بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1444ھ 29 نومبر 2022 ء

دارالافتاء

 

زندگی میں انتقال ہونے والی اولاد کا مرحوم کے ترکہ میں حصے کا حکم


سوال

پہلے آپ کی طرف سے فتوی جاری ہوچکا ہے کہ no share for daughter of deceased daughter اب وہ خاتون بھی فوت ہوچکی ہے مگر اب بھی اس کے ورثاءوراثت کے طلب گار ہیں ،جب کہ آپ کے فتوے کے مطابق وہ خاتون بھی حقدار نہ تھی براہ کرم قرآن اور حدیث کے حوالہ جات ارسال کیجیے تاکہ مدعیان کو مطمئن کیا جاسکے۔

پہلا فتوی بابت" نواسی کا وراثت میں حصہ" یہ تھا۔ فتوی نمبر 144112200247، کتاب: معاملات ،باب: وراثت ، وصیت، فصل :ورثاء اور ان کے حصص ۔سوال یہ تھا ایک شخص کی صرف ایک ہی بیٹی تھی ،1928 میں  اس کا انتقال اپنے والد صاحب کی زندگی میں ہوگیا تھا، اس مرحومہ بیٹی کی صرف ایک ہی بیٹی تھی ۔پھر وہ شخص 1955ء میں فوت ہوا تو اس کے ورثاء میں صرف اس کا ایک بھائی زندہ تھا ، کیا ساری وراثت بھائی کو جاۓ گی یا نواسی یعنی daughter of deceased daughter مرحومہ بیٹی کی بیٹی اپنے نانا کی وراثت میں حصہ دار ہو سکتی ہے؟ اسلامی اور پاکستانی قانون کا حوالہ دیجیے۔

جواب: مذکورہ صورت میں چوں کہ مرحوم کے انتقال کے وقت اس کا ایک بھائی زندہ تھا. لہذا مرحوم کی نواسی کو مرحوم کی جائیداد میں بطورِ میراث حصہ نہیں ملے گا، البتہ میراث کی تقسیم کے وقت مرحوم کا بھائی اپنی مرضی اور خوشی سے اپنے مرحوم بھائی کی نواسی کو کچھ دینا چاہے تو شرعاً یہ پسندیدہ اور باعثِ ثواب ہے، سورہ نساء میں ہے: ﴿ وَاِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُو الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنُ فَارْزُقُوْهُمْ مِّنْهُ وَقُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلاً مَّعْرُوْفاً ﴾ [النساء:8] ترجمہ: اور جب میراث کی تقسیم کے وقت (وہ) قریبی رشتہ دار (جن کا میراث میں شرعی حصہ مقرر نہیں ہو) اور یتیم اور مساکین حاضر ہوں تو انہیں ترکے میں سے کچھ بطورِ رزق دے دو اور ان سے اچھی بات کہو۔

السراجی فی المیراث میں ہے:

"الأقرب فالأقرب یرجحون بقرب الدرجۃ أعني أولاہم بالمیراث جزء المیت أي البنون ثم بنوہم۔"

(السراجي في المیراث ص: 22)

فقط و الله أعلم

جواب

مذکورہ سوال کا جواب وہی ہے جو پہلے دیا جاچکا ہے، کہ جس بیٹی کا انتقال اپنے والدین کی زندگی میں ہوجائے اور والدین کی اس کےعلاوہ کوئی نرینہ اولاد ہو ،یا نرینہ اولاد نہ ہو لیکن مرحومین  کے عصبات  میں سے کوئی موجود ہو تو اس صورت میں مرحومہ بیٹی کا  یا اس کی اولاد کا  مرحومین  کی جائیداد میں کوئی حصہ نہیں ہوتا، کیوں کہ  قریب والےوارث  کی موجودگی میں دور والے وارث کو میراث میں حصہ نہیں ملتا، شریعت کا یہی حکم ہے۔  

جب کہ پاکستانی آئین 1961ء کے دفعہ 4 میں یہ بات ذکر ہےکہ :

"ان یتیم پوتا، پوتی اور نواسہ نواسی کو دادا اور نانا کی میراث میں سے حصہ ملے گا، جن کےوالد یا والدہ اپنے والد  کی زندگی میں فوت ہوگئے ہوں۔"

مذکورہ قانون شرعی اعتبار سے درست نہیں ہے،نيز اس بارے میں جامعہ کے "ماہنامہ بینات "رسالے ميں بعنوان "عائلی قوانین"بابت رجب المرجب ۱۳۸۲ھ بمطابق دسمبر 1962ء میں مفصل بحث کی گئی ہے، اسے دیکھ لیا جائے۔

قرآن مجید میں ہے:

" اٰبَاۗؤُكُمْ وَاَبْنَاۗؤُكُمْ لَا تَدْرُوْنَ اَيُّھُمْ اَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا  ۭ فَرِيْضَةً مِّنَ اللّٰهِ  ۭاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِـيما"(النساء:11)

ترجمہ:"تمہارے اصول و فروع جو ہیں تم پورے طور پر یہ نہیں جان سکتے ہو کہ ان میں کونسا شخص تم کو نفع پہنچانے میں نزدیک تر ہے۔ یہ حکم منجانب اللہ مقرر کردیا گیا بالیقین اللہ تعالیٰ بڑے علم اور حکمت والے ہیں۔"(بیان القرآن)

الموسوعۃ الفقھیۃالکویتیۃ میں ہے:

"(وللإرث ‌شروط ‌ثلاثة) :۔۔۔۔۔۔۔ ثانيها: تحقق حياة الوارث بعد موت المورث."

(شروط المیراث، ج:3،ص:22،ط:دار السلاسل)

''صحیح بخاری'' میں ہے:

''وقال زيد: ولد الأبناء بمنزلة الولد، إذا لم يكن دونهم ولد ذكرهم كذكرهم، وأنثاهم كأنثاهم، يرثون كما يرثون، ويحجبون كما يحجبون، ولا يرث ولد الابن مع الابن."

(8/ 151،باب میراث ابن الابن، ط: دار طوق النجاہ)

''البحر الرائق  '' میں ہے:

''وأما بيان الوقت الذي يجري فيه الإرث، فنقول: هذا فصل اختلف المشايخ فيه، قال مشايخ العراق: الإرث يثبت في آخر جزء من أجزاء حياة المورث، وقال مشايخ بلخ: الإرث يثبت بعد موت المورث."

 ( کتاب الفرائض،ج:9، ص:346 ، ط:رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144307101499

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں