بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

ظہرکی چاررکعت سنت ادا کرنے کے بعد فرض نمازادا کرنے میں تاخیر کرنا


سوال

سنت اور فرض کے درمیان کتنا وقفہ دے سکتےہے،مثال کے طور پر ظہر کی پہلی چار سنت پڑھ لیے پھر کھانا کھایا یا اور کوئی عمل کیا پھر فرض نماز ادا کی اب وہ پہلے چار سنت ٹھیک ہوں گے یا نہیں؟

جواب

واضح رہےکہ سنتوں اور فرض کے درمیان زیادہ  فاصلہ نہ لانا بہترہے،  نماز سے پہلے سنتِ مؤکدہ ادا کرکے نماز کے منافی عمل کیے بغیر فرض ادا کرنا افضل ہے،لہٰذاصورتِ مسئولہ میں ظہرکی چاررکعت سنت مؤکدہ اداکرنےکےبعدکھاناکھانایاکوئی اورایساعمل کرناجونماز کی منافی ہویابلاوجہ بات  چیت کے ذریعے   سنتوں اورفرض کےدرمیان زیادہ وقفہ لانا مناسب نہیں ہے،اس طرح سنت اورفرض نماز كے درميان فاصله لانےسےسنت نماز كا ثواب كم هوجاتاهے،لہٰذاکبھی کبھارسنتوں کواداکرنےکےبعد عذرکی بناءپرفرض نماز میں تاخیرکرنےسےسنت نماز اداہوگئی ہےدوبارہ دہرانے کی بھی ضرورت نہیں ہے،مگرسنتوں اورفرض نماز کےدرمیان مستقل  بلاعذرفاصلہ لانےکی عادت نہ بنائی جائے،لہٰذاسنت اداکرتےہی فرض نمازاداکرنی چائیے۔

اسی طرح جن فرض نمازوں (ظہر، مغرب اور عشاء) کے بعد سننِ مؤکدہ ہیں، ان فرض نمازوں کے بعد مختصر دعا پر اکتفا کر کے سنن و نوافل میں مشغول ہو جانا چاہیے، فرض نماز کے بعد جو دعائیں یا اذکار احادیث میں وارد ہیں وہ اذکار پڑھے جائیں یا مختصر دعا کی جائے تو کوئی حرج نہیں ہے،لمبی دعا مانگنی ہو یا طویل اذکار کرنے ہوں تو سننِ مؤکدہ ادا کرنے کے بعد کریں۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(ولو تكلم بين السنة والفرض لا يسقطها ولكن ينقص ثوابها)وقيل تسقط (وكذا كل عمل ينافي التحريمة على الأصح) قنية....(قوله وقيل تسقط) أي فيعيدها لو قبلية، ولو كانت بعدية فالظاهر أنها تكون تطوعا، وأنه لا يؤمر بها على هذا القول تأمل.....(قوله ولو جيء بطعام إلخ) أفاد أن العمل المنافي إنما ينقص ثوابها أو يسقطها لو كان بلا عذر، أما لو حضر الطعام وخاف ذهاب لذته لو اشتغل بالسنة البعدية فإنه يتناوله ثم يصليها لأن ذلك عذر في ترك الجماعة، ففي تأخير السنة أولى إلا إذا خاف فوتها بخروج الوقت فإنه يصليها ثم يأكل، هذا ما ظهر لي."

(‌‌كتاب الصلاة، ‌‌باب الوتر والنوافل، ج:2، ص:19، ط: سعيد)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"ويكره تأخير السنة إلا بقدر اللهم أنت السلام إلخ. قال الحلواني: لا بأس بالفصل بالأوراد واختاره الكمال. قال الحلبي: إن أريد بالكراهة التنزيهية ارتفع الخلاف قلت: وفي حفظي حمله على القليلة؛ ويستحب أن يستغفر ثلاثا ويقرأ آية الكرسي والمعوذات ويسبح ويحمد ويكبر ثلاثا وثلاثين؛ ويهلل تمام المائة ويدعو ويختم بسبحان ربك."

(‌‌كتاب الصلاة، ‌‌باب صفة الصلاة، فصل في بيان تأليف الصلاة إلى انتهائها، ج:1، ص:530، ط: سعيد)

حاشیۃ الطحطاوی میں ہے:

"وأما ‌سنة ‌الظهر القبلية إذا صليت بعد فإطلاق القضاء عليها مجاز على كل حال لأنها مفعولة في وقتها وإن قيل ان وقتها مخصوص بما قبل الفرض فتكون قضاء بعده."

(‌‌كتاب الصلاة، ‌‌باب قضاء الفوائت، ص:440، ط: دار الكتب العلمية)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144503102550

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں