بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

خالی دکان دے کر نصف نفع طلب کرنا


سوال

کسی کو اپنی خالی دکان اس شرط پر دینا کہ لینے والا جو کام کرے گا اس کا آدھا نفع دکان کے مالک کو دے ، کیا یہ صحیح ہے؟یااجارہ پر دکان دی جائے؟

جواب

خالی دکان دے کر اس میں کاروبار کرنے والے سے آدھے منافع کا مطالبہ درست نہیں، یہ معاملہ ناجائز ہے، اور اسے ختم کرناواجب ہے۔درست صورت یہ ہے کہ  دکان کو متعین کرایہ پر دے دیا جائے ۔فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 143909201106

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں