بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

زیادہ رقم میں کام کا ٹھیکہ لے کر کم رقم کے عوض کام کروانا


سوال

میں نے ابو ظبی میں مزدورں  کی سپلائی کا کام شروع کیا ہے اور وہ مزدور میں پاکستان سے وہاں دبئی لے گیا، اب اصل مسئلہ  یہ ہے کہ  وہاں  دن کی دیہاڑی مطلب جوتنخواہ ہے وہ  100 روپے ہے، لیکن میں نے چوں کہ سپلائی  کا کام شروع کیا ہے،  اب میں مزدور  جب کسی کو دیتا ہوں تو میں ان سے سو  100 روپے لیتا ہوں اور میں خود اپنے مزدور کو  60 روپے دیتاہوں،  اب ظاہری بات ہے کہ مزدور تو مجبور ہے؛  کیوں کہ ان کو ویزا سب کچھ میں نے کروا کر دیا ہے،  ویزا میں نے فری نہیں بلکہ پیسوں پہ  کیا ہے،  اب میں لیتا  100 ہوں اور مزدور کو  60 روپے دیتا ہوں،  مزدور اگرچہ راضی ہوں یا نارض ، تو کیا یہ  کوئی گناہ یا ظلم کے زمرے میں تو نہیں آتا؟  اصل مطلب یہ ایک کمیشن جیسا مسئلہ ہے۔

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر کام کا ٹھیکہ آپ خود لیتے ہیں کہ مثلًا میں یہ کام کروادوں گا  خواہ خود کروں یا اپنے مزدور لگواکر کام مکمل کراؤں، اور کام کروانے والوں سے اس کی اجرت طے کرلیتے ہیں اور اس کے بعد اپنے مزدوروں سے باہمی رضامندی  سے اس  سے کم قیمت پر کام کرواتے ہیں  تو یہ جائز ہے،  اور درمیان کا نفع لینا بھی آپ کے لیے جائز ہوگا، اس صورت میں یہ مزدور آپ سے اجرت کا مطالبہ کریں گے ، اور ان کا معاملہ آپ کے ساتھ ہوگا۔

اور اگر آپ کام کا ٹھیکہ خود نہیں لیتے، بلکہ  صرف کام کروانے والوں سے مزدور کو  ملاتے  ہیں  اور وہ خود ان سے متعینہ اجرت  کے عوض مزدوری کرواتے ہیں تو اس صورت میں ان مزدوروں کا معاملہ براہِ راست کام کروانے والوں کے ساتھ ہوگا، اور ان کو جو دیہاڑی ملے گی وہ خود اس کے حق دار ہوں گے، اور اس میں سے آپ کو دینے کے پابند نہیں ہوں گے، ہاں آپ کام کروانے والوں  سے  پہلے سے طے کرکے مزدور  تلاش کرکے دینے کی اجرت لے  سکتے ہیں۔

بدائع الصنائع میں ہے:  

’’وللأجير أن يعمل بنفسه وأجرائه إذا لم يشترط عليه في العقد أن يعمل بيده؛ لأن العقد وقع على العمل، والإنسان قد يعمل بنفسه وقد يعمل بغيره؛ ولأن عمل أجرائه يقع له فيصير كأنه عمل بنفسه، إلا إذا شرط عليه عمله بنفسه؛ لأن العقد وقع على عمل من شخص معين، والتعيين مفيد؛ لأن العمال متفاوتون في العمل فيتعين فلا يجوز تسليمها من شخص آخر من غير رضا المستأجر‘‘(4/ 208). 

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144111201252

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں