بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

زکات سے بچنے کے لیے حیلہ اختیار کرنے کا حکم


سوال

میری بیوی کے پاس تقریبا ساڑھے نو تولہ سونا موجود تھا،  زکات سے بچنے کی خاطر (میرے کچھ دوستوں نے اس کو نیت کی خرابی سے تعبیر کیا) اس نے تین تولہ سونا میری ملکیت میں دے دیا،اس لحاظ سے میں صرف تین تولہ سونے پر زکوة ادا کرتا ہوں ،جب کہ میری بیوی کا کوئی ذریعہ آمدن نہیں ہے اور اس کو خرچے کے لیے مجھے ہی پیسے دینے پڑتے ہیں، اور سال کے آخر میں اس کے پاس کوئی نقدی رقم جمع نہیں ہوتی، اس وجہ سے  کہ اس کی ملکیت میں ساڑھے چھ تولہ سونا  ہے ،جو نصاب پر پورا نہیں ہے،اس لیے وہ  اس پر زکات ادا نہیں کرتی،   نیز واضح رہے کہ جو سونا اس نے میری ملکیت میں دیا ہے اس پر میرا مکمل اختیار ہے اور اس کو مستقبل میں ایک امتحان کی فیس ادا کرنے کے لیے  بیچنے کا ارادہ بھی ہے جو کہ اس کو بخوبی معلوم ہے، لیکن مجھے تین تولے سونے کی ملکیت دیتے وقت نیت زکوة سے بچنے کی تھی، اس لحاظ سے یہ کیا یہ تقسیم صحیح ہے اور میری بیوی کی ملکیت میں ساڑے چھ تولے سونا نصاب سے کم شمار کیا جائے گا؟ براہ کرام رہنمائی فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کے بیان کے مطابق اگر واقعتاً سائل کی بیوی کی ملکیت میں  اب صرف ساڑھے چھ تولہ سونا ہے،اس کے علاوہ کوئی نقدی یا چاندی وغیرہ  نہیں ہے اور نہ ہی ضرورت اصلیہ  سے زائد اتنا سامان ہے کہ جس کی مالیت ،نصاب(ساڑھے باون تولہ چاندی) کے برابر ہو،تو اس کی بیوی پر اس ساڑھے چھ تولہ سونے پر زکات واجب نہیں ہے،نیز جو تین تولہ اس نے سائل کی ملکیت میں دیے تھے،وہ چوں کہ  مستقل ہبہ کی نیت سے دیے تھے، ہبہ کرکے زکات کا وقت گزرنے کے بعد  واپس لینے کی نیت نہیں تھی اور نہ ایسا کیا ،بلکہ  سائل ان زیورات پر  مکمل طور پر قبضہ بھی کرچکا ہے اور اس پر مالکانہ اختیارات بھی رکھتا ہے(جیسا کہ سائل کے بیان سے معلوم بھی ہوتا ہے)تو اس تین تولہ سونے پر سائل کی ملکیت ثابت  ہوچکی ہے،وہ جیسے چاہے اسے استعمال کرسکتا ہے۔تاہم ہبہ کرتے وقت زکات سے بچنے کی نیت کرنا مکروہ ہے؛ اس لیےاس قسم کے حیلے سے اجتناب کرنا چاہیے اور یہ بات ملحوظِ خاطر رہنی چاہیےکہ  زکات ادا کرنے والوں کے بارے میں قرآن و حدیث میں بے شمار فضائل وارد ہوئے ہیں  اور زکات ادا کرنا اللہ رب العزت کی جانب سے جاری کردہ وجوبی حکم ہے، جس کا پورا کرنا ہرصاحب نصاب مسلمان  پر ضروری ہے۔

جہاں تک آپ کے زکات دینے کی بات ہے تو اگر آپ کے پاس پہلے سے نصاب موجود ہے تو زکات کا سال پورا ہونے پر  مذکورہ تین تولہ سونے کی مالیت کو ملاکر مجموعے کی زکات ادا کریں، اور اگر پہلے سے آپ صاحبِ نصاب نہیں تھے، بلکہ تین تولہ سونا آنے کی وجہ سے آپ صاحبِ نصاب بنے ہیں، یعنی تین تولہ سونے کے علاوہ  ضرورت سے زائد کچھ نقدی یا چاندی یا مالِ تجارت ملکیت میں موجود ہے، تو آپ صاحبِ نصاب بن گئے، اب نصاب کا سال پورا ہونے پر بھی اگر صاحبِ نصاب رہے تو زکات کی ادائیگی واجب ہوگی۔

حدیث شریف میں ہے:

"عن أبي أيوب رضي الله عنه: أن رجلا قال للنبي صلى الله عليه وسلم: ‌أخبرني ‌بعمل ‌يدخلني ‌الجنة. قال: ماله ماله. وقال النبي صلى الله عليه وسلم: أرب ماله، تعبد الله ولا تشرك به شيئا، وتقيم الصلاة، وتؤتي الزكاة، وتصل الرحم."

(صحيح البخاري، كتاب الزكاة، باب وجوب الزكاة، ج:2، ص:505، رقم:1332، ط:دار اليمامة۔دمشق)

ترجمہ:

"حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے بارگاہِ نبوی میں عرض کیا: مجھے ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں لے جائے۔ (اس شخص کو آگے بڑھتے اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مخاطب ہوتے دیکھ کر لوگوں نے) کہا: اسے کیا ہوا ہے؟ اسے کیا ہوا؟ اس پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کچھ نہیں ہوا۔ اسے مجھ سے کام ہے۔ اسے کہنے دو۔ (پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص کو مخاطب کر کے فرمایا:) اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو اور رشتہ داروں سے میل جول رکھو اور حسنِ سلوک کرو۔"

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل."

(کتاب الھبة، ج:5، ص:690، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144504101787

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں