بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1441ھ- 10 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

زندگی میں جائیداد کی تقسیم


سوال

 عرض ہے کے ہمارے خاندان میں ماں/بیٹیوں /بہنوں کو وراثت میں حق نہیں دیا جاتا ہے۔ میرے والد والدہ زندہ ہیں۔ میرے والد نے اپنی زمینوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے۔  ایک میرا ایک میرے بھائی کا اور ایک والد کا۔ میرا بھائی مجھ سے الگ رہتا ہے والد اور والدہ کبھی میرے گھر کبھی بھائی کے گھر کھاتے پیتے رہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کیا والد کی وفات کے بعد وراثت میں تمام کی ملکیت رکھاجائے گا؟ یا مجھے جو ملکیت ملا ہےوہ میرا ہے اور بھائی کو جو ملا ہے وہ بھائی کا ہے؟

جواب

والد پر لازم ہے کہ اپنی جائیداد کو صرف اپنے بیٹوں میں تقسیم نہ کریں، بلکہ (اگر زندگی میں ہی جائیداد تقسیم کرنی ہے تو) بیٹیوں کو بھی ان کاحق دیں، ورنہ گناہ ہوگا۔ تاہم اگر مذکورہ زمینیں بیٹوں کو قبضہ کے ساتھ دے دی  ہیں او رخود  ان میں تصرف نہیں کرتے تو  اب یہ زمین ان کےبیٹوں کی ہے، مشترکہ نہیں ہے۔ لیکن اس صورت میں بیٹیوں کو نہ دینے کی وجہ سے وہ گناہ گار ہوں گے، لہٰذا آپ اور آپ کے بھائی کو چاہیے کہ والد کو شرعی مسئلے سے آگاہ کریں، اور اپنے والد کو گناہ سے بچانے میں ان کی مدد کریں۔

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ کیجیے:

زندگی میں جائیداد کی تقسیم کا طریقہ


فتوی نمبر : 144109201927

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں