بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 ذو الحجة 1445ھ 13 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

زکوۃ کی رقم کو بطور اجرت دینے کاحکم


سوال

میرے شوہر کی تنخواہ اتنی نہیں ہے  اور شوہر پر قرضہ بھی بہت زیادہ ہے،  اور میرے اوپر  زکوٰۃ فرض  ہے، پوچھنا  یہ ہے کہ   بچوں کی مالش والی  کی  اجرت زکوۃ کے پیسوں سے  یا صدقے سے دے سکتے  ہیں؟  اس لیے  کہ ہاتھ بہت تنگ  ہے۔

جواب

صورتِ  مسئولہ میں زکوۃ  یا واجب صدقہ بطورِ  اجرت کے دینا جائز  نہیں ہے،  اگر دے دیا تو اس طرح زکات ادا نہیں ہوگی،  لہٰذا مالش والی  کو زکوۃ   یا صدقہ واجبہ کی رقم الگ سے بطور تعاون  کے دی جاسکتی  ہے،  بطور اجرت  کے نہیں۔  

البحرالرائق میں ہے:

"هي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي،ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه". 

(کتاب الزکوة،216/2،دارالمعرفة )

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144410100563

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں