بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ذو الحجة 1443ھ 04 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

ظہر وعصر، اور مغرب و عشاء کی نماز ایک وقت میں پڑھنے کا حکم


سوال

کیا ہم ظہر عصر،  مغرب اور عشاء دونوں اکھٹی پڑھ  سکتے ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ فرض نمازوں کو اپنے اوقات میں پڑھنا ضروری ہے  چاہے سفر کی حالت ہو یا حضر ہو، ان میں کسی قسم کی تقدیم و تاخیر جائز نہیں ہے،  قرآنِ مجید میں اللہ پاک نے فرمایاہے:

فَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ  ۚ اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتاً

ترجمہ: "نماز کو قاعدے کے موافق پڑھنے لگو، یقینًا نماز مسلمانوں پر فرض ہے اور وقت کے ساتھ محدود  ہے"۔ 

(سورۃ النساء، رقم الآیۃ:103، ترجمہ:بیان القرآن)

بصورتِ مسئولہ شرعاً ہرنماز  کی ابتدا کا وقت بھی مقرر ہے  اور اس کے ختم ہونے کا بھی وقت مقررہے، چاہے وہ فجر کی نمازہو، یاظہر کی نمازہو، یاعصر کی نمازہو، یامغرب ہو، یاعشاء ہو،یا جمعہ ہو؛ لہذا ان نمازوں کو اپنے اوقات میں پڑھنافرض ہے، البتہ ایامِ حج کے دوران نو (9) ذی الحج کو عرفہ میں زوال کے بعد   ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ پڑھنا اور غروب آفتاب کے بعد  مزدلفہ میں پہنچ کر مغرب اورعشاء کی نماز جمع کرکے پڑھنا ضروری ہے، اس کے علاوہ کسی بھی موقع پر خواہ وہ سفر ہو یا حضر، نماز کو وقت داخل ہونے سے پہلے ادا کرنا یا بغیر عذر کے وقت گزرنے کے بعد ادا کرنا ثابت نہیں ہے۔ اور نہ ہی ایک وقت میں دو نمازیں پڑھنے سے وہ نماز درست ہوگی،  نیز ایسا کرنا گناہ کبیرہ ہے۔

حدیث شریف میں ہے:

"مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلّٰى صَلَاةً بِغَيْرِ (لِغَيْرِ) مِيْقَاتِهَا إِلَّا صَلَاتَيْنِ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ وَصَلَّى الْفَجْرَ قَبْلَ مِيْقَاتِهَا".

(صحیح البخاري، باب من یصلي الفجر بجمع، رقم الحدیث:1682)

ترجمہ: میں نے نبی کریم ﷺ  کونہیں دیکھا کہ آپ نے کوئی نماز اس کے وقت کے علاوہ میں پڑھی ہو، مگر دو نمازیں یعنی مغرب اور عشاء (مزدلفہ میں )آپ نے جمع فرمائیں۔

نیز بعض احادیث میں اس حوالے سے جو دو نمازوں کو جمع کرنے کے بارے میں  منقول ہے، تو اس کا حاصل یہ ہے کہ اگر سفر میں کسی وجہ سے یہ صورت اختیار کرلی جائے کہ ظہر کی نماز کے آخری وقت میں ظہر ادا کرکے عصر کی نماز ابتداءِ وقت میں پڑھ لی جائے، یا مغرب انتہائی وقت میں پڑھ کر عشاء کی نماز ابتدائی وقت میں ادا کرلی جائے؛ تاکہ بار بار سفر روک کر پڑاؤ نہ ڈالنا پڑے تو اس کی اجازت ہے۔

حدیث شریف میں ہے:

"مَنْ جَمَعَ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ فَقَدْ اَتٰى بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْكَبَائِرِ."

(سنن الترمذي، باب ماجاء في الجمع بین الصلاتین في الحضر، رقم الحدیث:۱۸۸، ط:دارالفکر)

ترجمہ: جس آدمی نے بغیر عذر کے دو نمازوں کو (ایک ہی وقت میں )جمع کیا(پڑھا) وہ کبیرہ گناہوں کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر پہنچ چکا۔

فتاوی شامی میں ہے:

'' (ولا جمع بين فرضين في وقت بعذر) سفر ومطر، وما رواه محمول على الجمع فعلاً لا وقتاً (فإن جمع فسد لو قدم) الفرض على وقته (وحرم لو عكس) أي أخره عنه (وإن صح) بطريق القضاء (إلا لحاج بعرفة ومزدلفة).

(قوله: وما رواه) أي من الأحاديث الدالة على التأخير كحديث أنس «أنه صلى الله عليه وسلم كان إذا عجل السير يؤخر الظهر إلى وقت العصر فيجمع بينهما، ويؤخر المغرب حتى يجمع بينها وبين العشاء». وعن ابن مسعود مثله''.

(كتاب الصلاة، ج:1، ص:381، ط:ايج ايم سعيد)

فقط والله أعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

جمع بین الصلاتین کا حکم

 


فتوی نمبر : 144210200077

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں