بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو القعدة 1445ھ 24 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

زندگی میں مال دے کر میراث نہ ملنے کا معاہدہ کرلینے کے بعد اس سے رجوع کا حکم


سوال

ایک شخص نے اپنے ایک بیٹے زید کے دباؤ میں آکر دوسرے بیٹے خالد کو زندگی میں کچھ رقم دی اور اسٹامپ پیپر پر لکھوالیا کہ اس رقم کے بعد تمہیں میری جائیداد میں حق نہیں ہوگا، اور اس تحریر پر کوئی گواہ وغیرہ بھی نہیں لیے، کچھ عرصے بعد حالات معمول پر آئے تو والد نے روتے ہوئے خالد کے قدم پکڑ کر خود کہا کہ اس اسٹامپ کا کوئی اعتبار نہیں ہے، تم میرے وارث ہو، اور میرے بعد وراثت میں حق دار ہوگے، زید نے کہا کہ آپ نے پیپر پر لکھوالیا تھا، والد نے کہا: بیٹا اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے، اس پر گواہ بھی نہیں ہیں، اور وہ میں نے بڑے بیٹے زید کے دباؤ کی وجہ سے کیا تھا، وہ پیپر میں تمہیں خود دے دوں گا تم اسے اپنے ہاتھ سے پھاڑ دینا، یہ کہنے کے چند دن بعد والد کا انتقال ہوگیا۔

اب زید نے خالد کو گھر بار اور تمام جائیداد سے بے دخل کردیا ہے، وراثت کئی کروڑ میں ہے، جب کہ خالد کو چند لاکھ روپے دیے گئے تھے، اور خالد اب بھی اس پر آمادہ ہے کہ جو رقم مجھے دی تھی وہ وراثت میں شامل کرکے مجموعی ترکہ تقسیم کیا جائے، مذکورہ بالا معاملات، یعنی دست برداری کے کاغذ اور والد کے اس سے رجوع کرنے پر کوئی گواہ نہیں ہے، بلکہ یہ والد اور بیٹے خالد کے درمیان کا معاملہ ہے، اور خالد نے جو تفصیل بیان کی ہے وہ اللہ کو حاضر ناظر جان کر کی ہے۔

اب مفتیانِ کرام سے درخواست ہے کہ فتویٰ صادر فرمائیں کہ کیا والد ایک مرتبہ وراثت سے دست برداری کے کاغذ پر دستخط لینے کے بعد، خود ہی اسے کالعدم قرار دے کر بیٹے کو وراثت دینے کا وعدہ کرلے، تو مذکورہ دست برداری معتبر رہے گی؟ نیز جب خالد پہلے دی گئی رقم کو ترکے میں شامل کرکے مجموعی تقسیم پر راضی ہے تو کیا اسے وراثت کا حق ہوگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً مذکورہ دست برداری (تخارج) کا معاملہ والد صاحب نے خود ہی اپنی زندگی میں ختم کردیا تھا، نیز خالد بھی اب صرف وہ حصہ بطورِ میراث لینے اور رکھنے پر راضی نہیں ہے، جو کہ والد نے اسے زندگی میں دیا تھا، تو ایسی صورت میں مذکورہ دست برداری کا معاملہ شرعاً ختم ہوچکا ہے، زید کے لیے تمام وراثت پر خود قبضہ کرلینا اور اپنے بھائی خالد کو اس کا حصہ نہ دینادرست نہیں ہے،زید پر اپنے بھائی خالد کو اس کا مکمل شرعی حصہ ادا کرنا لازم ہے، بصورتِ دیگر آخرت کی سخت پکڑ اور ممکنہ طور پر دنیا کی پکڑ کا بھی اندیشہ ہے۔

باقی  والد صاحب نے اگر پورا معاملہ ہی ختم کردیا تھا، تو خالد کو پہلےدیے ہوئے پیسوں کی حیثیت صرف اور صرف ہبہ (گفٹ) کی ہوگی، جس کی وجہ سے اس کے مالِ میراث میں سے اتنے حصہ کو منہا نہیں کیا جاسکتا، تاہم اگر خالد خود اپنے حصہ میں سے اتنی رقم چھوڑنے پرراضی ہو، تو یہ بھی درست ہے۔ 

حاشية ابن عابدين میں ہے:

"قال القهستاني: واعلم أن ‌الناطفي ذكر عن بعض أشياخه أن المريض إذا عين لواحد من الورثة شيئا كالدار على ‌أن ‌لا ‌يكون له في سائر التركة حق يجوز، وقيل هذا إذا رضي ذلك الوارث به بعد موته فحينئذ يكون تعيين الميت كتعيين باقي الورثة معه كما في الجواهر اهـ. قلت: وحكى القولين في جامع الفصولين فقال: قيل جاز وبه أفتى بعضهم وقيل لا اهـ."

(ص:٦٥٥، ج:٦، کتاب الوصایا، ط: ایج ایم سعید)

لسان الحکام   میں ہے:

"وفي خزانة الأكمل قال أبو العباس ‌الناطفي رأيت بخط بعض مشايخنا رحمهم الله تعالى رجل جعل لأحد بنيه دارا بنصيبه على ‌أن ‌لا ‌يكون له بعد موت الأب ميراث جاز وأفتى به الفقيه أبو جعفر محمد ابن اليماني أحد أصحاب محمد بن شجاع البلخي وحكى ذلك عن أصحاب احمد بن أبي الحارث وأبي عمر والطبري انتهى."

(ص:٣٧٣، الفصل التاسع عشر فی الهبة، ط:البابي، حلبي)

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام میں ہے:

"ومعنى ‌الإقالة، هو رفع وإزالة العقد أي فسخه سواء كان العقد بيعا أو إجارة أو أي عقد من العقود الأخرى اللازمة وذكر ‌الإقالة هنا لا يستدل منه بأنها مختصة بالبيع فهي كما تقع في البيع تقع أيضا في غيره من العقود اللازمة." 

(ص:١٣٠، ج:١،الکتاب الأول البيوع، المادة: ١٦٣، ط: دار الجيل)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما حكم ‌الغصب فله في الأصل حكمان: أحدهما: يرجع إلى الآخرة، والثاني: يرجع إلى الدنيا أما الذي يرجع إلى الآخرة فهو الإثم واستحقاق المؤاخذة إذا فعله عن علم؛ لأنه معصية، وارتكاب المعصية على سبيل التعمد سبب لاستحقاق المؤاخذة، وقد روي عنه عليه الصلاة والسلام أنه قال: من ‌غصب شبرا من أرض طوقه الله تعالى من سبع أرضين يوم القيامة . . . (وأما) الذي يرجع إلى الدنيا، فأنواع: بعضها يرجع إلى حال قيام المغصوب، وبعضها يرجع إلى حال هلاكه، وبعضها يرجع إلى حال نقصانه، وبعضها يرجع إلى حال زيادته (أما) الذي يرجع إلى حال قيامه فهو وجوب رد المغصوب على الغاصب."

(ص:١٤٨، ج:٧،كتاب الغصب، فصل في حكم الغصب، ط: دار الكتب العلمية)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144509100648

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں