بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

زنا قرض ہے کی حقیقت اور امام شافعی رحمہ اللہ کی طرف اس کی نسبت


سوال

آج کل ایک بات بیان کی جاتی ہے کہ زنا ایک قرض ہے۔ اس بارے میں بعض حضرات کا یہ موقف ہے کہ ایسا کچھ نہیں ،یعنی آپ کے گناہ کی سزا آپ ہی کو ملے گی ،کسی اور کو نہیں، جبکہ بعض حضرات کی رائےہے  کہ زنا ایک قرض ہے ، اگر کسی کی بہن بیٹی کے ساتھ کرو گے تو اپنی بہن بیٹی کے ساتھ بھی ہو گا۔ نیز اس کے ساتھ ایک قول جو امام شافعی علیہ الرحمۃ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے کہ "الزنا دینٌ" یعنی زنا ایک قرض ہے ۔ از راہِ کرم اصلاح فرمائیں۔

جواب

زنا قرض ہے، بعینہ اس طرح یہ مضمون حدیث میں تو نہیں ہے ،البتہ ايك صحيح روايت ميں وارد ہے کہ :نبی کریم ﷺ سے جب ایک شخص نے زنا کی اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے اسے حکمت کے ساتھ منع فرمایا اور اسے اس کی قباحت کا احساس دلاتے ہوئے اس بات کی طرف متوجہ کیا کہ اگر کسی نے اس کے گھر کی عورتوں  کے ساتھ زنا کیا تو اسے کیسا محسوس ہوگا؟ لہذا جس سے بھی زنا کیا جائے گا، وہ عورت بھی کسی کی بیٹی ، بہن ، ماں ہے، لہذا اس سے اجتناب لازم ہے۔روایت ملاحظہ فرمائیے: 

عن أبي أمامة قال: إن فتى شابا أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله، ائذن لي بالزنا، فأقبل القوم عليه فزجروه وقالوا: مه. مه. فقال: " ادنه، فدنا منه قريبا ". قال: فجلس قال: " أتحبه لأمك؟ " قال: لا. والله جعلني الله فداءك. قال: " ولا الناس يحبونه لأمهاتهم ". قال: " أفتحبه لابنتك؟ " قال: لا. والله يا رسول الله جعلني الله فداءك قال: "ولا الناس يحبونه لبناتهم". قال: "أفتحبه لأختك؟" قال: لا. والله جعلني الله فداءك. قال: "ولا الناس يحبونه لأخواتهم". قال: "أفتحبه لعمتك؟" قال: لا. والله جعلني الله فداءك. قال: "ولا الناس يحبونه لعماتهم". قال: لا. "أفتحبه لخالتك؟" قال: لا. والله جعلني الله فداءك. قال: "ولا الناس يحبونه لخالاتهم". قال: فوضع يده عليه وقال: "اللهم اغفر ذنبه وطهر قلبه، وحصن فرجه" قال فلم يكن بعد ذلك الفتى يلتفت إلى شيء.

(مسند أحمد (36/ 545) برقم (22211 ) ط/مؤسسة الرسالة)

ترجمہ: حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک نوجوان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم مجھے زنا کرنے کی اجازت دے دیجیے،  لوگ اس کی طرف متوجہ ہو کر اسے ڈانٹنے لگے اور اسے پیچھے ہٹانے لگے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے(اسے) فرمایا:  (میرے) قریب آجاؤ، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تم اپنی والدہ کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا اللہ کی قسم! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  لوگ بھی اسے اپنی ماں کے  لیے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا کیا تم اپنی بیٹی کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا اللہ کی قسم! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  لوگ بھی اسے اپنی بیٹی کے  لیے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا کیا تم اپنی بہن کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا اللہ کی قسم! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ بھی اسے اپنی بہن کے لے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا کیا تم اپنی پھوپھی کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا اللہ کی قسم! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں،  نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  لوگ بھی اسے اپنی پھوپھی کے لیے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا کیا تم اپنی خالہ کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟اس نے کہا کہ اللہ کی قسم کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  لوگ بھی اسے اپنی خالہ کے  لیے پسند نہیں کرتے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس کے جسم پر رکھا اور دعا  کی کہ اے اللہ! اس کے گناہ معاف فرما، اس کے دل کو پاک فرما اور اس کی شرم گاہ  کی حفاظت فرما، راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد اس نوجوان نے کبھی کسی کی طرف توجہ بھی نہیں کی۔

اور ایک ضعيف حدیث میں آتا ہےكه:

«عِفُّوا تَعِفَّ نِسَاؤُكُمْ»

ترجمہ:" تم پاک دامن رہو گے تو تمہاری عورتیں بھی پاک دامن رہیں گی"۔ 

تخريج الحديث: 

يه روايت درج ذيل صحابه كرام رضي الله عنهم  سے مروی ہے: 

(۱) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ : 

(۱) أخرجه الخرائطي (المتوفى: 327هـ) في "اعتلال القلوب" (1/59) برقم (107)، ط/ نزار مصطفى الباز، مكة المكرمة-الرياض.

(۲) وٲخرجه ابن عدي (المتوفى: 365هـ) في "الكامل في الضعفاء" (1/ 330) في ترجمة اسحاق بن نجيح، رقم الترجمة (155)، ط/ دار الفكر 1409ه.

(۳) وأخرجه أبو القاسم بن بشران (المتوفى: 430هـ) في"أمالي ابن بشران" (ص: 182) برقم (419)، ط/ دار الوطن، الرياض.

حكم الحديث:

ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: اس میں اسحاق بن نجیح ہیں، جن کا معاملہ ضعفاء میں واضح ہےکہ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو کہ احادیث گھڑتے ہیں۔ 

مناوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس روایت کو ابن جوزی اپنی کتاب موضوعات میں لائے ہیں اور اس پر خاموش بھی ہیں ۔

(۱) قال ابن عدي:  إسحاق بن نجيح بيّن الأمر في الضعفاء وهو مـمّن يضع الحديث. 

(الكامل في الضعفاء (1/ 331) في ترجمة اسحاق بن نجيح، رقم الترجمة (155)، ط/ دار الفكر 1409ه)

(۲)  وقال المناوي: وأورده ابن الجوزي في الموضوعات وسكت عليه. 

(فيض القدير (4/ 318) برقم (5441)، ط/ المكتبة التجارية الكبرى، مصر 1356ه)

(۲) حضرت  عائشہ  رضی اللہ عنہا :

(۱)  ٲخرجه الطبراني (المتوفى: 360هـ) في "المعجم الأوسط" (6/ 241) برقم (6295)، ط/ دار الحرمين، القاهرة. 

(2) وأخرجه أبو الشيخ الأصبهاني (المتوفى: 369هـ) في "الفوائد" (ص: 60) برقم (26)، ط/ دار الصميعي للنشر والتوزيع، الرياض.

حكم الحديث:

ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: طبرانی نے اسے اوسط میں روایت کیا ہے، اس میں خالد بن زید عمری (راوی) ہے جو کہ کذا ب ہے۔

مناوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: چاھیے ہے کہ اس روایت کو حذف کردیا جائےگزشتہ روایت کی طرح ۔

(۱) قال الهيثمى: رواه الطبراني في الأوسط وفيه خالد بن زيد العمري وهو كذاب. 

(مجمع الزوائد (8/ 155) برقم (13063)، و(8/ 257) برقم (13404)، ط/ دار الفكر، بيروت 1412 هـ) 

(۲) وقال المناوي: قال الهيثمي: "فيه يزيد بن خالد العمري وهو كذاب"، فكان ينبغي حذفه كالذي قبله.

(فيض القدير (4/ 318) برقم (5442 )، ط/ المكتبة التجارية الكبرى، مصر 1356ه)

(۳)حضرت علی رضی اللہ عنہ : 

عن علي رضي الله عنه مرفوعًا: "وعفوا تعف نِسَاؤُكُمْ، إِن بني فلَان زنوا فزنت نِسَاؤُهُم". 

(۱) ٲخرجه أبوبكر الشافعي في فوائده المعروفة بـ"الغيلانيات" (1/ 139) برقم (100)، ط/ دار ابن الجوزي- الرياض.

(۲) وٲخرجه ابن عدي (المتوفى: 365هـ) في "الكامل في الضعفاء" (5/ 244) في ترجمة عيسى بن عبد الله بن محمد بن عمر بن علي بن أبي طالب كوفي، رقم الترجمة (1389)، ط/ دار الفكر 1409ه.

(۳) وأخرجه الديلمي (المتوفى: 509هـ) في "الفردوس" (5/ 52) برقم (7434)، ط/ دار الكتب العلمية- بيروت.  وذكر ابن حجر سنده في "الغرائب الملتقطة" حرف لام وألف، (7/ 260 و261) برقم (2793)، ط/ جمعية دار البرّ دبي 1439ه. 

حكم الحديث:

اس میں عیسي بن عبد اللہ علوی ہیں،  سخاوی رحمہ اللہ ، دار قطنی رحمہ اللہ سے ناقل ہیں کہ یہ عیسي وہ ہیں جنہیں مبارک کہا جاتا ہے، اور یہ متروک الحدیث ہیں، ابو نعیم فرماتے ہیں کہ: یہ اپنے آباء سے منکر روایات نقل کرتے ہیں، ان کی احادیث لکھی نہیں جانی چاھئیں،  ابن حبان رحمہ اللہ نے انہیں مجروحین میں ذکر فرمایا ہے، اور کہا ہے کہ یہ اپنے آباء سے  منگھڑت چیزیں روایت کرتے ہیں ، اور انہیں وہم بھی ہوتا ہے اور یہ غلطی بھی کرتے ہیں، لہذا ان سے  استدلال کرنا باطل ہے۔

(۱) فيه عيسى بن عبد الله العلوي، قال السخاوي: قال الدارقطني: عيسى هذا يقال له مبارك، وهو متروك الحديث. وقال أبو نعيم: روى عن آبائه أحاديث مناكير، لا يُكتب حديثه، لا شيء. وقال ابن عدي: حدثنا محمد بن الحسين بن حفص، عن عَبَّاد بن يعقوب، عنه، عن آبائه بأحاديث غير محفوظة. وحدثنا ابن هلال، عن ابن الضُّرَيس عنه بأحاديث مناكير، وله غير ما ذكرتُ مما لا يُتابع عليه. وذكره ابن حبان أيضاً في «المجروحين»: يروي عن أبيه عن آبائه أشياء موضوعة، وقال: يهم ويُخطئ، فبطل الاحتجاج به. 

(الثقات ممن لم يقع في الكتب الستة للسخاوي (7/ 455) رقم الترجمة (8712)، ط/ مركز النعمان للبحوث والدراسات الإسلامية وتحقيق التراث والترجمة صنعاء، اليمن)

(وينظر أيضًا (ذخيرة الحفاظ للمقدسي (3/ 1581 و1582) برقم (3505)، ط/ دار السلف 1416هـ)

(۲) ذكره ابن الجوزي (المتوفى: 597هـ) في الموضوعات.

(الموضوعات لابن الجوزي، باب ذم الزنا،(3/ 106)، ط/ المكتبة السلفية بالمدينة المنورة)

(۴)  حضرت جابربن عبد الله  رضی اللہ عنہ: 

 ٲخرجه ابن عدي (المتوفى: 365هـ) في "الكامل في الضعفاء" (5/ 207) في ترجمة علي بن قتيبة الرفاعي، رقم الترجمة (1360 )، ط/ دار الفكر 1409ه.

حكم الحديث:

ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :   مالک کی ان احادیث کو علی بن قتیبہ سے احمد بن داود کے علاوہ  بھی نقل کیا گیا ہے، یہ احادیث مالک سے باطل ہیں۔ 

ابن جوزی رحمہ اللہ نے بھی اسے اپنی کتاب موضوعات میں ذکر کیا ہے۔

(۱) قال ابن عدي: وقد حدث عن علي بن قتيبة غير أحمد بن داود بهذه الأحاديث عن مالك وهذه الأحاديث باطلة عن مالك.

(الكامل في الضعفاء (5/ 207) في ترجمة علي بن قتيبة الرفاعي، رقم الترجمة (1360 )، ط/ دار الفكر 1409ه)

 (۲) ذكره ابن الجوزي (المتوفى: 597هـ) في الموضوعات.

(الموضوعات لابن الجوزي، باب في الحث على البر، (3/ 85)، وفي باب ذم الزنا، (3/ 106 و107)، ط/ المكتبة السلفية بالمدينة المنورة)

 (۵) حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ:

 ٲخرجه الحاکم (المتوفى: 405هـ) في "المستدرك" كتاب البر والصلة، (4/ 170) برقم (7258)، ط/ دار الكتب العلمية- بيروت. 

حكم الحديث: 

حاکم رحمہ اللہ  فرماتے ہیں: یہ روایت صحیح ہے، ذہبی رحمہ اللہ اسے رد فرماتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے، بلکہ اس میں سوید (راوی) ہے جو کہ ضعیف ہے۔

منذری رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں: یہ سوید(راوی) ابن عبد العزیز ہے اور یہ کمزور ہے۔

(۱) قال الحاكم: صحيح، ورده الذهبى فقال: بل سويد ضعيف.

(المستدرك للحاکم، كتاب البر والصلة، (4/ 170) برقم (7258)، ط/ دار الكتب العلمية- بيروت)

 (۲) قال المنذرى: رواه الحاكم من رواية سويد عن قتادة عن أبى رافع عنه، وقال: صحيح الإسناد، قال المنذرى: بل سويد هذا هو ابن عبد العزيز واه.

(الترغيب والترهيب للمنذري، الترهيب أن يعتذر إلى المرء أخوه فلا يقبل عذره، (3/ 492)،ط/ مكتبة مصطفى البابي الحلبي- مصر)

 ( ۶) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ:

 ٲخرجه الطبراني (المتوفى: 360هـ) في "المعجم الأوسط" (1/ 299) برقم (1002)، ط/ دار الحرمين، القاهرة.

حكم الحديث:

منذری رحمہ اللہ  فرماتے ہیں کہ: اس کی سند حسن ہے۔

ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ  اس کے رجال  صحیح کے رجال ہیں،سوائے طبرانی کے شیخ احمد کے کہ ان کی کوئی نسبت بیان نہیں کی گئی، ظاہر یہی ہے کہ طبرانی کے شیوخ میں یہ مکثرین میں سے ہیں ، جبھی انہوں نے ان کی نسبت بیان نہیں کی ۔ واللہ اعلم 

(۱) قال المنذري: اسناده حسن. 

(الترغیب والترھیب، كتاب البر والصلة، (3/ 218) برقم (3759)، ط/ دار الكتب العلمية- بيروت)

(۲) قال الهيثمي: رواه الطبراني في الأوسط، ورجاله رجال الصحيح غير شيخ الطبراني أحمد غير منسوب، والظاهرأنه من المكثرين من شيوخه فلذلك لم ينسبه، والله أعلم. 

(مجممع الزوائد، باب ما جاء في البر وحق الوالدين، (8/ 138) برقم (13403)، ط/ مكتبة القدسي، القاهرة1414هـ)

اس روایت سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جو شخص پاک  دامن نہیں رہتا، اس کی خواتین بھی  پاک دامن نہیں رہتیں۔

انہی کمزور روایات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بعض حضرات کی نسبت  سے کچھ اشعاربھی  منقول ہوئے ہیں کہ جن میں زنا کو قرض گردانا گیا ہے، جیسے: امام شافعی رحمہ اللہ سے  منسوب اشعار درج ذیل ہیں :

عِفُّوا تعِفَّ نساؤكم في المحرمِ

وتجنَّبُوا ما لا يليقُ بمسلمِ

إنَّ الزِّنا دَينٌ إذا أقرضتًه

كان الوفا مِن أهلِ بيتِك فاعلمِ

يا هاتكًا حُرمَ الرجالِ وقاطعًا

سُبلَ المودةِ عشتَ غيرَ مُكرَّمِ

لو كنتَ حرًّا مِن سُلالةِ ماجدٍ

ما كنتَ هتَّاكًا لحرمةِ مُسلمِ

من يزنِ يُزنَ به ولو بجدارِه

إن كنتَ يا هذا لبيبًا فافهمِ 

(دبوان الإمام الشافعي، قافية الميم، (ص:108)، ط/ دار المعرفة- بيروت)

ان اشعار کو یقینی طور پر  امام شافعی رحمہ اللہ کے اشعار میں شمار کیا جانا قابل غور ہوگا ، کیونکہ امام شافعی رحمہ اللہ سے منسوب مروّجہ دیوان میں موجود بعض اشعار کے بارے میں تبصره كرتے ہوئے شیخ  محمد عوامہ حفظہ اللہ تعالي فرماتے ہیں :

وليسا للإمام الشافعي رحمه الله - كما اشتهر- وإن ذكرا في "ديوانه"، فالشعر المنحول لعلي بن أبي طالب والشافعي رضي الله عنهما أكثر من الصحيح عنهما.

(معالم إرشادية في طريق طالب العلم، (62)، ط/در الكتب بشاور)

ترجمہ:  یہ دونوں شعر امام شافعی رحمہ اللہ کے نہیں ہیں،جیسا کہ مشہور ہے، اگرچہ یہ ان کے دیوان میں بھی ذکر کیے گئے ہیں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ اور امام شافعی رحمہ اللہ سے منسوب من گھڑت شعر ان سے منسوب صحیح اشعار سے زیادہ ہیں ۔ 

ان اشعار میں غالباً   اسی مضمون کا احساس دلاتے ہوئے  زنا سے روکنے کی نصیحت اس انداز سے کی گئی ہے کہ شاعر نے زنا کو قرض قرار دیا ہے؛  تاکہ زنا کی طرف متوجہ ہونے والا اپنی عورتوں کی پاک دامنی کا خیال کرتے ہوئے زنا کا ارادہ ترک کردے۔

زنا کے برے نتائج سے متعلق بزرگوں کا مشاہدہ وتجربہ :

کئی اہل علم سے زنا کے برے نتائج کے ذیل میں یہ مشاہدہ وتجربہ  منقول  ہے کہ  اس کی اولاد سے اسی طرح کیا جاتا ہے جیسا اس نے کیا ہے، اس کی تفصیل ملاحظہ فرمائیے:

 (۱) علامہ ابن حجر ہیثمی رحمہ اللہ  (المتوفى: 974ھ) فرماتے ہیں :

 أن الزنا له ثمرات قبيحة: منها أنه يورد النار والعذاب الشديد، وأنه يورث الفقر وأنه يؤخذ بمثله من ذرية الزاني، ولما قيل لبعض الملوك ذلك أراد تجربته بابنة له وكانت غاية في الجمال أنزلها مع امرأة فقيرة وأمرها أن لا تمنع أحدا أراد التعرض لها بأي شيء شاء، ثم أمرها بكشف وجهها وأنها تطوف بها في الأسواق فامتثلت، فما مرت بها على أحد إلا وأطرق رأسه عنها حياء وخجلا، فلما طافت بها المدينة كلها ولم يمد أحد نظره إليها حتى قربت بها من دار الملك لتريد الدخول بها فأمسكها إنسان وقبلها ثم ذهب عنها، فأدخلتها على الملك فسألها عما وقع فذكرت له القصة فسجد لله شكرا وقال: الحمد لله ما وقع مني في عمري قط إلا قبلة لامرأة وقد قوصصت بها.

ترجمہ:  بیشک زنا کے بہت برے نتائج ہوتے ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ جنہم میں لے جانے کا سبب بنتا ہے، اور فقر کا سبب بنتا ہے، اور اسی طرح  جیسا اس نے کیا ہے اس کی ذریت (اولاد سے ) سے لیا جاتا ہے، (یعنی جیسا کرتا ہے ویسا بھرتا ہے) ، اور جب یہ بات  کسی ایک بادشاہ کے سامنے کی گئی ، تو اس نے اس کے تجربہ کا اردہ  اپنے بیٹی پر کیا، جو کہ نہایت حسین وجمیل تھی، اس بادشاہ نے اسے ایک فقیر عورت کے ساتھ کردیا، اور اسے حکم کیا کہ وہ کسی کو منع نہ کرے جو اس سے کسی بھی قسم کا تعرض کرنا چاہ رہا ہو ، پھر اسے حکم دیا کہ وہ اپنے چہرے کو کھول دے، اور اس طرح بازاروں میں چکر لگائے، پس اس لڑکی نے کہا مانا،وہ اس طرح جس پر بھی گزرتی وہ شرم وحیا کے مارےاپنا سراس سے پھیر لیتا، پھر جب اس نے اس طرح پورے شہر کا چکر لگا لیا  ، اور کسی نے اپنی نظر اٹھا کر اسے نہیں دیکھا،  تو وہ فقیر عورت اسے اسی حال میں بادشاہ کے گھر کے قریب لائی ،تا کہ وہ اسے گھر میں داخل کرسکے ، تو اسی وقت ایک انسان نے اسے روکا اور اس کا بوسہ لیا، پھر وہاں سے چلا گیا، پھر اس فقیرنی نے اس لڑکی کو بادشاہ پر حاضر کردیا،  بادشاہ نے اس سے پیش آمدہ واقعہ کا سوال کیا ، پس اس نے وہ قصہ ذکر کردیا، بادشاہ نے اللہ کے لیے سجدہ شکر اد اکیا، اور کہا: تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لیے ہیں ، نہیں واقع ہوا تھا مجھ سے عمر بھر فقط یہی ایک بوسہ   ایک عورت کا ، بیشک مجھ سے اسی کا قصاص لیا گیا ہے۔

(الزواجر عن اقتراف الكبائر لابن حجر الهيتمي، الكبيرة الثامنة والخمسون بعد الثلاثمـائة الزنا، (2/226) دار الفكر الطبعة الأولى 1407هـ)

(۲) شیخ احمد بن حجازی فشنی رحمہ اللہ  (المتوفي:بعد 978ھ)   نے بھی  مذکورہ نکتہ مع قصہ اسی طرح نقل فرمایا ہے ۔

المجالس السنیة في الكلام على الأربعين النووية لأحمد بن حجازي الفشني، المجلس الرابع عشر في الحديث الرابع عشر، (ص: 37)، ط/المطبعة الميمنية مصطفى البابي الحلبي.

(۳)زين الدين مليباری هندی(المتوفى: 987ھـ )رحمہ اللہ کے ہاں بھی یہ  نکتہ ملتا ہے۔

 (الجواهر في عقوبة أهل الكبائر، الباب الرابع في عقوبة الزنا، (ص: 41 و42)، ط/ دار الكتب العلمية 1402هـ) 

(۴)علامہ آلوسي (المتوفى: 1270ھـ) رحمہ اللہ کے ہاں بھی یہ  تفصیل  موجود ہے۔ 

(روح المعاني، سورة الاسراء، (8/67)، ط/ دار الكتب العلميةبيروت الطبعة: الأولى 1415 هـ)

(۵)شیخ عثمان وہبی  القونوی رحمہ اللہ نے بھی اس  نکتے کو مذکورہ واقعہ کے ساتھ نقل فرمایا ہے۔

(الدر الغالي شرح إرشاد المتحلي من سنن النبي العالي (ص: 46 و47)، ط/المطبعة الميرية الكائنة بمكة 1304هـ)

لیکن ان حضرات   کا مقصد بھی    اسے قاعدہ کلیہ  قرار دینا نہیں ہے کہ جس شخص سے بھی  زنا ہوگیا اس کے گھر کی کسی عورت کو یہ قرض ادا کرنا ہی پڑے گا، بلکہ  غالبًا یہ جملہ ایسے شخص  کے بارے میں  کہا  گیا ہے جو زنا کرتا رہتا ہے  اور باز نہیں آتا تو اسے چاہیے کہ وہ  یہ سوچے  کہ جس طرح وہ دوسرے گھروں کی عزت تار تار کر رہا ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کے گھر کی کوئی عورت اس میں مبتلا ہوجائے، جیساکہ بہت سے بزرگوں کے تجربات میں یہ بات آئی ہے۔  اور  بلاشبہ یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک آدمی (غیر متعدی) گناہ کرے تو اس کے گناہ کی سزا  دوسرے کو نہیں ملے گی، اور اللہ  رب العزت  ظلم نہیں کرتے،  نہ ہی کسی ایک شخص کے گناہوں کی سزا  دوسروں کو دیں گے۔

مذکورہ تفصیل سے واضح  ہوا کہ زنا کا قرض ہونا حدیث میں مذکور نہیں ہے اور  نہ ہی یہ لازم ہے کہ ایک شخص کے گناہ میں مبتلا ہونے کی نحوست سے اس کے گھر کی عورتیں بھی اس میں مبتلا ہوں، البتہ زنا سے ڈرانے کی خاطر تجربہ اور مشاہدہ  کی بنیاد پر اس مضمون کوبطور مشاہدہ وتجربہ  بیان کرنے میں حرج بھی نہیں ہے،  جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مذکورہ ضعیف روایت" تم پاک دامن رہو گے تو تمہاری عورتیں بھی پاک دامن رہیں گی" میں  یہ مشاہدہ نقل ہوا ہے کہ  ’’إِن بني فلَان زنوا فزنت نِسَاؤُهُ‘‘ یعنی فلاں  نے زنا کیا تو اس کی عورتوں نے بھی زنا کیا۔

ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ جب گھر کا بڑا آدمی ایسا کرے گا تو ماحول ایسا بن جائے گا ، پھر سلسلہ جاری ہوگا تو نتیجہ ایسا ہی نکلے گا۔

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144408100159

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں