بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

ضرورت سے زائد کپڑے ،بستر ، برتن میں زکات کاحکم


سوال

کیا گھر کے سامان جیسے کہ برتن کپڑے بستر پر بھی زکاۃ فرض ہے؟ اگر ہے تو کیا مقدار ہے؟

جواب

زکات فرض ہونے کے لیے ضرورت سے زائد سامان یا مال ہونا کافی نہیں ہے، بلکہ ضرورت سے زائد مال یا سامان کے لیے نامی (بڑھنے والا) ہونا ضروری ہے، اور مالِ نامی سے مراد سونا، چاندی، نقدی، مالِ تجارت اور سائمہ (سال کا اکثر حصہ خود چرنے والے) جانور ہیں، مالِ نامی پر بھی مخصوص نصاب پورا ہونے اور سال گزرنے کے بعد زکات واجب ہوتی ہے، لہٰذا اگر کپڑے،بستر ،  یا برتن وغیرہ تجارت کے لیے نہیں ہیں تو  زکات ادا کرنے کے لیے ان کی قیمت نہیں لگائی جائے گی۔

 البتہ اگر کسی شخص (مرد یا عورت) کے پاس ضرورت  اور استعمال سے زائد کپڑے ،بستر ،یا برتن وغیرہ ہوں  اور  اس سامان کی  مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر یا اس سے زائد ہو تو ایسے شخص پر صدقہ فطر اور قربانی لازم ہوتی ہے، اور  یہ شخص زکات وصول نہیں کرسکتا۔

تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے :

" (وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) ... (فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد) ... (و) فارغ (عن حاجته الأصلية) لأن المشغول بها كالمعدوم ... (نام ولو تقديرا) بالقدرة على الاستنماء ولو بنائبه."

(کتاب الزکاۃ ،2/ 259، سعید)

فتاوى ہندیہ میں ہے :

"وهي واجبة على الحر المسلم المالك لمقدار النصاب فاضلاً عن حوائجه الأصلية، كذا في الاختيار شرح المختار، ولايعتبر فيه وصف النماء، ويتعلق بهذا النصاب وجوب الأضحية، ووجوب نفقة الأقارب، هكذا في فتاوى قاضي خان".

 (کتاب الزکاۃ ، الباب الاول ،1/ 191، ط: دار الفکر)

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144505101981

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں