بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

ٓذوالقرنین نبی تھے یا ولی؟


سوال

حضرت ذوالقرنین نبی ہیں یا ولی اللہ؟

جواب

واضح رہے کہ قرآن کریم میں ذوالقرنین کے متعلق  صرف اتنا تذکرہ ہے کہ وہ  ایک نیک صالح عادل بادشاہ تھا جس نے مشرق و مغرب کے ممالک فتح کیے اور ان میں عدل و انصاف قائم کیا باقی وہ کون تھا کس زمانہ میں تھا وغیرہ اس کی تفصیل نہ قرآن کریم میں ہے اور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں  بلکہ یہ تفصیلات تاریخی روایات میں ہے   اور مفسرین نے بھی جو کچھ اس کے متعلق لکھا وہ انہی تاریخی روایات کا مجموعہ ہے اسی لیے ان میں مختلف اقوال ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ دنیا میں ذوالقرنین کے نام سےکئی لوگ مشہور ہوئے اور ہر زمانہ کے ذوالقرنین کا لقب سکندر تھا  حضرت عیسی علیہ السلام سے تقریبا تین سو سال پہلے ایک بادشاہ تھا جو سکندر کے نام سے مشہور ہے جس کو سکندر یونانی ، مقدونی بھی کہتے ہیں اور جس کا وزیر ارسطو تھا سکندر کے نام سے دنیا میں مشہور ہونے والا آخری شخص یہی تھا بعض لوگوں نےجیسا کہ حافظ ابن کثیرنے البدایہ و النہایہ  میں ابو حیان نے بحر محیط میں اور علامہ آلوسی نے روح المعانی میں   قرآن مجید میں موجود ذوالقرنین اسی کو قرار دیا اور یہ قول بالکل غلط ہے اس لیے کہ مذکورہ ذوالقرنین مشرک تھا اور قرآن کریم نے جس ذوالقرنین کا ذکر کیا ہےاس کے نبی ہونے میں اگرچہ علماء کا اختلاف ہے مگر مؤمن صالح ہونے پر سب کا اتفاق ہے   اب رہی یہ بات کہ ذوالقرنین نبی ہے یا ولی تو حافظ ابن کثیر کے ہاں ان کا نبی ہونا راجح ہے جب کہ جمہور کا قول یہ ہے کہ وہ نہ نبی تھے نہ فرشتہ بلکہ ایک نیک صالح مسلمان تھے۔ مزید تفصیل کے لیےتفسیر معارف القرآن (مولانا مفتی محمد شفیع صاحب ؒ)جلد نمبر ۵ ملاحظہ کیجیے۔

البدایۃ و النہایۃ میں ہے:

"ذكر الله تعالى ذا القرنين هذا وأثنى عليه بالعدل، وأنه بلغ المشارق والمغارب، وملك الأقاليم وقهر أهلها، وسار فيهم بالمعدلة التامة والسلطان المؤيد المظفر المنصور القاهر المقسط.

والصحيح: أنه كان ملكا من الملوك العادلين وقيل كان نبيا.وقيل رسولا.وأغرب من قال ملكا من الملائكة.وقد حكي هذا عن أمير المؤمنين عمر بن الخطاب: فإنه سمع رجلا يقول لآخر يا ذا القرنين فقال: مه ما كفاكم أن تتسموا بأسماء الأنبياء حتى تسميتم بأسماء الملائكة ذكره السهيلي.وقد روى وكيع عن إسرائيل عن جابر عن مجاهد عن عبد الله بن عمرو قال كان ذو القرنين نبيا.وروى الحافظ ابن عساكر من حديث أبي محمد بن أبي نصر، عن أبي إسحاق بن إبراهيم بن محمد بن أبي ذؤيب، حدثنا محمد بن حماد، أنبأنا عبد الرزاق، عن معمر، عن ابن أبي ذؤيب، عن المقبري  عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:  لا أدري أتبع كان لعينا أم لا ولا أدري الحدود كفارات لأهلها أم لا ولا أدري ذو القرنين كان نبيا أم لا  .وهذا غريب من هذا الوجه، وقال إسحاق بن بشر عن عثمان بن الساج، عن خصيف، عن عكرمة، عن ابن عباس قال: كان ذو القرنين ملكا صالحا رضي الله عمله وأثنى عليه في كتابه وكان منصورا، وكان الخضر وزيره....الخ"

(خبر ذي القرنین جلد ۲ ص: ۱۲۲ ط: دار احیاء التراث العربي)

فقط و اللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144402101289

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں