بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1445ھ 23 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

زندہ چھپکلی پانی میں گر جانے اور زندہ نکالے جانے کا حکم


سوال

پانی کی ٹینکی جسکی مقدار تقریباً 1000 لیٹر ہے اسمیں اگر زندہ چھپکلی گرجائے اور پھر اس کو زندہ نکال لیا جائے تو کیا حکم ہے؟قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب مطلوب ہے۔

جواب

صورت مسئولہ میں گھروں میں رہنے والی  چھپکلی اگر پانی کی ٹینکی میں گری اور زندہ نکال لی گئی تو پانی پاک ہے۔

الدرالمختار  میں ہے:

"(أو مات فيها) أو خارجها وألقي فيها ولو فأرة يابسة على المعتمد إلا الشهيد النظيف والمسلم المغسول، أما الكافر فينجسهامطلقا كسقط (حيوان دموي) غير مائي لما مر (وانتفخ) أو تمعط (أو تفسخ) ولو تفسخه خارجها ثم وقع فيها ذكره الوالي (ينزح كل مائها) الذي كان فيها وقت الوقوع ذكره ابن الكمال (بعد إخراجه) لا إذا تعذر كخشبة أو خرقة متنجسة فبنزح الماء إلى حد لا يملأ نصف الدلو يطهر الكل تبعا؛ ولو نزح بعضه ثم زاد في الغد نزح قدر الباقيفي الصحيح خلاصة، قيد بالموت؛ لأنه لو أخرج حيا وليس بنجس العين ولا به حدث أو خبث لم ينزح شيء إلا أن يدخل فمه الماء فيعتبر بسؤره، فإن نجسا نزح الكل وإلا لا هو الصحيح، نعم يندب عشرة من المشكوك لأجل الطهورية كذا في الخانية، زاد التتارخانية: وعشرين في الفأرة، وأربعين في سنور ودجاجة مخلاة كآدمي محدث."

(کتاب الطہارۃ ،فصل فی البئر ،ج1،صفحہ213،ط:سعید)

محیط برہانی میں ہے:

"إذا وقع في البئر فأرة أو عصفور أو دجاجة أو سنور أو شاة وأخرجت منها حيّة لا ينجس الماء. ولا يجب نزح شيء منه."

(کتاب الطہارات،الفصل الرابع فی المیاہ التی یجوز التوضئ بھا والتی لا یجوز التوضئ بھا،ج1،ص101،ط:دار الکتب العلمیۃ)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وموت ما ليس له نفس سائلة في الماء لا ينجسه كالبق والذباب والزنابير والعقارب ونحوها."

(کتاب الطہارۃ ،الباب الثالث،الفصل الثانی فیما لا یجوزبہ التوضوٗ،ج:1،ص:24،ط:سعید)

 فقط و اللہ اعلم


فتوی نمبر : 144407102356

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں