بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 رجب 1444ھ 28 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

عروہ اور اسوہ نام رکھنا کیسا ہے؟


سوال

میں نے اپنی بیٹیوں کے لیے دونام منتخب کیے ہیں(1)عروہ(2)اسوہ، کیا یہ دونوں صحابہ کرام کے نام ہیں؟اس کا مطلب کیا ہے؟ اور ان ناموں کا رکھنا کیسا ہے؟

جواب

(1) مذکورہ ناموں میں سے عروہ نام کا درست تلفظ  ”عُرْوَه“ ہے ، اس  کے معنی ہیں:  قابلِ اعتماد چیز ، حلقہ، ذریعہ اتحاد، ؛ نیز"عروہ" نام کے کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں جیسے (1)عروۃ بن اثاثہ العدوی(2)عروہ بن اسماء(3)عروہ بن الجعد(4)عروہ بن السعدی(5)عروہ بن عامر(6)عروہ بن عامربن عبید(7)عروہ بن عبدالعزی(8)عروہ بن عیاض(9)عروہ ابو غاضرہ(10)عروہ القشیری(11)عروہ بن مالک الاسلمی(12)عروہ بن مالک بن شداد(13)عروۃ بن المرادی(14)عروہ بن مرہ(15)عروہ بن مسعود(16)عروہ بن مسعودالغفاری(17)عروہ بن مضرص(18)عروہ بن متعب رضی اللہ عنہم اجمعین،صحابہ کے نام رکھنے میں معنی کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی، کسی صحابی کا یہ نام ہونا ہی اس کےنہ صرف جائز ہونے بلکہ باعث  برکت ہونے کے لیے کافی ہے اوراس نام کے  تابعینِ کرام رحمہم اللہ بھی ہيں جیسے عروۃ بن زبیر وغیرہ،لہذا عروہ نام رکھنا درست اورصحابی کی جانب نسبت ہونے کے باعث مستحسن ہے، تاہم چوں کہ یہ مرد صحابہ کرام اور مرد تابعی کانام تھالہٰذا سائل بیٹی کے لیے یہ نام نہ رکھے، بلکہ صحابیات کے ناموں میں سے کوئی نام رکھ لے۔

(2) "اسوہ" کا معنی ہے: نمونہ اور مثال، خواہ اچھی ہو یا بری، لیکن اس کا عمومی استعمال قابلِ تقلید مثال اور نمونے کے لیے ہوتاہے، یعنی ایسا طریقۂ عمل جس کی پیروی کی جائے؛ اس معنٰی کے اعتبار سے لڑکی کا نام ’’اسوہ‘‘رکھنا مناسب نہیں، اچھا نام رکھا جائے۔

تاج العروس میں ہے:

"والإسوة، بالكسر وتضم) : الحال التي يكون الإنسان عليها في اتباع غيره إن حسنًا وإن قبيحًا، وإن سارًّا أو ضارًّا؛ قاله الراغب. وهي مثل (القدوة في كونها مصدرًا بمعنى {الإئتساء، واسمًا بمعنى ما} يؤتسى به، وكذلك القدوة. يقال لي في فلان {أسوة أي قدوة. ۔۔۔۔  يقال: لا} تأتس بمن ليس لك {بأسوة، أي لا تقتد بمن ليس لك به قدوة."

( باب الواو والياء، فصل الهمزة مع الواو والياء، أسو، ج:37، ص:75، ط:دار إحياء التراث)

"الوافي بالوفيات"میں ہے:

"عروة بن حزام أحد متيمي العرب ومن قتله الغرام ومات عشقا في حدود الثلاثين في خلافة عثمان بن عفان رضي الله عنه وهو صاحب عفراء التي كان يهواها وكانت عفراء تربا لعروة بنت عمه يلعبان معا."

(عروة، ج:19، ص:357، ط:دار إحياء التراث - بيروت)

"أسد الغابة في معرفة الصحابة" میں ہے:

"عن عروة بن الجعد البارقي، قال: رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم يمسح خد فرسه، قيل له في ذلك، فقال: " إن جبريل عاتبني في الفرس."

"عروة بن أسماء بن الصلت۔۔۔ذكره محمد بن إسحاق، والواقدي، فيمن استشهد يوم بئر معونة۔۔۔ . "

"عن عروة القشيري، أنه قال: أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت: كان لنا أرباب وربات دعوناها ولم تجب لنا، فجاءنا الله بك فاستنقذنا منها، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: " أفلح من رزق لبا "، ثم دعاني مرتين، وكساني ثوبين."

"عروة بن مرة بن سراقة الأنصاري من الأوس، قتل يوم خيبر."

"عن عروة بن مضرس بن أوس بن حارثة بن لام الطائي، قال: أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم بالمزدلفة، حين خرج إلى الصلاة، فقلت: يا رسول الله، إني جئت من جبلي طيء، أكللت راحلتي وأتعبت نفسي، والله ما تركت من جبل إلا وقفت عليه، فهل لي من حج؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من شهد صلاتنا هذه، ووقف معنا حتى ندفع، وقد وقف بعرفة قبل ذلك ليلا أو نهارا، فقد تم حجه، وقضى تفثه " أخرجه الثلاثة ."

(حرف العين، باب العين والراء، ج:4، ص:31،30،29،25، ط:دار الكتب العلمية)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144403100064

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں