بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

27 ذو الحجة 1447ھ 13 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

دوران سفر سنن ونوافل کا حکم


سوال

کیا مسافر کے لیے قصر نماز کے ساتھ سنت، نوافل اور وتر وغیرہ پڑھنا لازم ہیں؟ مثال کے طور پر اگر عشاء کے وقت مسافر کو قصر نماز پڑھنی ہو تو کیا لازمی ہے سنت وتر نوافل پڑھنا؟

جواب

سفر کے دوران وتر تو بہر صورت پڑھنی ہیں اور فجر کی سنتوں کا بھی اہتمام کرنا چاہیےالبتہ باقی سنتوں اور نوافل کے بارے میں تفصیل یہ ہے کہ اگر کسی جگہ ٹھہرے ہوئے ہوں ،اطمینان کی حالت ہوتو سنن ونوافل پڑھ لینا افضل ہے ضروری نہیں، اور اگر جلدی ہے یا سفر جاری ہے تو چھوڑدینے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 143609200021

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں