بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

سال مکمل ہونے سے پہلے زکات ادا کرنا


سوال

میں کاروباری آدمی ہوں اور ہر مہینے50000 ہزار روپے زکوۃ  کی مد میں نکالتا ہوں اور ہر مہینے ادا کرتا ہوں، پھر سال کے بعدزکوۃ ادا نہیں کرتا تو کیا اس طرح کرنے سے زکوۃ ادا ہو جائے گی یا نہیں؟ کچھ حضرات کہتے ہیں کہ اس طرح زکوۃ ادا نہیں ہوتی، بلکہ یہ صدقہ نافلہ شمار کیا جائے گا کیا یہ درست ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  صاحب نصاب بننے کے بعد اور  سال مکمل ہونے سے پہلے جو  زکوۃ ادا کی جائے  ، وہ شرعًا زکوۃ شمار ہوتی ہے، لہذا  صورتِ مسئولہ میں    سال مکمل ہونے سے پہلے جو ماہانہ رقم ادا کی گئی ہے اگر وہ  زکوۃ ہی کی نیت سے  ادا کی گئی ہے تو وہ زکوۃ میں سے شمار ہوگی اور سال  مکمل ہونےکے بعد حساب کرکے جس قدر باقی  ہو وہ ادا کردے۔ اور اگر زیادہ ادا ہو گئی ہو تو  زائد صدقہ شمار ہوگا،  اور اگر   یہ نیت ہو کہ زکوٰۃ کی واجب مقدار سے زائد جتنی رقم ادا ہوگی اسے آئندہ سال کی زکوٰۃ میں شمار کروں گا تو اس کی بھی اجازت ہوگی۔ البتہ  یہ لازم ہے کہ   سائل اپنے تمام  قابل زکوۃ اثاثوں کا  حساب کرکے  زکوۃ ادا کرے،اندازے سے زکوۃ ادا کرنا  درست نہیں ہے، بلکہ مکمل حساب کرنا  اور جتنی رقم  باقی ہو اس کا ادا کرنا  ضروری ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"يجوز تعجيل الزكاة بعد ملك النصاب، ولا يجوز قبله كذا في الخلاصة."

(ج: 1، کتاب الزکوۃ، الباب الثانی فی صدقۃ السوائم، الفصل الاول فی المقدمہ، ص: 176، ط: مکتبہ رشیدیہ)

فقط و اللہ اعلم


فتوی نمبر : 144506101412

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں