بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 صفر 1443ھ 24 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

ظہر میں تیسری رکعت پر سلام پھیر کے بعد سجدہ سہو کرلیا تو کیا نماز ہوگئی؟


سوال

اگر امام ظہر کی نماز میں ایک رکعت بھول جاۓ اور تین رکعت پر سلام پھیردے اور سجدہ سہو کرے تو کیا نماز پوری ہوگئی  یا اس کو دوبارہ ادا کرنا ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ نماز کے واجبات میں سے کسی واجب کے سہواً رہ جانے کی تلافی کے طور پر سجدہ سہو واجب ہوتا ہے، نماز کے ارکان میں سے کسی رکن کے رہ جانے کی تلافی سجدہ  سہو سے ممکن نہیں ہوتی، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ امام نے تیسری رکعت پر سلام پھیرنے کے بعد  خلافِ نماز کوئی عمل کیے بغیر اسی  وقت کھڑے ہو کر چوتھی رکعت ملالی تھی اور آخر میں سجدہ سہو  کرلیا تھا تو نماز ہوگئی اعادہ کی ضرورت نہیں، البتہ تیسری رکعت پر سلام پھیرنے کے بعد چوتھی رکعت ملائے بغیر اگر سجدہ سہو کیا ہو تو اس صورت میں نماز ادا نہ ہوئی، اعادہ کرنا لازم ہوگا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وَفِي الْوَلْوَالِجِيَّة: الْأَصْلُ فِي هَذَا أَنَّ الْمَتْرُوكَ ثَلَاثَةُ أَنْوَاعٍ فَرْضٌ وَسُنَّةٌ وَوَاجِبٌ فَفِي الْأَوَّلِ أَمْكَنَهُ التَّدَارُكُ بِالْقَضَاءِ يَقْضِي وَإِلَّا فَسَدَتْ صَلَاتُهُ، وَفِي الثَّانِي لَا تَفْسُدُ؛ لِأَنَّ قِيَامَهَا بِأَرْكَانِهَا وَقَدْ وُجِدَتْ وَلَا يُجْبَرُ بِسَجْدَتَيْ السَّهْوِ وَفِي الثَّالِثِ إنْ تَرَكَ سَاهِيًا يُجْبَرُ بِسَجْدَتَيْ السَّهْوِ وَإِنْ تَرَكَ عَامِدًا لَا، كَذَا التَّتَارْخَانِيَّة.

وَظَاهِرُ كَلَامِ الْجَمِّ الْغَفِيرِ أَنَّهُ لَا يَجِبُ السُّجُودُ فِي الْعَمْدِ وَإِنَّمَا تَجِبُ الْإِعَادَةُ جَبْرًا لِنُقْصَانِهِ، كَذَا فِي الْبَحْرِ الرَّائِقِ.

وَلَا يَجِبُ السُّجُودُ إلَّا بِتَرْكِ وَاجِبٍ أَوْ تَأْخِيرِهِ أَوْ تَأْخِيرِ رُكْنٍ أَوْ تَقْدِيمِهِ أَوْ تَكْرَارِهِ أَوْ تَغْيِيرِ وَاجِبٍ بِأَنْ يَجْهَرَ فِيمَا يُخَافَتُ وَفِي الْحَقِيقَةِ وُجُوبُهُ بِشَيْءٍ وَاحِدٍ وَهُوَ تَرْكُ الْوَاجِبِ، كَذَا فِي الْكَافِي."

(كتاب الصلاة، الْبَابُ الثَّانِي عَشَرَ فِي سُجُودِ السَّهْوِ، ١ / ١٢٦، ط: دار الفكر)

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144203201451

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں