بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1441ھ- 02 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

زندگی میں جائیداد تقسیم کرنا


سوال

بعد عرض یہ ہے کہ، میرے والد محترم سمیت میرے دادا کے چار بیٹے اور 2 بیٹیاں ہیں، میرے دادا محترم نے اپنی حیاتی کے دوران 1992 میں ہی اپنی جائیداد اپنے چاروں بیٹوں اور دو بیٹیوں کے درمیان تقسیم کردیا تھا اور کچھ حصہ اپنے پاس اپنے اخراجات کی غرض سے رکھا تھا۔ جس میں ایک فلیٹ اور کچھ نقد رقم شامل تھی۔ اس وقت بھی چاروں بیٹے اور دونوں بیٹیاں شادی شدہ تھی۔میرے دادا کا انتقال چند سال قبل ہوگیا تھا اور پچھلے مہینے میری دادی کا بھی انتقال ہوگیا ہے۔ب یہ جائیداد اور نقد رقم چاروں بھائیوں اور دونوں بہنوں میں کس طرح تقسیم ہوگی؟ قرآن و سنت کی روشنی میں اور کس کو کتنا حصہ ملے گا؟

جواب

اگر سائل کے دادا مرحوم نے اپنی حیات میں اولاد کے درمیان جائیداد تقسیم کرنے کے بعد اس سے اپنا عمل دخل ختم کر کے اپنی اولاد کو ان کے حصوں پر مکمل قبضہ اور تصرف بھی کرادیا تھا تو وہ اس کے مالک بن گئے تھے، اور اگر صرف حصوں کی تقسیم کی تھی، قبضہ و تصرف دادا ہی کا تھا تو مذکورہ جائیداد سائل کے دادا کی ملکیت ہی میں رہی، ان کی اولاد اس کی مالک نہیں بنی۔یہ جائیداد دیگر غیر تقسیم شدہ جائیداد کے ساتھ مل کر مرحوم کا ترکہ شمار ہوگی جس کی تقسیم کا طریقہ کار یہ ہے کہ دادا مرحوم کے ذمہ اگر کوئی قرض ہو تو اسے ادا کرنے کے بعد، اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی ترکہ سے نافذ کرنے کے بعد ما بقیہ کل ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو 10 حصوں میں تقسیم کرکے 2، 2 حصے مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو اور ایک ایک حصہ مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔یعنی 100 روپے میں سے 20 روپے مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو اور 10 روپے مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143101200639

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں