بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

زکوۃ کس طرح نکالنی چاہیے؟


سوال

موجودہ دور کے حساب سے زکات کس طرح نکالنی چا ہیے؟

جواب

بصورتِ مسئولہ جب کوئی شخص نصاب کا مالک ہوجائے یعنی جس کی ملکیت میں ساڑھے  سات  تولہ سونا (موجودہ وزن کے اعتبار سےستاسی (87)  گرام،  چارسو اناسی (479) ملی گرام سونا )  ہو  یا ساڑھے باون (52.5)  تولہ چاندی (موجودہ وزن کے اعتبار سے چھ سو بارہ (612)  گرام پینتیس (35)  ملی گرام چاندی) ہو، یامالِ  تجارت، یا نقد کیش، یا کچھ سونا اور چاندی ہے جس کی مجموعی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو ( مثلاً آج بتاریخ 15/4/2021 کو کراچی میں چاندی فی تولہ 1,447 روپے ہے، اور اس  حساب سے ساڑھے باون تولہ چاندی کی مجموعی قیمت 75,968 روپے  بنتی ہے) تو اس صورت میں مجموعی قیمت سے ڈھائی فیصد زکوۃ ادا کرنا ہوگا۔

اور مجموعی مالیت کا ڈھائی فیصد نکالنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ مجموعی مالیت کو چالیس سے تقسیم کردیا جائے، حاصل جواب واجب الادا زکات کی مقدار ہوگی۔ 

فتاوی عالمگیری (الفتاوى الهندية ) میں ہے:

"وَلَوْ فَضَلَ مِنْ النِّصَابَيْنِ أَقَلُّ مِنْ أَرْبَعَةِ مَثَاقِيلَ، وَأَقَلُّ مِنْ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا فَإِنَّهُ تُضَمُّ إحْدَى الزِّيَادَتَيْنِ إلَى الْأُخْرَى حَتَّى يُتِمَّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا أَوْ أَرْبَعَةَ مَثَاقِيلَ ذَهَبًا كَذَا فِي الْمُضْمَرَاتِ. وَلَوْ ضَمَّ أَحَدَ النِّصَابَيْنِ إلَى الْأُخْرَى حَتَّى يُؤَدِّيَ كُلَّهُ مِنْ الذَّهَبِ أَوْ مِنْ الْفِضَّةِ لَا بَأْسَ بِهِ لَكِنْ يَجِبُ أَنْ يَكُونَ التَّقْوِيمُ بِمَا هُوَ أَنْفَعُ لِلْفُقَرَاءِ قَدْرًا وَرَوَاجًا

الزَّكَاةُ وَاجِبَةٌ فِي عُرُوضِ التِّجَارَةِ كَائِنَةً مَا كَانَتْ إذَا بَلَغَتْ قِيمَتُهَا نِصَابًا مِنْ الْوَرِقِ وَالذَّهَبِ كَذَا فِي الْهِدَايَةِ."

(الفصل الاول والثانى فى زكوة الذهب والفضة والعروض، ج:1، ص:179، ط:ايج ايم سعيد) 

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144208201524

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں