بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 18 جولائی 2019 ء

بینات

 
 

قلیل حرام پر مشتمل غذائی مصنوعات ( دوسری قسط )

قلیل حرام پر مشتمل غذائی مصنوعات

                          (دوسری اور آخری قسط)

قلیل کا معیار جیسا کہ اوپر مذکور ہوا کہ شریعت جس قلیل سے چشم پوشی کرتی ہے، اس قلیل کا تعین ہونا چاہیے۔لیکن جس طرح فقہ کے تمام ابواب میں قلیل کی کوئی ایک مقدار متعین نہیں، اسی طرح خاص غذائی اجناس اور ماکولات ومشروبا ت کے بارے میں بھی قلیل کی کوئی خاص مقدار متعین نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو اشیاء حرام ہیں وہ مختلف اسباب کی بنا پر حرام ہیں اور جب اسباب مختلف ہیں تولا محالہ مقدار بھی مختلف ہوگی۔ وہ اسباب جن کی بنا پر شریعت کسی چیز کو حرام قرار دیتی ہے،علماء شریعت نے استقراء کے بعد قرار دیا ہے کہ پانچ ہیں: ۱:-ضرر، ۲:-سکر، ۳:-خبث، ۴:-کرامت اور ۵:-نجاست۔ ان اسباب میں سے ہر سبب کا دائرہ مختلف ہے، مثلاً: کوئی چیز مضر ہو تو ضروری نہیں کہ وہ نجس بھی ہو اور جو نجس ہو تو لازم نہیں کہ وہ مسکر بھی ہو اورجومکرم ومحترم ہو تو اس کا مضر ومسکر اورخبیث ونجس ہونا لازم نہیں۔ مزید یہ کہ اشیاء مختلف ہیں،کبھی کسی شئے کا ایک جزء پاک تو دوسرا ناپاک ہوتاہے، ایک  خاص مقدار میں خبث ہوتاہے تو اس سے کم مقدار خبث سے خالی ہوتی ہے،ایک ہی شئے ایک شخص کے لیے بوجہ ضررحرام تو دوسرے کے لیے بوجہ عدم ضررحلال ہوتی ہے۔ لہٰذا قلیل کی مقدار کو اسی وقت معلوم کیا جاسکتاہے جب یہ معلوم ہو کہ اس کی حرمت مذکورہ اسبابِ حرمت میں سے کس کی بنا پرہے؟ مضرت اگر حرمت کا سبب مضرت ہو تو اس کی اتنی مقدار کا استعمال جائز ہوگا جو مضرت کا باعث نہ ہو، کیونکہ حرمت کی علت مضرت ہے اور جب مضرت نہ ہو تو پھر حرمت بھی نہیں۔ جب علت کسی شئے کا ضرر رساں ہونا ہو تو اگر کوئی چیز مفرد حیثیت سے مضر نہ ہو، لیکن مجموعہ میں جاکر وہ مضر بن جاتی ہو تو ضرر کی علت کی وجہ سے اس کااستعمال ناجائز ہوگا۔ اس کے برعکس اگر ایک چیز مفرد حیثیت سے نقصان دہ ہو، لیکن خلط و ترکیب اور امتزاج وآمیزش سے اس کا نقصان دور ہوجاتا ہو تو اس کا استعمال جائز ہوگا: ’’أما المعادن فہی أجزاء الأرض وجمیع ما یخرج منہا فلا یحرم أکلہٗ إلا من حیث أنہ یضر بالآکل۔‘‘ (۱) ’’اگر مضر چیز کا نقصان کسی طرح جاتا رہے یامنشی میں نشہ نہ رہے تو ممانعت بھی نہ رہے گی۔‘‘ (۲) اور اسی کتاب کے دوسرے مقام پر ہے: ’’جب مضر اورغیر مضر مل جائیں اور تو اگر ملانے سے نقصان جاتا رہے تو ممانعت بھی جاتی رہے گی۔‘‘ کرامت کرامت سے مراد یہ ہے کہ وہ شئے باعثِ تکریم وتعظیم ہو۔ کائنات میں حق تعالیٰ شانہ نے انسان کو کرامت اور عزت بخشی ہے، اس لیے انسان کا کوئی جزء براہ راست کھانا یا کسی چیز میں ملاناحرام ہے اور جس شئے میں انسانی اعضاء میں سے کسی کی آمیزش ہو تو قلیل وکثیر کی تفریق کیے بغیر اس کا استعمال حرام ہے، چاہے وہ انسانی جزء خود پاک ہو، جیسے: بال ،ناخن اور ہڈی یا خود ناپاک ہو، جیسے: خون اور فضلہ وغیرہ: ’’لو وقع جزء من آدمی میت فی قدر ولو وزن دانق حرم الکل لا لنجاستہٖ فإن الصحیح أن الآدمی لا ینجس بالموت ولکن لان أکلہٗ محرم احترامًا لا استقذارًا۔‘‘  (۳) سکر سکر سے مراد نشہ ہے اور نشہ سے مراد یہ ہے کہ عقل مغلوب اورہذیان غالب ہوجائے اور بہکی بہکی باتیں کرنے لگے۔ اگر نشہ آور شئے جامد ہے تو اس کی اتنی مقدار کا استعمال جائز ہے جس سے نشہ نہ ہو، خواہ یہ مقدار پورے پروڈکٹ میں دو تین فیصد ہو یا اس سے کم زیادہ ہو، کیونکہ علت نشہ ہے اور جب نشہ نہیں تو حرمت بھی نہیں۔ اگر نشہ آور جزء سیال ہے اور چار حرام شرابوں میں سے کوئی ایک نہیں تو اس کے قدر غیر مسکر کا استعمال بھی جامد نشہ آور اشیاء کی طرح جائز ہے، البتہ دونوں میں فرق یہ ہے کہ اشربہ اربعہ کے علاوہ دیگر مسکرات کاخارجی استعمال جائز ہے اور داخلی استعمال صرف اس حد تک جائز ہے کہ نشہ کی حد تک نہ ہو اور استعمال سے کوئی معتد بہ غرض ہو۔ اگر نشہ آور شئے چار حرام شرابوں میں سے کوئی ایک ہے تو اس کا مطلقاً استعمال ناجائز ہے، خواہ اس کی مقدار کم ہو یا زیادہ اور اس سے نشہ ہوتا ہو یانہ ہوتا ہو۔ جس طرح صارف کے لیے ایسی مصنوعات کا استعمال حرام ہے جس میں اشربہ اربعہ میں سے کوئی ایک شراب شامل ہو، ایسے ہی صانع کے لیے بھی اس حرام شراب کا ملانا حرام ہے۔ ’’وأما النبات فلا یحرم منہ إلا ما یزیل العقلَ أو یزیل الحیاۃَ أو الصحۃَ فمزیل العقل: البنج و الخمر وسائر المسکرات۔ ومزیل الحیاۃ: السموم۔ ومزیل الصحۃ: الأدویۃ فی غیر وقتہا۔ وکأن مجموع ہذا یرجع إلی الضرر إلا الخمر و المسکرات ، فإن الذی لا یسکر منہا أیضًا حرام مع قلتہٖ لعینہٖ ولصفتہٖ وہی الشدۃ المطربۃ۔‘‘  (۴) خبث خبث سے مراد یہ ہے کہ ایک سلیم الفطرت انسان اس کو طبعی طور پر ناپسند کرے اور اس کا مزاج اس سے گھن کھائے اور طبیعت نفرت کرے۔ طبیعت کا کسی شئے سے گھن کھانا بعض اوقات مقدار کی کمی بیشی کے بغیر مطلق ہوتاہے، مثلاً: ایک صحیح فطرت انسان کو خبر ملے کہ بھرے مٹکے میں ایک قطرہ پیشاب کا مل گیا ہے تو اس کی طبیعت استعمال پر آمادہ نہ ہوگی ۔ کبھی مقدار کا کم یا زیادہ ہونا خبث کے ہونے یا نہ ہونے میں اثر رکھتا ہے، مثلاً: پورے دیگ میں ایک مکھی کے گرنے سے طبیعت گھن نہیں کھاتی، اس لیے علاوہ مکھی کے دیگ کا استعمال جائز ہوگا، لہٰذا جن اشیاء کی حرمت خبث کی بنا پر ہو اگر وہ شئے خود یا اس سے بنا ہوا کوئی جزء ِ ترکیبی کسی پروڈکٹ میں ملایا گیا ہو، مگر مقدار میں اتنا کم ہو کہ طبیعت کو اس سے گھن نہ آئے تو پروڈکٹ کا استعمال جائز ہوگا۔ مگر اس پر اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فقہاء نے اس سلسلے میں جو مثالیں دی ہیں وہ عام طور وہ ہیں جن سے بچنا مشکل ہے، مثلاً: دیگ میں مکھی گر جائے یا شوربے میں چیونٹی پک جائے یا کسی چیز میں خود ہی کیڑا نکل آئے، بالفاظِ دیگر مچھر یا چیونٹی خود گرکر مرجائے تو محلول یا مطعوم کا کھانا اور بات ہے اور خود کیڑے مار مار کر شامل کرنا دوسری بات ہے۔ آج کل یہی دوسری صورت اختیار کی جاتی ہے، کیونکہ کیڑوں مکوڑوں کی باقاعدہ صنعت قائم ہوگئی ہے، ان کی افزائش کی جاتی ہے اور پھر ان سے رنگ کشید کرکے میک اپ کے سامان، ادویہ اور غذائی مواد میں ڈالا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر کوچنیل کیڑے سے کارمائن اور لیک نامی کیڑے سے شیلاک نکالا جاتاہے اور پھر مختلف مصنوعات میں شامل کیا جاتا ہے تو کیا صرف اس بنا پر کیڑوں مکوڑوں کے استعمال کی اجازت ہوگی کہ مجموعے میں جاکر اس کا خبث معلوم نہیں ہوتا اور استقذار ختم ہوجاتا ہے؟ اگر اس پہلو سے غور کیا جائے تو صانع کے لیے مستخبث اشیاء کو مصنوعات میں ملانا جائز معلوم نہیں ہوتا۔ دوسری طرف اگر کوئی خبث رکھنے والی شئے مثلاً:مکھی وغیرہ دیگ میں گرجائے تو فقہاء اس بنا پر اس کا استعمال جائز قرار دیتے ہیں کہ اتنی مقدار میں استخباث نہیں ہوتا، اس طرح کی تعلیل سے معلوم ہوتاہے کہ جب کوئی شئے استخباث کی حد سے نکل جائے تو اس کا استعمال جائز ہونا چاہیے، مگر حق بات یہ ہے کہ مکھی وغیرہ کے گرنے سے خود مکھی کا نہیں بلکہ سالن کے استعمال کاجائز ہونا مراد ہے، کیونکہ مکھی پاک ضرور ہے، مگر حلال نہیں،اس میں خبث کی علت بھی ہے اور خون بھی ہے اور مکھی کاخون اگر چہ سائل نہیں مگر کھانا اس کا بھی جائز نہیں: ’’وما لم یذبح ذبحًا شرعیًا أو مات فہو حرام ولا یحل  إلا میتتان السمک والجراد وفی معناہما ما یستحیل من الأطعمۃ کدود التفاح والخل والجبن، فإن الاحترازَ منہما غیر ممکن فأما إذا أفردت وأکلت فحکمہا حکم الذباب والخنفساء والعقرب وکل ما لیس لہٗ نفس سائلۃ لا سبب فی تحریمہا إلا الاستقذار ولو لم یکن لکان لا یکرہ فإن وجد شخص لا یستقذرہٗ لم یلتفت إلٰی خصوص طبعہٖ فإنہٗ التحق بالخبائث لعموم الاستقذار فیکرہ أکلہٗ کما لو جمع المخاط وشربہ کرہ، ذٰلک ولیست الکراہۃ لنجاستہا فإن الصحیح أنہا لاتنجس بالموت إذ أمر رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و سلم بأن یمقل الذباب فی الطعام إذا وقع فیہ ، حدیث الأمر بأن یمقل الذباب فی الطعام إذا وقع فیہ ، رواہ البخاری من حدیث أبی ہریرۃؓ ۔‘‘   (۵) بہشتی زیور میں ہے: ’’اسی طرح سرکہ کو مع کیڑوں کے کھانا یا کسی معجون وغیرہ کو جس میں کیڑے پڑگئے ہوںمع کیڑوں کے یامٹھائی کومع چیونٹیوں کے کھانا درست نہیں اور کیڑے نکال کر درست ہے۔‘‘ فتاویٰ مظاہر العلوم میں ہے: ’’مکھی غیر ذی دم مسفوح ہے، لہٰذا جب سالن میں گر جاتی ہے تو اس کے مرنے سے سالن ناپاک نہیں ہوتا، لہٰذا اس سالن کا کھانا شرعاً جائز قرار پایا ،اور چونکہ مکھی منجملہ خبائث کے ہے اور تمام خبائث کا کھانا حرام ہے، لہٰذا مکھی کا کھانا اور کھلانا حرام ہوگا۔‘‘   (۶) نجاست:  پروڈکٹ میں کوئی نجس چیزملانا نہ تو صانع کے لیے جائز ہے اور نہ ہی صارف کے لیے اس کا استعمال جائز ہے، کیونکہ نجس چیز کے ملنے سے مجموعہ نجس ہوتا ہے، اس لیے یہ نہیں کہاجاسکتا کہ حرام مقدار کم اور نہ ہونے کے برابر ہے۔ نجس جزء پر مشتمل پروڈکٹ کا داخلی استعمال منع ہے، البتہ اس حکم سے استثنا ء صرف اس صورت میں مل سکتا ہے جب نجس چیز نہ چاہتے ہوئے بھی کسی شئے میں شامل ہوجائے اور اس سے بچنا بھی مشکل ہو اور خود نجس چیز مقدار میں بہت معمولی ہو، مثلاً: چوہے کی مینگنی گندم میں پس جائے یا دودھ دوہتے وقت ایک دو مینگنیاں دودھ میں گرجائیں اور ٹوٹنے سے پہلے نکال دی جائیں اور دودھ میں اس کا کوئی اثر بھی ظاہر نہ ہو۔  (۷) حاصل بحث حاصل یہ نکلتا ہے کہ اگر کوئی شئے مضرت یا خبث کی وجہ سے حرام ہو، مگر مجموعے میں جاکر اس کا خبث دور ہوجائے اور مضرت نہ رہے تو اس کا استعمال جائز ہوگا۔ اگر کسی چیز میں چار حرام شرابوں میں سے کوئی ایک شامل ہو تو وہ پروڈکٹ نجس ہونے کی بنا پر حرام ہے، اگر چہ شراب کی مقدار نشہ کی حد تک نہ پہنچتی ہو اور اگرنشہ کی حد تک چار حرام شرابوں میں سے کوئی ایک شامل ہے تو سکر کی وجہ سے بھی اس کا استعمال حرام ہے۔ اگرچار شرابوں کے علاوہ کوئی شراب شامل ہو اور پروڈکٹ مسکر نہ ہو تو اس کا استعمال جائز ہے۔ اگر پروڈکٹ میں انسان کاکوئی جزء یا اس سے ماخوذ کوئی جزء شامل ہے یا کوئی نجس شئے شامل ہے تو اس کا داخلی استعمال جائز نہیں۔  حواشی ومراجع نوٹ:اس موضوع پر مزیددیکھیں:’’وہ مصنوعات جن میں قلیل مقدار میں حرام شامل ہو‘‘از مفتی سفیرا لدین ثاقب ۱:…إحیاء علوم الدین ،ج:۲،ص:۹۲        ۲:…بہشتی زیور، حصہ نہم، ص:۹۸ ۳:…إحیاء علوم الدین ،ج:۲،ص:۹۳    ۴:…إحیاء علوم الدین ،ج:۲،ص:۹۲ ۵:…إحیاء علوم الدین ،ج:۲،ص:۹۲-۹۳    ۶:…کتاب الحظر والإباحۃ، باب الأکل والشرب،ج:۱، ص:۲۹۸،ط:مکتبۃ الشیخ ۷:…’’مبحث فی بول الفأرۃ وبعرہا وبول الہرۃ ( قولہٗ: وکذا بول الفأرۃ إلخ ) اعلم أنہ ذکر فی الخانیۃ أن بول الہرۃ والفأرۃ وخرأہا نجس فی أظہر الروایات یفسد الماء والثوب ولو طحن بعر الفأرۃ مع الحنطۃ ولم یظہر أثرہ یعفٰی عنہ للضرورۃ. وفی الخلاصۃ:  إذا بالت الہرۃ فی الإناء أو علٰی الثوب تنجس ، وکذا بول الفأرۃ ، وقال الفقیہ أبو جعفر: ینجس الإناء دون الثوب الخ۔ قال فی الفتح: وہو حسن لعادۃ تخمیر الأوانی ،وبول الفأرۃ فی روایۃ لا بأس بہ ، والمشایخ علی أنہ نجس لخفۃ الضرورۃ بخلاف خرئہا ، فإن فیہ ضرورۃ فی الحنطۃ الخ۔ والحاصل أن ظاہر الروایۃ نجاسۃ الکل . لکن الضرورۃ متحققۃ فی بول الہرۃ فی غیر المائعات کالثیاب ، وکذا فی خرء الفأرۃ فی نحو الحنطۃ دون الثیاب والمائعات۔ وأما بول الفأرۃ فالضرورۃ فیہ غیر متحققۃ إلا علٰی تلک الروایۃ المارۃ التی ذکر الشارح أن علیہا الفتوی ، لکن عبارۃ التتارخانیۃ : بول الفأرۃ وخرؤہا نجس ، وقیل بولہا معفو عنہ وعلیہ الفتوی . وفی الحجۃ الصحیح أنہٗ نجس الخ۔ ولفظ الفتوی وإن کان آکد من لفظ الصحیح إلا أن القول الثانی ہنا تأید بکونہٖ ظاہر الروایۃ، فافہم ۔ لکن تقدم فی فصل البئر أن الأصح أنہٗ لا ینجسہ وقد یقال: إن الضرورۃ فی البئر متحققۃ ، بخلاف الأوانی؛ لأنہا تخمر کما مرّ فتدبر۔‘‘                                                                       (رد المحتار،ج:۲،ص:۴۷۶)

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے