بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 شعبان 1445ھ 03 مارچ 2024 ء

دارالافتاء

 

ذمہ دار / وکیل غیر مصرف میں زکاۃ ادا کردے


سوال

اگر ذمہ دار حضرات زکوٰۃ کو اس کے  مصرف میں خرچ نہ کرے تو گناہ کس پر ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ  جو ذمہ دار حضرات /رفاہی ادارے / ہسپتال وغیرہ  لوگوں سے زکاۃ کی رقم وصول کرتے ہیں ،شرعا ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ زکاۃ کو صحیح مصرف میں خرچ کریں ،یعنی مسلمان  فقیر کو مالک بناکر رقم یا راشن وغیرہ ادا کریں ،اگر ذمہ دار حضرات زکاۃ کو مصرف میں خرچ نہ کریں تو وہ شرعا گناہگار ہوں گے اور زکاۃ دینے والوں کے مال کے ضامن بھی ہوں گے ۔

نیز زکاۃ ادا کرنے والوں کی بھی شرعا یہ ذمہ داری ہے کہ وہ  یا تو خود کسی  مسلمان فقیر کو زکاۃ دیں یا ایسے اداروں   / ذمہ دار حضرات کو زکاۃ دیں جن کے بارے میں معلوم ہوکہ وہ صحیح مصرف میں زکاۃ خرچ کرتے ہیں ؛اس لیے کہ اپنے مال سے صرف  زکاۃ نکالنے سے زکاۃ ادا نہیں ہوتی جب تک کہ  نکالی گئی زکاۃ کسی مستحق کو مالک بناکر نہ دے،لہذا اگر کسی ادارے کے بارے میں معلوم ہو یا شک ہو  کہ وہ صحیح مصرف میں زکاۃ خرچ نہیں کرتےتو ایسے اداروں میں زکاۃ دینا شرعا درست نہیں ،پھر اگر  جان بوجھ کر ایسے لوگوں کو زکاۃ دیدی اور اس ادارے نے  زکاۃ غلط مصرف میں خرچ کی تو زکاۃ ادا نہیں ہوگی اور ادارے کے ساتھ ساتھ زکاۃ دینے والا بھی گناہگار ہوگا ۔  

قرآن مجید میں ہے:

{إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ...الخ }

[التوبة: 60]

وفي الموسوعة الفقهية الكويتية :

"إذا تعدى الوكيل فيما تحت يده من مال لموكله أو فرط في المحافظة عليه، كان ضامنا لما يتلف منه."

(45/ 87ط:وزارة الأوقاف الشؤن الإسلامية)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144402101933

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں