بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو القعدة 1445ھ 24 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

ظہر کی فرض نماز کے فساد کا علم ہوجائے تو کیا بعد والی سنتیں بھی دہرائی جائے گی؟


سوال

لوگوں نے ظہر کی نماز پڑھ لی اور آخر میں دو رکعت سنت بھی پڑھ لی، بعد میں پتہ چلا کہ نماز کسی وجہ سے فاسد ہوگئی تھی، اب آخری دو سنتوں کا کیا حکم ہے؟ اگر اسی وقت میں وہ فرض دوبارہ پڑھنا ہو یا کسی اور وقت میں پڑھنا ہو دونوں صورتوں میں کیا حکم ہے؟

جواب

فرض نماز کے بعد کی سنتیں فرض نماز کے تابع ہیں ، لہذا اگر فرض نماز فاسد ہوجائے  اور وقت کے اندر اندر اگر فرض نماز کا اعادہ کیاجارہا ہوتو فرض  کے بعد کی سنتیں بھی دوبارادا کی جائیں گی، اور وقت ختم ہوجانے کے بعد صرف فرض نماز کا اعادہ ہوگا، سنتوں کا نہیں ،لہذا صورتِ مسئولہ میں   اگر نماز  کا وقت باقی ہو تو  بعد والی دو رکعت سنت بھی دہرائی جائے گی اور  وقت ختم ہونے کے بعد صرف ظہر کے چار فرض کی قضا کی جائے گی۔

مجمع الانہر میں ہے:

"(‌ولو ‌صلى ‌العشاء ‌بلا ‌وضوء) ‌حال ‌كونه (‌ناسيا ثم صلى السنة والوتر به) أي بالوضوء (يعيد السنة لإعادة العشاء) إذ لم يصح أداء السنة قبل الفرض مع أنها أديت بالوضوء لأنها تبع الفرض."

(كتاب الصلاة،باب قضاء الفوائت،ج1،ص145،ط:المطبعة العامرة)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144505100359

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں