بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

ظہر کا وقت


سوال

ہم ڈرائیور ہیں، ایک کمپنی میں کام کرتےہیں، لیکن روٹی اور نماز کا ٹائم صرف 12بجے سے لے كر 01بجے تک دیا جاتا ہے، کیا ہم نماز 12:30یا12:45پڑھ سکتے ہیں؟ 

جواب

 واضح رہے کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا سنت مؤکدہ ، قریب الی الواجب ہے، بلا عذر مسجد کی جماعت کو ترک کرنا درست نہیں ہے، لہذا صورت مسئولہ میں کمپنی انتظامیہ  سے بات چیت کر کے نماز باجماعت کی اجازت لی جائے، اگر اجازت مل جائے تو فبہا، اور اگر نہ ملے تو پھر کمپنی کی طرف سے جو وقفہ کھانے اور نماز کے لیے دیا جاتا ہے اسی میں نماز بھی ادا کر لی جائے، تاہم  وہ وقت نماز کا ہے یا نہیں یعنی: نماز کا وقت داخل ہوا ہے یا نہیں تو اس کے لیے نماز کے اوقات کامستند کلینڈر  رکھ لیا جائے جس میں دیکھ کر نماز کے وقت کا تعیین کیا جاسکے کہ اب نماز کا وقت داخل ہو چکا ہے۔ 

ہماری ویب سائٹ  کے دار الافتاء  سیکشن میں "اوقاتِ نماز" پر کلک کرکے، مطلوبہ ملک، شہر اور "جامعہ علوم اسلامیہ" کا معیار منتخب کرکے بھی نمازوں کے اوقات کا نقشہ دیکھا جاسکتا ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"والجماعة سنة مؤکدة للرجال قال الزاهدي: أرادوا بالتاكيد الوجوب - في مسجد أو غیرہ - قال ابن عابدین نقلاً عن القنیة: واختلف العلماء في إقامتها في البیت والأصح أنها کإقامتها في المسجد إلا في الأفضلیة."

(باب الامامۃ،مطلب فی احکام المسجد،554/1،ط: ایچ ایم سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ووقت الظهر من الزوال إلى بلوغ الظل مثليه سوى الفيء، كذا في الكافي. وهو الصحيح، هكذا في محيط السرخسي. والزوال ظهور زيادة الظل لكل شخص في جانب المشرق، كذا في الكافي. وطريق معرفة زوال الشمس وفيء الزوال أن تغرز خشبة مستوية في أرض مستوية فما دام الظل في الانتقاص فالشمس في حد الارتفاع، وإذا أخذ الظل في الازدياد علم أن الشمس قد زالت، فاجعل على رأس الظل علامةً، فمن موضع العلامة إلى الخشبة يكون فيء الزوال، فإذا ازداد على ذلك وصارت الزيادة مثلي ظل أصل العود سوى فيء الزوال يخرج وقت الظهر عند أبي حنيفة - رحمه الله -، كذا في فتاوى قاضي خان. وهذا الطريق هو الصحيح، هكذا في الظهيرية. قالوا: الاحتياط أن يصلي الظهر قبل صيرورة الظل مثله، و يصلي العصر حين يصير مثليه؛ ليكون الصلاتان في وقتيهما بيقين".

(الباب الأول في المواقيت وما يتصل بها، الفصل الأول في أوقات الصلاة، ج: 1، صفحه: 51، ط: دارالفکر)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144406101832

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں