بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1445ھ 27 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

ظہر کی فوت شدہ چار رکعت سنت فرض کے متصل بعد پڑھنا


سوال

 ظہر کی چار رکعت سنت اگر رہ جائے ، اور فرض ادا کرنے کے بعد  اگر کسی نے چار رکعت سنت پہلے پڑھ لی اور دو رکعت بعد میں تو کیا اس سے نماز ہو جا ئے گی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں ظہر کی چار رکعت سنت فرض کے بعد کی دو رکعت سے پہلے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، نماز ہو جائے گی، البتہ بہتر یہ ہے کہ پہلے دو رکعت سنت پڑھے پھر چار رکعت پڑھے۔

تنویرالابصار مع الدر المختار میں ہے:

"(بخلاف سنة الظهر) وكذا الجمعة (فإنه) إن خاف فوت ركعة (يتركها) ويقتدي (ثم يأتي بها) على أنها سنة (في وقته) أي الظهر (قبل شفعه) عند محمد وبه يفتى جوهرة".

وفي الرد:

(قوله عند محمد) وعند أبي يوسف بعده، كذا في الجامع الصغير الحسامي وفي المنظومة وشرحها: الخلاف على العكس. وفي غاية البيان: يحتمل أن يكون عن كل من الإمامين روايتان ح عن البحر

"(قوله وبه يفتى) أقول: وعليه المتون، لكن رجح في الفتح تقديم الركعتين. قال في الإمداد: وفي فتاوى العتابي أنه المختار، وفي مبسوط شيخ الإسلام أنه الأصح لحديث عائشة «أنه - عليه الصلاة والسلام - كان إذا فاتته الأربع قبل الظهر يصليهن بعد الركعتين» وهو قول أبي حنيفة، وكذا في جامع قاضي خان اهـ والحديث قال الترمذي حسن غريب فتح".

(‌‌‌‌كتاب الصلاة، باب إدراك الفريضة، 2/ 58، ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144504100179

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں