوری  رحمۃ اللہ علیہ  نے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے مشہور ومعروف دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند کا رخ کیا، جہاں ۱۳۴۵ھ کو آپ کا داخلہ ہوا اور تقریباً دو سال دارالعلوم دیوبند میں قیام فرماکر درجہ موقوف علیہ تک تعلیم مکمل کرلی۔ دارالعلوم دیوبند میں اس وقت کے شیخ الحدیث وصدر المدرسین حضرت علّامہ سید محمد انور شاہ کشمیری  رحمۃ اللہ علیہ  سے بے حد متاثر ہوئے، اور تاریخ نے یہ ثابت کردیا ہے کہ باوقار وباصلاحیت شخصیت بننے کے لیے کسی عظیم اور رجال ساز شخصیت کی خصوصی صحبت ونسبت درکار ہوتی ہے۔ ماضی بعید میں تو اس کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں، اور اگر ماضی قریب میں بھی دیکھا جائے تو یہ صاف نظر آتا ہے کہ حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی  رحمۃ اللہ علیہ  کو حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی قدس سرہٗ کی صحبت نے شیخ الہند بنادیا اور حضرت شیخ الہندؒ کی صحبت نے حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کو حکیم الامت اور حضرت علّامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کو محدّث العصر اور حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی  ؒ کو شیخ الاسلام بنادیا۔
اسی حقیقت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ  کے دل میں بھی حضرت علّامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کی خصوصی صحبت کے حصول اور ان کے دامنِ فیض سے وابستہ ہونے کی تمنا پیدا ہوئی! اس مقصد کے حصول کے لیے انہوں نے ایک دفعہ فصیح وبلیغ عربی زبان میں ایک مفصل عریضہ لکھ کر حضرت علّامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کی خدمت میں پیش کیا، جس میں ان سے استدعا کی گئی تھی کہ مجھے اپنا خادم بنالیں۔ حضرت علّامہ کشمیریؒ نے عریضہ پڑھ کر ایک مشہور مصرع ’’قدرِ زر زرگر بداند قدرِ گوہر گوہری‘‘ کے مطابق حضرت بنوریؒ کے اندرونی جوہر کو بھانپ لیا اور عریضہ اپنے پاس رکھ کر دوسرے فارغ وقت میں ملنے کو کہا۔ حضرت بنوریؒ جب مقررہ وقت پر ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت علّامہ کشمیریؒ نے ان سے پہلا سوال یہ کیا کہ: ’’عربی ادب کہاں پڑھا ہے؟‘‘ حضرت بنوریؒ نے عرض کیا کہ: ’’کہیں نہیں‘‘، حضرت علّامہؒ نے فرمایا: ’’بس آپ کو حاجت نہیں، اتنا کافی ہے۔‘‘ اور یہ بھی فرمایا کہ: ’’میں آپ کو اپنے ساتھ ملحق کرلوں گا۔‘‘ یہیں سے حضرت علّامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ سے حضرت بنوریؒ کی خصوصی وابستگی کا آغاز ہوا۔

اپنے استاذ حضرت علّامہ کشمیریؒ کے ساتھ دیوبند سے ڈابھیل منتقلی

اللہ تعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ علمائے دیوبند کے علوم کی برکات سے ’’گجرات‘‘ کا دور افتادہ علاقہ جو ایک بدعت کدہ بناہوا تھا‘ براہِ راست منور ہوجائے اور بدعات وخرافات کے بجائے اس علاقہ میں سنت وعلومِ نبوت کو پھیلنے کا موقع ملے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ اس طرح ظاہر ہوا کہ دارالعلوم دیوبند کے اندر اربابِ انتظام اور بعض اساتذہ کے درمیان اختلاف پیدا ہوا، جس کے نتیجے میں حضرت علّامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒاور چند دیگر اساتذۂ کرام نے استعفے پیش کردیئے، اور حضرت شاہ صاحبؒ کا ارادہ یہ تھا کہ تدریس کو خیرباد کہہ کر بقیہ زندگی یکسوئی کے ساتھ مطالعہ کرنے اور دیگر انفرادی علمی مشاغل کے ساتھ گزاریںگے، لیکن اللہ تعالیٰ کو کچھ اور منظور تھا، چنانچہ ہرطرف سے دینی اداروں کے منتظمین حضرات ان کو اپنے اپنے اداروں میں تدریس کی دعوت دینے لگے، بالآخر یہ سعادت صوبہ گجرات میں واقع ’’مدرسہ تعلیم الدین-ڈابھیل‘‘ کو نصیب ہوئی اور حضرت علّامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ نے اس کی طرف سے پیش کی گئی درخواست کو منظور فرمایا اور ’’دیوبند‘‘ سے ’’ڈابھیل‘‘ منتقل ہوکر ’’مدرسہ تعلیم الدین‘‘ کے اندر خدمتِ حدیث میں مصروف ہوگئے، آپ کے ساتھ چند دیگر اساتذۂ کرام اور ایک اچھی خاصی تعداد کے طلبہ بھی دیوبند سے ڈابھیل منتقل ہوگئے، جن میں آپ کے خادمِ خاص حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ  بھی شامل تھے۔
جب حضرت علّامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ اور آپ کے رفقاء ’’مدرسہ تعلیم الدین- ڈابھیل‘‘ منتقل ہوگئے اور اپنی خداداد صلاحتیں بروئے کار لانے اور اپنے علمی جواہر پھیلانے لگے تو ہر طرف سے تشنگانِ علمِ نبوت ان کے ارد گرد جمع ہونے لگے اور ’’مدرسہ تعلیم الدین‘‘ ترقی کے راستے پر گامزن ہوکر ’’جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین‘‘ بن گیا اور ’’دارالعلوم دیوبند‘‘ کے بعد برِ صغیر کے دیگر مشہور دینی اداروں میں اس کا شمار ہونے لگا اور اس کے فیوض و برکات سے صرف اہلِ گجرات ہی نہیں‘ دیگر علاقوں کے لوگ بھی مستفید ہونے لگے۔ دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے ’’دارالعلوم دیوبند‘‘ میں حضرت علّامہ سید محمد انور شاہ کشمیری قدس سرہٗ کی منتقلی سے پیدا شدہ عظیم خلاء کو پر کرنے کے لیے شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی قدس سرہٗ کا انتخاب فرمایا، جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے حضرت علّامہ کشمیریؒ اور اپنے عظیم استاذ حضرت شیخ الہندؒ کی جانشینی کا حق ادا کرتے ہوئے دارالعلوم دیوبند کو احساسِ محرومی سے بچایا اور اکتیس سال تک شیخ الحدیث وصدر المدرسین کی حیثیت سے دارالعلوم دیوبند کے طلبہ کی علمی و اصلاحی خدمت میں مصروف رہے۔
اس واقعے سے یہ اندازہ لگانا بھی آسان ہوجاتاہے کہ علمائے حق کا اختلاف چونکہ ذاتی مفادات و مقاصد کے لیے نہیں ہوتا، بلکہ دینی اہداف تک پہنچنے کے لیے ان میں سے ہر ایک جس راستے کو بہتر سمجھتا ہے‘ اسے اختیار کرلیتا ہے، اس لیے ان کا اختلافِ انتشار کے بجائے بالآخر اُمت کے لیے رحمت بن کر مثبت نتائج کا سبب بن جاتا ہے۔

مدرسہ تعلیم الدین ڈابھیل سے فراغت اور حضرت علّامہ کشمیریؒ سے خصوصی استفادہ

محدّث العصر حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کی مردم شناس نگاہوں نے جب حضرت بنوریؒ کی علمی صلاحیتوں اور دینی جذبات کو شناخت کرلیا تو ان کو خصوصی توجہ سے نوازا اور سفر وحضر میں ان کو اپنے ساتھ ہی رکھنے کا اہتمام فرمایا، چنانچہ حضرت بنوریؒ کو ’’مدرسہ تعلیم الدین- ڈابھیل‘‘ کی دارالحدیث میں اپنے استاذ مکرم حضرت علّامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ سے عمومی استفادے کے ساتھ ساتھ ان کے مخصوص اوقات میں خصوصی استفادے کا موقع بھی میسر رہا۔ حضرت علّامہ کشمیریؒ اُن پر بڑا اعتماد فرماتے تھے اور اپنی بعض تالیفات کی روایتوں کی تخریج کا کام ان کے حوالہ کردیا تھا۔ حضرت علّامہ بنوریؒ نے اپنے شیخ کے حکم کے مطابق دن رات ایک کرکے ان روایات کی تخریج اور اصلی مراجع کی طرف رجوع کرنے کا اہتمام کرتے ہوئے اپنے شیخ کے منشأ کے مطابق کام کیا اور اس دوران چوبیس گھنٹوں کے اندر صرف دوڈھائی گھنٹے آرام کرنے پر اکتفا کرتے رہے۔ اپنے شیخ کی صحبت، خصوصی توجہ اور اپنی انتھک محنت کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے حضرت بنوریؒ کو اپنے شیخ کے رنگ میں رنگ دیا اور ۱۳۴۷ھ کو ’’مدرسہ تعلیم الدین- ڈابھیل‘‘ میں حضرت علّامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ، حضرت علّامہ شبیر احمد عثمانیؒ اور حضرت مولانا عبد الرحمن امروہویؒ جیسے اساتذۂ کرام کے پاس دورۂ حدیث کی تکمیل کرتے ہوئے امتحانِ سالانہ میں پہلی پوزیشن کے ساتھ فراغت حاصل کی، اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے اہل علم نے ان کو اپنے شیخ حضرت علّامہ سید محمد انور شاہ صاحب کشمیریؒ کے علوم کا امین اور ان کا جانشین قرار دیتے ہوئے ممتاز مفسر، جلیل القدر محدّث، عظیم الشان فقیہ، بلندپایہ محقق اور عالی مقام ادیب جیسے القاب سے نوازا۔ ان تمام ترقیوں کی بنیادی وجہ اللہ تعالیٰ کے خصوصی فضل و کرم کے بعد اپنے شیخ حضرت شاہ صاحبؒ سے حضرت بنوریؒ کی مخلصانہ وابستگی اور اپنی اَنتھک محنت ہے۔ کسی شاعر نے خوب کہا ہے:

بقدر الکدّ تُکتَسَب المعالي

ومن طلب العُلٰی سَہَر اللیالي
تروم العزَّ ثــــــم تنام لیلاً!

یغوص البحرَ من طلب اللاٰلي
ومن رام العُلٰی من غیر کدٍّ

أضاع العمرَ في طلب المحالٖ

ترجمہ و مفہوم

۱:-بلند مقامات محنت کے مطابق حاصل کیے جاسکتے ہیں، اور جس شخص کو ترقی کی خواہش ہوتی ہے، وہ راتوں کو جاگتاہے۔
۲:-یہ تعجب کی بات ہے کہ آپ کو ترقی بھی چاہیے اور رات کو سکون کی نیند بھی! حالانکہ جس کو موتیوں کی تلاش ہو، وہ دریا میں غوطہ زنی کرتاہے۔
۳:- اور جو شخص محنت کے بغیر ترقی کا طلبگار ہوتا ہے، وہ ایک ناممکن کی تلاش میں اپنی عمر ضائع کررہا ہوتا ہے۔

فراغت کے بعد پشاور واپسی

’’مدرسہ تعلیم الدین- ڈابھیل‘‘ سے فراغت کے بعد حضرت بنوریؒ اپنے وطن پشاور واپس تشریف لائے اور اپنے والد ماجد کی خواہش پر صرف ایک ماہ کی قلیل مدت میں تیاری کرکے پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا اور چار سال تک پشاور میں جمعیۃ العلماء کے پلیٹ فارم پر سیاسی ودینی خدمات انجام دینے کے ساتھ ساتھ ’’مدرسہ رفیع الاسلام بھانہ ماڑی‘‘ میں تدریس کے فرائض بھی انجام دیتے رہے، اس دوران ان کو جمعیۃ العلماء پشاور کا صدر بھی بنادیا گیا، لیکن چونکہ ان کا مزاج اپنے محبوب استاذ حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کی طرح خالص علمی تھا اور اللہ تعالیٰ ان سے تصنیف وتدریس کے میدان میں کام لینا چاہتا تھا، اس لیے سیاست سے ان کے دل کو پھیر دیا، جس کے بعد انہوں نے سیاست سے مکمل یکسوئی اختیار کرلی اور اپنی جوانی کی چار سالہ اُس زندگی پر جو سیاست کی نذر ہوگئی تھی، بعد میں اظہارِ افسوس بھی فرماتے تھے، چنانچہ حضرت بنوریؒ کے دیرینہ رفیق و مخلص دوست حضرت مولانا لطف اللہ پشاوریؒ جو آپ کے ساتھ ہی دارالعلوم دیوبند میں داخل ہوئے تھے اور ایک ہی حجرہ میں دونوں کی رہائش تھی اور ’’جامعہ علوم اسلامیہ علّامہ بنوری ٹاؤن‘‘ کے ابتدائی صبر آزما ایام میں آپ ہی کی دعوت پر تشریف لاکر جامعہ کے مدرس بن گئے تھے، وہ حضرت بنوریؒ کے بارہ میں لکھتے ہیں: ’’کراچی کے مدرسے میں جب میں ان کا رفیق کار تھا تو مولانا اکثر مجھ سے بطورِ شکایت فرمایا کرتے تھے کہ: تم مجھے سیاست کی گندی گلی میں گھسیٹ کر لے گئے تھے، مگر دیکھو! میں تم کو علم کے بازار میں گھسیٹ کر لایا ہوں۔‘‘
سیاست سے حضرت بنوریؒ کی کنارہ کشی اور سیاست کے اندر گزری ہوئی چارسالہ زندگی پر ان کا اظہارِ افسوس اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سیاست اگرچہ مسلمانوں کی اہم ضروریات میں سے ہے اور مسلمانوں کی ایک متبعِ شریعت جماعت کا اس سے وابستہ ہونا بھی ضروری ہے، تاہم یہ بھی طے شدہ ہے کہ تدریس وتعلیم، تصنیف وتالیف اور دیگر علمی مصروفیات‘ سیاسی مصروفیت کے ساتھ کامیابی کے ساتھ نہیں چل سکتیں۔ اگر حضرت بنوریؒ سیاست سے کنارہ کش ہوکر پوری توجہ تدریس وتعلیم، تصنیف وتالیف اور جامعہ علوم اسلامیہ کی تاسیس وانتظام پر مرکوز نہ فرماتے تو شاید آج ہمارے سامنے نہ تو ’’معارف السنن‘‘ اور آپ کی دیگر تحقیقی تصانیف ہوتیں اور نہ ہی ’’جامعہ علوم اسلامیہ علّامہ بنوری ٹاؤن‘‘ جیسا مایۂ ناز دینی ادارہ ہوتا۔
لہٰذا! مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے علمی وتحقیقی صلاحتیں اور ان سے رغبت کی دولت نصیب فرمائی ہو‘ ان کو سیاست سے یکسو ہوکر تدریس و تعلیم، تصنیف و تالیف اور اصلاح و تربیت کے ذریعے دین کی خدمت کرنی چاہیے، اور جن کو اللہ تعالیٰ نے سیاسی بصیرت اور اس میدان سے دلچسپی عطا کی ہو‘ ان کو دیانت داری وامانت داری کے ساتھ اسلامی سیاست کے ذریعے دینِ اسلام اور مسلمانوں کی خدمت انجام دینے کی کوشش کرنی چاہیے، اور ان میں سے کسی کو بھی دوسرے کی مخالفت یا اس کے خلاف محاذ بنانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل میں تدریس

اوپر عرض کیا جاچکا ہے کہ ’’مدرسہ تعلیم الدین- ڈابھیل‘‘ کو محدّث العصر حضرت علّامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ اور ان کے رفقاء کے ورودِ مسعود سے بڑی ترقی ملی تھی اور وہ کچھ ہی عرصے کے اندر ’’جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین‘‘ کے نام سے مشہور و معروف ہونے لگا تھا، لیکن ۱۳۵۲ھ کو حضرت شاہ صاحبؒ کا انتقال ہوا اور ۱۳۵۴ھ کو حضرت علّامہ شبیر احمد عثمانیؒ ’’دارالعلوم دیوبند‘‘ کے اربابِ انتظام کی دعوت پر واپس دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے، جس کی وجہ سے ’’جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین‘‘ میں بڑا خلا پیدا ہوگیا، اس خلا کو پُر کرنے کے لیے اربابِ انتظام کی نظر مذکورہ دونوں حضرات کے ہونہار شاگرد اور ’’جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین‘‘ کے مایۂ ناز فاضل حضرت علّامہ سید محمد یوسف بنوریؒ پر پڑی اور ان کو جامعہ میں تدریسِ حدیث کا فریضہ انجام دینے اور مجلسِ علمی کے رکن کی حیثیت سے تحقیقی کام کرنے کی دعوت دی۔ حضرت بنوریؒ نے اپنی مادرِ علمی کی خدمت کو سعادت سمجھتے ہوئے دعوت قبول کرلی اور پشاور سے ڈابھیل منتقل ہوگئے۔
’’جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین‘‘ میں حضرت علّامہ بنوریؒ کو تدریس کے ساتھ ساتھ ’’العَرْف الشذيّ شرح سنن الترمذيّ‘‘ کے حوالوں کی تخریج کا کام بھی سپرد کیاگیا،اس کے بعد مجلسِ علمی نے آپ کو حضرت مولانا احمد رضا صاحب بجنوریؒ (داماد حضرت علّامہ کشمیریؒ) کی معیت میں ’’فیض الباري شرح صحیح البخاري‘‘ اور ’’نصب الرایۃ في تخریج أحادیث الہدایۃ‘‘ کی طباعت کے لیے مصر بھیجا۔ حضرت علّامہ بنوریؒ نے جہاں ان دونوں کتابوں کی نہایت عمدہ طباعت کروائی، وہاں دوسرا بڑا کار نامہ یہ سرانجام دیا کہ علمائے ازہر اور مصر کے دیگر علماء کے سامنے اپنی فصیح وبلیغ عربی زبان اور علمی انداز میں علماء دیوبند اور بالخصوص شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ، محدّث العصر حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ، حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ اور شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ وغیرہ کا تعارف کرایا اور ان کے علمی، تحقیقی، تصنیفی، ملی اور اصلاحی کارناموں سے انہیں آگاہ کردیا جو علماء ہند اور علمائے مصر کے درمیان نقطۂ اتصال واقع ہوا۔
اسی سفر میں مشہور ومعروف حنفی عالم حضرت علّامہ محمد زاہد کوثریؒ سے بھی ملاقات کا شرف حاصل کیا اور ان سے اجازتِ حدیث لی اور ان کے سامنے علمائے دیوبند کا تعارف پیش کیا، جس سے حضرت علّامہ کوثریؒ بہت متاثر ہوئے اور حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ (جو اس وقت بقیدِحیات تھے) کی خدمت میں اجازتِ حدیث کے لیے عریضہ لکھا اور حضرت تھانویؒ نے انہیں اجازتِ حدیث مرحمت فرمائی۔
مصر سے واپسی پر حضرت علّامہ سید محمد یوسف بنوریؒ کو ’’جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین‘‘ کے اربابِ انتظام نے اپنے استاذ حضرت علّامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ اور دوسرے استاذ حضرت علّامہ شبیر احمد عثمانیؒ کا صحیح جانشین اور ان کے علوم کا وارث وامین سمجھ کر شیخ الحدیث وصدر المدرسین کے اعلیٰ علمی منصب پر فائز فرمادیا۔ اس دوران ’’دارالعلوم دیوبند‘‘ کی طرف سے بھی حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ، شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ اور حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ کی طرف ے درجہ علیا کی مدرسی کی پیش کش کی گئی، لیکن انہوں نے معذرت کرتے ہوئے ’’جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین‘‘ میں حدیث کی خدمت جاری رکھنے کو ترجیح دی۔

ملک کی تقسیم کے بعد پاکستان تشریف آوری

حضرت بنوریؒ ’’جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین- ڈابھیل‘‘ میں حضرت علّامہ کشمیریؒ اور حضرت علّامہ عثمانیؒ کے جانشین کے طور پر شیخ الحدیث وصدر المدرسین کی حیثیت سے خدمتِ حدیث میں مصروفِ عمل تھے کہ ملک تقسیم ہوگیا، جس کے نتیجے میں مسلمانوں کا ایک مستقل ملک پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔ اس کے بعد یہ مشکل صورتِ حال پیدا ہوگئی کہ جس خطہ میں پاکستان بناتھا‘ وہاں دینی مدارس نہ ہونے کے برابر تھے اور جہاں جہاں مشہور ومعروف دینی مراکز تھے، جیسے دارالعلوم دیوبند، مظاہر علوم سہارنپور وغیرہ‘ وہ خطے ہندوستان کے حصے میں آئے تھے، جہاں پاکستانی طلبہ کے لیے راستے مسدود ہوگئے تھے۔
اُدھر حضرت علّامہ بنوریؒ کے استاذ حضرت علّامہ شبیر احمد عثمانیؒ اور حضرت علّامہ کشمیریؒ کے ایک اور خصوصی شاگرد حضرت مولانا بدرِ عالم میرٹھیؒ جو حضرت علّامہ بنوریؒ کے مخلص دوستوں میں سے تھے‘ یہ دونوں حضرات پاکستان منتقل ہوگئے تھے۔ مذکورہ بالا دونوں حضرات اور چند دیگر علماء نے اصرار کے ساتھ حضرت علّامہ بنوریؒ کو پاکستان منتقل ہونے کی دعوت دی، اس لیے کہ اس نومولود اسلامی ملک میں دینی تعلیم وتربیت کے لیے ان جیسے اہلِ علم واصحابِ تقویٰ حضرات کی سخت ضرورت تھی۔ حضرت علّامہ بنوریؒ نے ان کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے ۱۳۷۰ھ مطابق ۱۹۵۱ء کو پاکستان ہجرت فرمائی اور ان ہی حضرات کے مشورے سے ’’دارالعلوم الاسلامیہ ٹنڈوالہ یار‘‘ ضلع حیدر آباد سندھ سے بحیثیت شیخ التفسیر وابستہ ہوگئے، جہاں تین سال تک تشنگانِ علم تفسیر وحدیث کو سیراب فرماتے رہے۔

اللہ تعالیٰ کے توکل وبھروسے پر مدرسہ عربیہ اسلامیہ کی تاسیس

’’دارالعلوم الاسلامیہ ٹنڈوالہ یار‘‘ میں حضرت علّامہ بنوریؒ نے تین سال تک کام کیا، لیکن وہاں کے ماحول سے آپ مطمئن نہ ہوسکے اور ۱۳۷۳ھ کو سفرِ حج پر روانہ ہوئے، مکہ مکرمہ میں بیس دن اور مدینہ منورہ بتیس دن قیام فرمایا، اس دوران قبولیتِ دعا کے خصوصی مقامات ومبارک گھڑیوں میں دینی خدمت کے لیے اپنے مستقبل کے مناسب لائحۂ عمل کے حق میں دعائیں بھی کیں اور استخارے بھی فرمائے، جن کے بعد ’’دارالعلوم الاسلامیہ ٹنڈوالہ یار‘‘ سے مستعفی ہونے اور اللہ کے توکل وبھروسے پر ایک نئے مدرسے کی بنیاد ڈالنے کا ارادہ پختہ ہوگیا اور واپسی پر مدرسہ ٹنڈوالہ یار کو اپنا استعفاء پیش کیا اور ایک مستقل مدرسہ بنانے کا ارادہ فرمایا۔
حضرت علّامہ سید محمد یوسف بنوریؒ کے پاس مستقل نئے مدرسے کے لیے نہ تو جگہ تھی اور نہ ہی وسائل! اس لیے تقریباً ایک سال اس شش وپنج میں گزرا کہ نیا مدرسہ کہاں پر اور کس طرح قائم کیا جائے؟ اسی اثناء میں ایک صاحبِ ثروت مخلص شخص حاجی یوسف سیٹھی صاحب جنہوں نے اپنی دولت قرآن کریم اور دینی تعلیم عام کرنے کے لیے وقف کی تھی، آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تقریباً پچاس ہزار روپے کی رقم (جو اس زمانے میں ایک خطیر رقم سمجھی جاتی تھی) اس مقصد کے لیے پیش کی کہ آپ اور حضرت مولانا عبد الرحمن کامل پوریؒ دونوں مل کر نیا ادارہ قائم فرمائیں اور یہ رقم آپ دونوں حضرات کے ذاتی مصارف کے لیے پانچ سال تک کافی ہوگی۔ آپ حضرات کام شروع کریں اور معاش کی طرف سے بے فکر رہیں۔ لیکن حضرت بنوریؒ نے اسے توکل علی اللہ اور اخلاص کے منافی سمجھتے ہوئے یہ کہہ کر قبول کرنے سے معذرت کردی کہ مدرسہ کی بنیاد رکھنے سے پہلے میں کسی کی معاونت قبول نہیں کرسکتا، ہاں مدرسہ کے افتتاح کے بعد جو معاونت ہوگی‘ شکریہ کے ساتھ قبول کی جائے گی۔ حاجی یوسف سیٹھی صاحب نے کافی اصرار بھی کیا، لیکن حضرت بنوریؒ نے پھر بھی ان کی امداد قبول نہیں فرمائی۔
بہرصورت! حضرت علّامہ بنوریؒ نے دعاؤں اور استخاروں کے بعد یہ تو طے کر ہی لیا تھا کہ کوئی مستقل دینی ادارہ بنایاجائے، البتہ اس اہم کام کے لیے کوئی مناسب مقام دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے وہ کافی فکر مند تھے! اسی دوران انہوں نے ایک دفعہ دیکھا کہ محلہ نیو ٹاؤن میں ایک وسیع مسجد زیرِ تعمیر ہے اور مسجد کے ساتھ ہی زمین کا ایک خالی ٹکڑا بھی موجود ہے، جس پر منتظمینِ مسجد مستقبل میں مدرسہ بنانا چاہتے ہیں، اس وسیع زیرِ تعمیر مسجد کے ساتھ ملحقہ زمین کا خالی ٹکڑا حضرت علّامہ بنوری ؒ کو پسند آیا اور مدرسہ بنانے کے لیے اسے موزوں سمجھا، چنانچہ انہوں نے منتظمین حضرات کو یہ پیش کش کی کہ جس ٹکڑے پر آپ حضرات مستقبل میں مدرسہ بنانا چاہتے ہیں وہ میرے حوالے کردیں، تاکہ میں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اس پر ابھی سے مدرسہ بنانے کی کوشش کروں، اور ساتھ ساتھ صاف الفاظ میں یہ فرمایا کہ: میں آپ حضرات سے زمین کی حوالگی کے علاوہ مزید کسی قسم کے تعاون کا خواہاں نہیں ہوںگا۔
منتظمینِ مسجد چونکہ مخلص قسم کے تاجر پیشہ حضرات تھے اور مدرسہ بنانے اور اس سے متعلقہ امور کا تجربہ نہیں رکھتے تھے، اس لیے انہوں نے حضرت علّامہ بنوریؒ کی مذکورہ پیش کش کو نصرتِ خداوندی سمجھ کر بخوشی قبول کیا اور زمین کا مذکورہ ٹکڑا اور مدرسہ کا انتظام وانصرام متفقہ طور پر ان کے سپرد کردیا۔
اس کے بعد حضرت علّامہ بنوریؒ اپنے مخلص ودیرینہ رفیق حضرت مولانا لطف اللہ پشاوریؒ اور درجۂ تکمیل کے دس طلبہ کے ساتھ جامع مسجد نیوٹاؤن منتقل ہوگئے۔ مسجد چونکہ ابھی زیرِ تعمیر تھی، اس لیے وہ صرف چھت اور دیواروں پر مشتمل ایک ڈھانچے کی شکل میں تھی، اس کے ساتھ غسل خانے اور بیت الخلاء کا کوئی انتظام نہیں تھا اور نہ ہی اس کے دروازوں میں کواڑ تھے۔ وضوکرنے کے لیے عارضی طور پر چند ٹوٹیاں لگی ہوئی تھیں، مسجد کے احاطہ میں ٹین کی چھت کا صرف ایک حجرہ تھا، جس میں حضرت علّامہ سید محمد یوسف بنوریؒ اور حضرت مولانا لطف اللہ پشاوریؒ نے اپنا مختصر سامان رکھ دیا۔ رفعِ حاجت اور رات کو آرام کرنے کے لیے دونوں حضرات کو مسجد سے چند فرلانگ کے فاصلے پر واقع ان کے ایک مخلص دوست حاجی محمد یعقوب صاحب کے مکان پر جانا پڑتا تھا۔
طلبہ نے اپنا مختصر اور ضروری سامان مسجد میں رکھ دیا اور سرِدست مسجد ہی میں حضرت علّامہ سید محمد یوسف بنوریؒ اورحضرت مولانالطف اللہ پشاوریؒ پر مشتمل دو اساتذۂ کرام اور ان کے دس طلبہ سے تدریس کا آغاز ہوا۔ طلبہ دن میں مسجد کے اندر پڑھتے اور مطالعہ کرتے اور رات کو مسجد ہی میں آرام کرتے اور رفعِ حاجات کے لیے مسجد سے کافی دور جانا پڑتا۔ طلبہ کے خورد ونوش کا چونکہ کوئی انتظام نہیں تھا، اس لیے حضرت علّامہ بنوریؒ نے تین سو روپے کسی سے قرض لے کر تیس روپے فی کس ماہانہ وظیفہ کے طور پر طلبہ میں تقسیم کردیئے، اور دونوں اساتذۂ کرام نے اللہ پر توکل کرتے ہوئے بغیر کسی معاوضہ کے پڑھانا شروع فرمایا۔
مسجد کے دروازوں میں چونکہ کواڑ نہیں تھے، اس لیے چند دفعہ طلبہ کا سامان چوری ہوگیا۔ اس صورتِ حال کو دیکھ کر حضرت بنوریؒ نے پھر کسی سے قرض لے کر ایک کمرہ طلبہ کے لیے بنوایا۔ حضرت بنوریؒ اپنے اہل وعیال کے ضروری اخراجات کے لیے جو کراچی میں رہائش میسر نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک ٹنڈوالہ یارمیں تھے ، کسی سے قرض لے کر اور کچھ اپنی ذاتی نایاب کتابیں فروخت کرکے انتظام فرما رہے تھے، انہوں نے یہ طے کردیا تھا کہ مدرسے کا نظام چلانے کے لیے کسی سے چندہ کی اپیل نہیں کی جائے گی، ہاں! اگر اللہ تعالیٰ نے خود کسی کے دل میں یہ ڈالا کہ مدرسہ کے ساتھ تعاون کیاجائے تو اس کے تعاون کو باعثِ برکت سمجھ کر قبول کیا جائے گا۔ اس بے سروسامانی کی حالت میں محض اللہ تعالیٰ کے توکل واعتماد پر ماہِ محرم ۱۳۷۴ھ مطابق ۱۹۵۴ء میں اس مدرسے کا آغاز ہوا، جو وقت گزرنے کے ساتھ ’’دارالعلوم دیوبند‘‘ کے بعد برِصغیر کے سب سے مشہور ومعروف دینی اداروں میں شمار ہونے لگا۔
واضح رہے کہ حضرت علّامہ بنوریؒ نے اس مدرسے کے آغاز میں جس محنت وقربانی سے کام لیا ہے اور جو قسم قسم کی مشقتیں برداشت فرمائی ہیں، یہ ان کی جوانی کا زمانہ نہیں تھا، جس میں انسان کو محنت کرنے اور بھاگ دوڑ سے کام لینے میں زیادہ دشواری محسوس نہیں ہوتی، بلکہ انہوں نے یہ مشقتیں اپنی زندگی کے اس حصے میں برداشت کی ہیں، جس وقت ان کی عمر تقریباً اڑتالیس سال کی ہوچکی تھی، اور اس سے پہلے وہ ’’جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین- ڈابھیل‘‘ میں شیخ الحدیث وصدر المدرسین کی حیثیت سے اور ’’دارالعلوم الاسلامیہ ٹنڈوالہ یار‘‘ میں شیخ التفسیر کی حیثیت سے دینی خدمت انجام دے چکے تھے۔ شاید اسی بے مثال قربانی کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان کے قائم کردہ ادارے کو بہت ہی کم عرصے میں اتنی ترقی دی، جس کی مثال بہت کم مل سکتی ہے۔                                           (جاری ہے)
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے