بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

زکوۃ کی مد میں خریدے گئے طبّی آلات اسپتالوں کو دینے سے زکوۃ ادا ہونے کا حکم


سوال

کیا زکوٰۃ کی رقم سے طبی چیزیں یعنی آکسیجن مشین یا دوسرے آلات خریدے  جا سکتے ہیں، جو بعد میں مریضوں کے کام آسکتے  ہیں؟

جواب

از رُوئے شرع  زکوۃ  کی ادائیگی کے لیے  ضروری  ہے کہ زکوۃ کی رقم یا اس رقم سے خریدی ہوئی  چیز کسی مستحقِ  زکوۃ  (یعنی مسلمان، غیرسیّد، غریب جو صاحبِ نصاب نہ ہو)  کو مالک بناکر دیا جائے، لہذا اگر زکوۃ کی رقم سے طبّی آلات واسباب خرید کر کسی  مستحق کو مالک بناکر دی گئی ہے تو  زکوۃ ادا ہوجائےگی، تاہم اگر  مذکورہ اشیاء کسی معالج ادارے (اسپتال) کو دی گئیں، اور پھر وہ مختلف مریضوں کے  لیے وہ طبّی آلات استعمال کرتے ہیں تو ایسے ادارے کو زکوۃ  کی مد میں خریدی گئی اشیاء دینے سے زکوۃ ادا  نہیں ہوگی۔

فتاوی عالمگیری (الفتاوى الهندية ) میں ہے:

"ولا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه، ولا يجوز أن يكفن بها ميت، ولا يقضى بها دين الميت كذا في التبيين، ولا يشترى بها عبد يعتق،"

(كتاب الزكوة، الباب السابع فى المصارف، ج:1، ص:188، ط:مكتبه رشيديه)

فقط والله أعلم 


فتوی نمبر : 144209201166

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں