بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1441ھ- 10 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

ملکیت میں موجود سونے اور نقدی سے زیادہ قرضہ ذمہ میں ہونے کی صورت میں زکوٰۃ کا حکم


سوال

میں نے ابھی گھر خریدا ہے،  جس کی کل مالیت 80لاکھ روپے ہے جس میں 20لاکھ میرے ہیں اور باقی رقم میں نے اپنے والد صاحب سے قرض لی ہے۔ پوچھنا یہ ہے کہ اگر میرے پاس ایک تولہ سونا اور کچھ نقد رقم موجود ہو تو کیا میرے اوپر زکوٰۃ فرض ہے یا میرے ذمہ قرض ادا کرنا ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر آپ نے تجارت کے لیے نہیں بلکہ  رہائش کے لیے  80  لاکھ کا گھر خریدا ہے جس کی وجہ سے آپ پر 60 لاکھ کا قرضہ ہے تو اس صورت میں ایک تولہ سونا اور کچھ نقد رقم ملکیت میں ہونے کی وجہ سے آپ پر زکوٰۃ لازم نہیں ہوگی، اس لیے کہ قرض رقم نکالنے کے بعد آپ کے پاس نصاب کے بقدر رقم نہیں بچے گی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109202926

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں